Home » اسلامیات » ہولی میں  مسلمانوں کی شرکت: قومی یکجہتی یا کچھ اور؟ – محمد اللہ قیصر
اخلاق اسلامیات

ہولی میں  مسلمانوں کی شرکت: قومی یکجہتی یا کچھ اور؟ – محمد اللہ قیصر

 سی اے اے کے خلاف جامعہ سے اٹھنے والی آواز جب شاہین باغ کے راستے ہندستان کے کونے کونے میں پھیلنے لگی، تو اس وقت ایک خوش کن احساس، ہر مایوس چہرے پر مسکان لے کر آیا، ایک امید کی کرن نظر آئی کہ جو قوم ڈری ،سہمی، اور منتشر نظر آرہی تھی اس میں متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی صلاحیت الحمدللہ اب بھی موجود ہے،  پے درپے رونما ہونے والے “ماب لینچنگ” کے واقعات کے بعد جن لوگوں پر خوف کا بسیرا تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے دہشت و ناامیدی نے ان کی زندگی ختم کردی ہے ان کا جسم بس ایک چلتا پھرتا ڈھانچہ بن کر رہ گیا ہے، اس تحریک سے لگا کہ نہیں، 
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ابھی زندگی کی رمق پورے آب و تاب کے ساتھ باقی ہے، اس قوم میں اپنے دین و ایمان کے حفاظت کی خاطر، سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے، بس ذرا سی حرکت کی ضرورت ہے، وقت گذرتا گیا، تحریک زور پکڑتی گئی، اس بیچ ان مظاہروں میں کچھ ایسی سرگرمیاں بھی نظر آئیں جو یقینا دین و ایمان کے منافی تھیں، ایسا لگا کہ شاید غلط فہمی یا کم علمی کی وجہ سے بعض جگہوں پر ایسی حرکتیں ہوگئی ہیں، لیکن جب یہ دیکھا گیا کہ اپنے سیکولر ہونے کا احساس دلانے کیلئے اس طرح کے ڈرامے مسلسل رونما ہونے لگے تو لگا کہ “بغیر قیادت کے اٹھنے والی اس تحریک سے جو امید کی کرن نظر آئی تھی وہ نظر کا دھوکا تھا”، بغیر “راعی” کے “گلہ” کی طرح ہر کوئی اپنی رخ کی سمت میں بھاگا جا رہاہے،  اس پوری تحریک میں آپ کو نظر آئے گا کہ مخالف قوتیں ایک بار پھر اپنے مقصد میں کلی طور پر نہیں تو جزوی طور ہی سہی کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں، “وندے ماترم” “جے شری رام” کے نعرے عام ہیں، “بھجن کیرتن” اور ویلیںٹائن ڈے، سے لیکر “ہولی کے جشن” تک کی داستان بہت کچھ بیان کرتی ہے، مذہبی تشخص کی جنگ میں ہم دفاعی پوزیشن میں آ گئے ہیں، اور “گولوالکر” نے اس قوم کو ہندو مت میں ضم کرنے کی جس “اسٹریٹیجی” اور “حکمت عملی” کی بات کی تھی وہ پوری قوت سے اپنا رنگ دکھاتی نظر آرہی ہے، ہم غیر محسوس طریقے سے ان کے دام میں پھنستے جلے جارہے ہیں، اور دین کے لئے “زہر” کی حیثیت رکھنے والی سرگرمیوں کو “امرت” ثابت کرنے کے جو دلائل غیر دے رہے تھے وہ اب سیاسی گلیاروں میں قسمت آزمائی کا شوق رکھنے والے مسلم نوجوانوں اور “پر امن باقاء باہم”کے جذبہ سے سرشار طلبہ کی طرف سے پیش کی جارہی ہے، پچاس سال پہلے جو سوال ان کا تھا ، “رام” کی “جے کار” سے دین پر کیا اثر پڑے گا؟ ” وندے ماترم ” گانے سے ایمان کیسے ڈول جائے گا؟ “ہولی” کے “گلال” کے چند قطرات سے قرآن وحدیث کی خلاف ورزی کیسے ہوگی؟ ” دیوالی” کے “دئے” “توحید”کے خرمن کو کیوں کر خاکستر کردیں گے؟  اب بات یہاں تک پہونچ چکی ہے کہ پچاس سال بعد ہمارے ایمان پر بری نظر رکھنے والوں کو یہ سوالات  اٹھانے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی، کیوں کہ ہمارے نوجوانوں نے “باہمی ہم آہنگی” اور ” بقاء باہم” کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے یہ ذمہ داری خود اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے؟ اب جواب غیروں کو نہیں اپنوں کو دینا ہے، کاش ہم نے ان کو پہلے ہی سمجھایا ہوتا، اور ان کی دینی تربیت کی ہوتی، غیروں کے ساتھ تعامل کیلئے شرعی حدود و قیود سے ان کو واقف کیا ہوتا۔
