Home » اسلامیات » فقہ البیوع کی افادیت اور داخل نصاب کرنے کے سلسلے میں ایک گزارش: وصی میاں خان
اسلامیات فقہ قارام مذہبی افکار ونظریات منتخب کالم نقطۂ نظر

فقہ البیوع کی افادیت اور داخل نصاب کرنے کے سلسلے میں ایک گزارش: وصی میاں خان

فقہ البیوع   کو ضرور مدارس میں شامل نصاب کیا جانا چاہیے ، بلکہ ہر فارغ ہو چکے طالب علم کو بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے ، مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ طریقہ تدریس کے ساتھ صرف ہدایہ یا قدوری کا کتاب البیوع پڑھ کر آج کسی کو زمانہ حاضر کے معاشی نظام اس کی مشکلات اور شریعت کی روشنی میں ان کے حلول کی ہوا بھی لگ سکتی ہے ، جیسا کہ ہمارا خود اپنا تجربہ بھی ہے ، اس لئے اس کتاب کو اگر داخل کر دیا جائے تو کافی حد تک بیوع کے مسائل پر دسترس ہو سکتی ہے ، مسئلہ مدارس کے طلبہ کا یہ رہا ہے کہ نصاب میں پڑھی جانے والی علمی اصطلاحات ، مسائل اور ان کی صورتوں کی عملی تطبیق انہیں خارجی حقیقی دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی ، جس کی وجہ سے اصطلاحات کو صرف امتحانات کی حد تک تکلف کے ساتھ رٹ کر ، مغزماری کرکے وہ جیسے تیسے پاسنگ نمبر لے آتے ہیں ، لیکن مدارس سے باہر قدم رکھتے ہی سوائے طہارت ، نماز ، روزہ ، زکاہ کے بنیادی مسائل کے سبھی چیزیں ذہن سے محو ہو جاتی ہے ، اور یہ فطری ہے ، کیونکہ عملی دنیا میں ان کی تطبیقی شکلیں ڈھونڈنے سے بھی انہیں ملتی ، ایسے میں اساتذہ کی ذمے داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہر فن کی مروج جدید اصطلاحات سے خود بھی واقف ہو اور طلبہ کو بھی اس سے روشناس کرائے ، جو کہ بدقسمتی سے ہوتا نہیں ، نتیجہ یہ کہ طالب علم افتاء کی سند لیکر ” مفتی ” تو کہلانے لگتا ہے لیکن اسلام کے معاشی ، سیاسی ، سماجی نظام کی خوبیاں ، اس کی برتری کی وجوہات ، دوسروں سے تقابل  علی وجہ البصیرہ کرنے میں اپنے کو عاجز پاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہندوستان کے مدارس سے پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں مفتی تقی عثمانی کے پائے کا  یا اس سے قریب تر ایک بھی عالم پیدا نہیں ہوا ، نہ ہی کسی علم و فن میں ہمارے یہاں سے کوئی عبقری شخصیت ایسی نکلی جو کچھ تجدیدی کام کر سکے ، حتی کہ تصوف ، فقہ ، تفسیر ، حدیث ، معقولات ، تاریخ ،  تقریر و خطابت ، تصنیف و تالیف ، اردو یا عربی ادب و انشاء میں بھی ( ایک آدھ استثناء شاید عربی ادب میں ہو تو ہو ) کوئی ایسے رجال کار گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی سے نہیں ہوئے جن کی قابلیت کا سکہ عالمی سطح پر مانا جا سکے ، نہ ہی ہمیں ایسا کوئی صاحب نظر رکھتا ہے جس نے اسلام کو فکری محاذ پر پوری قوت کے ساتھ مضبوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش  کی ہو ، جبکہ کسی بھی دور سے زیادہ اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے ۔
اپنے اکابر کی علمی عظمتوں کے اعتراف کے ساتھ یہ چیز ان کے علمی ورثہ پر نظر ڈالنے سے سامنے آتی ہے کہ ان کے دور میں اصطلاحات ، مفاہیم و افکار کے درمیان مدرسہ کی چہار دیواری اور اس کے باہر کی دنیا میں یہ اجنبی پن ،اور بعد نہیں تھا ، حضرت تھانوی علیہ الرحمہ جب فصیح اردو کے ساتھ مثنوی ، گلدستہ ، بوستاں کے اشعار سے دوران تقریر استدلال کرتے ، تو سامعین عموماً محظوظ ہی ہوتے تھے ، حتی کہ وکلاء ، ایڈوکیٹ ، انگریز حکومت کے نمائیندے ، عدالتوں کے جج بھی مولوی کی زبان ، بیان اور علمی اصطلاحات سے نہ صرف واقف ہوتے تھے بلکہ اسی زبان میں دلیل و حجت پیش کرتے تھے ، آج کے کس طالب اور مولوی کی خالص اردو تقریر عوام کے پلے پڑتی ہے ؟
 دارالعلوم کے طلبہ کا مذاکرہ اوکسفورڈ کا پروفیسر سمجھتا ،اور اقلیدس ( میتھ میٹکس ) میں ان کی گہرائی دیکھ کر حیرانی سے ماتھا پیٹ لیتا ،  آج کے کس مطالعہ و تکرار کو انگریز تو چھوڑیے دارالعلوم میں آنے والے عصری تعلیم یافتہ مسلمان ہی اس کی سن گن بھی لے سکتے ہیں ؟