قصہ یوں ہے کہ حالیہ تحریک کے شروع ہوتے ہی، ہمارے مخالفین نے چیخنا شروع کردیا کہ اس تحریک میں صرف مسلمان ہیں، ہم بجائے اس کے کہ ان سے یہ سوال پوری قوت سے بار بار کرتے کہ اگر فرض کرلیں کہ اس تحریک کو برپا کرنے سے لیکر اس کے انتظام و انصرام تک میں، سامنے اور اس کے پیچھے ،صرف مسلمان ہیں تو کیا انہیں اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے کسی تحریک کی اجازت نہیں ہے؟ آپ ان کے مطالبات نہیں سنیں گے؟ ہم ان کے ان کے بے سروپا الزام کو غلط ثابت کرنے میں جٹ گئے اور اس کیلئے ایک طرف اپنے مظاہروں میں “بھجن کیرتن” “ہون” “شرکیہ نعرے” اور ” مشرکانہ و “غیراسلامی تہوار” کا جشن مناکر یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ دیکھو یہاں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہیں،اور ہم باہم “شیر و شکر” ہیں، دوسری طرف بھر پور کوشش کی گئی کہ ہمارے اسٹیج  پر ایسی کوئی حرکت نہ ہو جس پر دین کی چھاپ پڑی ہو ، کہیں ہمارے برادران وطن برا نہ مان جائیں، ایک اسٹیج پر اللہ اکبر کے نعروں سے روکتے ہوئے میں نے خود دیکھا ،
 سوال ہے کہ ہم اتنا ڈھل مل رویہ کیوں اپناتے ہیں؟
 جواب یہ ہے کہ اپنے مسائل کے حل کیلئے جب ان کے اسباب و عوامل پر غور کرتے ہیں تو ایک بنیادی سبب یہ نظر آتا ہے  کہ برادران وطن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، ایسی صورت میں نفرت ختم کرنے کے طریقے تلاش کرنے لگتے ہیں، ہم غور کرنے بیٹھتے ہیں کہ برادران وطن کی نفرت کو محبت و ہمدردی میں تبدیل کرنے کیلئے ہم کون کون سے اقدامات کرسکتے ہیں، ایک طریقہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ افہام و تفہیم اور ان کی خوشی و غم کے مواقع میں میں شرکت کریں،  اسی میں ایک طریقہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان کے تہواروں میں شرکت کرکے مبارکباد کا تبادلہ کیا جائے، چناچہ “ہولی ملن” “دیوالی ملن” کا انعقاد کرتے ہیں، “قومی یکجہتی” اور “بقاء باہم” کے پرو گرام، کرتے ہیں  جو ہماری اسی  فکر “قومی یکجہتی”  کی پیداوار ہے، پھر ان پروگراموں میں ہم خود کو ان حدود میں نہیں روک پاتے جو شریعت نے قائم کی ہیں، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے برادران وطن ان حدود سے نکلنے کیلئے ہم پر اخلاقی دباؤ ڈالتے ہیں اور ہم ان کے “محبت” کی تپش میں ” موم” بن کر پگھلنے لگتے ہیں یا ان کے ظاہری “اخوت و رواداری”کے “شیر” میں ” شکر” بن کر گھلنے لگتے ہیں،  اور اس قدر گھل جاتے ہیں کہ شرعی حدود کا احساس باقی نہیں رہ پاتا،  یہ یاد نہیں رہ پاتا کہ مخالف عقائد کے متبعین سے میل جول کیلئے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ  سرحدیں کہاں ختم ہوگئیں۔
یہ دراصل ہماری مخالف قوتوں کی حکمت عملی یے، وہ کبھی پیار سے اور کبھی “پھٹکار” سے ” کبھی زبردستی کبھی ” اخلاقی دباؤ” بناکر یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہم “دینی حدود” لانگ کر، “شرعی قیود” توڑکر بلا تردد ان کے مذہبی تہواروں میں شرکت کرنے لگیں، اور اسے سے ان کا مقصد “باہمی سلامتی” “قومی یکجہتی” اور “بقاء باہم” نہیں کچھ اور ہے، کچھ راز ہے اس پردہ ژنگاری میں! یہ مسلمانوں کو “ہندو مت”میں ضم کرنے کی ایک ” منصوبہ بند “اسٹریٹیجی ہے،  ضم کرنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں  کہ مکمل طور سے ہمیں اسلام سے دور کرکے “ہندو” بنا دیں، اس غلط فہمی میں بالکل نہ رہیں، ان کی کوشش صرف اتنی ہے کہ ہم اپنے مذہبی تہواروں کو جوں کا توں کریں بس اس میں برادران وطن کے مشہور “مذہبی تہوار” بھی “ایڈ” کردیں، ہندستان میں جتنے مذاہب ظاہر ہوئے، جیسے “سکھ””بودھ” “جین” یا باہر سے آئے جیسے “ساکا” “ہونا” ان سب کو دیکھئے ابتداء سب کے سب  “برہمنی” عقائد،  اور رسوم و رواج سے دور الگ عقائد مختلف افکار و خیالات ، اور رسوم رواج کے علم بردار تھے،  ان کی اپنی تہذیب ان کا اپنا کلچر تھا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ انہوں نے اپنے طریق میں ہندؤں کے مذہبی رسوم و تہوار کا اضافہ کرلیا ، چناں چہ آج بھی ان مذاہب کے ماننے والے اپنے مذہبی تہوار و رسوم اور مخصوص طریق عبادت کے ساتھ ہندؤں کے تہوار بھی مناتے ہیں، “سکھ ، بودھ، جین” “گرونانک” “گوتم بودھ” کی بھگتی کے ساتھ ہولی و دیوالی کی میں بلا تردد شرکت کرتے ہیں، “ساکا” اور ” ہونا” قبائل تو اپنی پہچان ہی ختم کرکے خود کو مکمل طور پر “ہندو ازم” میں ضم کر چکے ہیں، عیسائیت کو ضم کرنے کیلئے ” ہندستان میں ” کرسمس” کو خوب پرموٹ کیا گیا ، تاکہ وہ بھی “ہولی” دیوالی” میں شریک ہونے لگیں، نتیجۃ اب دھیرے دھیرے عیسائی بھی ہندؤں کے پوجا پاٹ میں شریک ہورہے ہیں، جس سے ہندؤں کو کوئی دقت نہیں، مسلمانوں پر سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ سب نے ہندؤں کے تہواروں کو خوشی خوشی قبول کرلیا یہ کیوں اپنی توحید پر جمے ہیں، “گولوالکر” کا بہت بڑا اعتراض یہی تھا، وہ مسلمانوں کو یہی کہتا تھا کہ آپ ہمارے تہوار اور پوجا پاٹ میں شرکت کیوں نہیں کرسکتے،  ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی مذہبی سرگرمیاں جوں کا توں انجام دیں، بس اس میں ہمارے تہوار کا اضافہ کرلیں، پھر ہمیں کوئی اعتراض نہیں،  “بنچ آف تھاٹ”کے مندرجہ ذیل اقتباس کو پڑھئے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردے گا۔ 
*”کیا ہم ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک نہیں ہو سکتے؟ ہمارا سب سے زیادہ مشہور تہوار جو سماج کے مختلف طبقات کو ایک جٹ کرتا ہے، ہولی ہے، فرض کیجئے کہ اگر کسی مسلمان پر ہولی کے رنگ چھڑک دئے جائیں تو کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ عمل قرآن کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوگا؟ اسے اجتماعی معاملہ کیوں نہیں خیال کیا جاتا، ہندو مسلمانوں کے مختلف تہواروں میں حصہ لیتے آئے ہیں، جیسے اجمیر کے عرس میں، لیکن فرض کیجئے کہ ہم مسلمانوں سے “ستیہ نارائن پوجا” میں شرکت کرنے کو کہیں، تو کیا ہوگا؟ ایک دفعہ “ڈی ایم کے” پارٹی کے لوگ ایک مسلم منسٹر کو “رامیشورم” لے کر آئے، انہوں نے  مندر کی طرف سے پیش کئے گئے تمام قابل فہم اعزازات قبول کئے، لیکن جب انہیں “پرشاد” دیا گیا تو انہوں نے اسے پھینک دیا، ان کیلئے ایسا کرنا کیوں ضروری تھا؟ مان لیجئے کہ وہ پرشاد”لے لیتے تو کیا اس سے ان کے مذہب کی خلاف ورزی ہوتی؟ ہمیں باہمی احترام کا رویہ اپنانا سیکھانا ہوگا”*