حضرت نانوتوی رحمہ اللہ جب شاہ جہاں پور میں دیانند سرسوتی اور انگریز پادریوں کے سامنے خدا کی وحدانیت ، اسلام کی حقانیت پر جب اس دور کی رائج خالص علمی  معقولی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے لب کشائی فرماتے ، تو کیا ہندو ، کیا مسلمان اور کیا عیسائی سب عش عش کرتے رہ جاتے ،  آج کے مناظرے اور مباحثہ خود آپ ان کا معیار ، ان کی افادیت ہرکھ سکتے ہیں 
حضرت کشمیری رحمہ اللہ جب عدالت میں قادیانیت کی بکھیا ادھیڑتے تو علمی تفوق اور ذہانت کے اتھاہ سمندر کو دیکھ کر  انگریز جج صاحبان انگشت بدنداں رہ جاتے ،  آج تو اپنے پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے  بھی ہندؤں برہمنوں کی ناقص وکالت کے ہم محتاج ہیں ، ہم اپنی ترجمانی خود نہیں کر سکتے  ۔
 مولانا مودودی رحمہ اللہ جب کالج کی تقسیم اسناد کے جلسے میں بھر پور علمی انداز میں انگریزی تعلیم کے نظام کی بکھیا ادھیڑتے  تو کالج کا پاس آؤٹ اپنی ڈگری پر شرمندہ ہوکر یہ سوچتا کہ اس سوسائٹی میں میری کیا جگہ ہوگی جہاں میرے اطوار اور چال چلن ، وزبان کے ہم نواں نہیں ہیں ، وہ ماحول کی اجنبیت سے ڈر کر مولانا مودودی بننا چاہتا اور ان کی افکار کے پیچھے ہو لیتا ۔
آج مدرسہ کے طالب علم کے یہی جذبات ہوتے ہیں ، وہ سوسائٹی کی زبان ، اس کے انداز فکر ، اس کی ہر چیز کے درمیان اپنے کو اجنبی پاتا ہے ( یہاں پر غیر شرعی امور مراد نہیں ہیں ، بلکہ وہ لازمی عناصر جو زمانے کے تغیر سے ہر معاشرے میں لازما گھر کر آتے ہیں ) 
مولانا دریابادی رحمہ اللہ ، مولانا محمد علی جوہر رحمہ اللہ ، مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ ، اور مولانا آزاد رحمہ اللہ جب اردو کے اعلی معیاری اخبارات نکالتے تو ان کو اپنے مضامین کی قدر ، ان کی تاثیر ، ان کی وسیع پیمانے پر رسائی کا غالب گمان نہیں یقین کامل ہوتا تھا ۔  آج کس اردو رسالہ یا اخبار کے ایڈیٹر کو اس کا یقین ہے ؟؟ کوئی بھی رسالہ یا اخبار اٹھا لیجئے اس کا سرکیلیشن صاف صاف بتا دے گا کہ وہ کس قدر غیریت کا شکار ہے ۔
تو مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے ساتھ چل رہے زمانے کے حوادث ، اس کے طبعی و فطری  تغیرات و تقلبات سے قدم تال کرنے میں ناکام ہیں ، نتیجہ سامنے ہیں ، کھیپ در کھیپ علماء اور مفتیوں کی نکل رہی ہے ، پھر یہی اساتذہ بن رہے ہیں ، لیکن حالات میں کوئی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے ، جب تک علوم وفنون کو اس انداز پر پڑھا اور پڑھایا نہ جائے گا کہ جس سے طالب علم نہ صرف اپنے مخاطبین ، اپنے ہم عصروں کی باتوں کو ، ان کے مسائل کو ، ان کی مشکلات کو سمجھ سکے بلکہ اس کو انہیں کی زبان میں ، انہیں کے انداز میں سمجھانے پر بھی قادر ہو تب تک یوہی ڈھرے پر ایک لگے بندھے ضابطے کے ساتھ طلبہ نکلتے رہیں گے ، اپنے اسی خول پر رہ کر اپنی محض خاص زبان ، خاص اصطلاحات ، خاص طرز گفتگو کو ہی معیار علم سمجھ کر دوسروں کو ان سے عدم واقفیت کی بنا پر “جاہل” گردانتے رہیں گے ، جس کی حقیقی دنیا میں کوئی وقعت ، کوئی قدر نہیں ہوگی ۔
زمانے کے ساتھ بدلنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ اسلام کے اس عظیم علمی ورثے کو اس بھٹکتی دنیا تک ، اس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتی انسانیت تک  ، ان ہدایت کی تلاش میں سرگرداں لوگوں تک پہونچا دیں ، جن کو شیطان نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ سینکڑوں راستوں پر بھٹکا دیا ہے ، صراط مستقیم کی طرف دعوت ، اس کی طرف پکڑ کر لانا ، اس کے خطوط و معالم کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے عیاں کرنا تاکہ ہر کچے پکے گھر میں اسلام کی شمع پہونچ جائے ، آخر یہی تو آخر علم دین کا مقصد ہے اور مدارس دینیہ اسی کے لئے تو قائم ہیں ، اور ظاہر ہے کہ یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب طالبان علوم نبوی ان قوتوں سے لیس ہوں جو اس فریضہ تبلیغ کے لئے ضروری ہیں اور ان میں سب سے پہلے اجنبیت کی دیوار کو گرانا ہے جو علمی دینی مواد کو موجودہ دور کی زبان ، اس کی اصطلاحات ، اس کے طرز و اسلوب میں ڈھال کر پیش کئے بغیر دشوار ہے ، اور اس کے لئے طریقہ تدریس سے لیکر نصاب تعلیم میں بھی کسی قدر تبدیلی کی ضرورت ہے ۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...