ان کے نزدیک باہمی احترام کا مطلب یہی ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی امور میں ہمارے کچھ مذہبی رسوم رواج کا اضافہ کرلیں۔ 
 اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ وہ  ہندستانی لیڈران سے اسلئے ناراض نظر آتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بے جا رعایت دے دی، اسی وجہ سے فکری تبدیلی ان کے اندر نہیں آئی، چناں چہ پہلے مسلمانوں کی فکر میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہئے ،  اور جب وہ باہر سے آنے والی دوسری جماعتوں کی طرح خود کو بدل لیتے بالفاظ دگروہ خود کو “ہندوازم” میں ضم کردیتے، تو پھر کوئی رعایت دی جاسکتی تھی،  بقول اس کے یہ تبدیلی کچھ مشکل نہیں ہے، درست حکمت عملی اور بہتر تدابیر اپناکر مسلمانوں کو بدل سکتے ہیں۔ 
*”جس طرح سے ماضی قریب کے حملہ آوروں جیسے “ساکا” ، سكوتى یا “ہونا” کو ضم کرنے میں کامیابی بھی ملی- اسی طرح قومی معاشرے میں مسلمانوں کے اندماج میں ہندستانی تاریخ کی ناکامی ایک قابل ذکر حقیقت ہے جسے قومی آزادی کے رہنماؤں نے یکسر نظر انداز کردیا، ان سے یہ بڑی بھول ہوئی کہ وہ اکثریت کی قیمت پر مسلمانوں کو رعایت دیکر  ان پر فتحیاب ہو سکتے ہیں، نتیجوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ المناک غلطی تھی،  رعایت پانے والوں میں فکری تبدیلی کے بغیر اس کو دی جانے والی رعایت کوئی مطلوبہ تبدیلی نہیں لاپاتی،  
اندماج ممکن ہے ، اور ضروری ہے، لیکن اس کیلئے صحیح فلسفہ، درست ذہنیت، مناسب حکمت عملی اور تدبیر کی ضرورت ہے، لیکن ہندستانی قائدین نے طریق کار کی کسی ایسی تبدیلی کی ترتیب و تشکیل میں اپنی نا اہلی ثابت کردی، وہ اپنی اس بھاری بھرکم غلطی پر تب تک اڑے رہے جب تک انہوں نے مادروطن کی تراش و خراش  نہ کرلی۔ 
ان کا وہی غلط طریق کار اب تک جاری ہے، اس طرح وہ مزید پاکستان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں*، 
 مسلمانوں کو غیر اسلامی تہواروں میں شرکت کی دعوت یا ان پر اخلاقی دباؤ، مختلف پلیٹ فارم سے اس طرح کے سوالات کا اٹھایا جانا “اتفاقی معاملہ” نہیں بلکہ کہیں پہ “نگاہیں” کہیں پہ “نشانہ” ہے، یہ سب اسی “منصوبہ”، “مناسب حکمت عملی” “اسٹریٹیجی” اور “تدبیر” کا حصہ ہے جن کا تذکرہ گولوالکر نے “مسلمانوں کی “فکری تبدیلی” کے ضمن میں کیا ہے، 
  اس تحریر کو بار بار پڑھئے، اندازہ ہوجائے گا کہ مسلمانوں سے اصل جھگڑا یہ نہیں کہ وہ سیاست میں شراکت کا دعویٰ رکھتے ہیں، مکمل حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، یا وطن سے محبت نہیں کرتے ، اس بات کو اپنے ذہن سے کھرچ کے نکال دیجئے، اور بہت اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ اصل مسئلہ
آپ پانچ و قت کی نماز پڑھیں،  رمضان کے روزے رکھیں، حج کو بھی جائیں، زکوۃ بھی دیں رمضان کے روزے رکھیں، عید کی سویاں کھائیں، انہیں کوئی دقت نہیں، کوئی پریشانی نہیں، بس مطالبہ یہ ہے کہ آپ اپنے تمام ، رسوم و رواج، مذہبی تہوار، اور طریق عبادات میں ہمارے چند مشہور تہواروں بھی کو شامل کرلیں، 
یہ مطالبہ بظاہر بہت چھوٹا ہے لیکن ہمارے لئے انتہائی خطرناک ہے، اس کی خطرناکی کو سمجھنے کیلئے ان حدود و قیود کو سمجھنا ضروری ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیروں کے ساتھ تعامل کیلئے ہمارے لئے متعین کی ہیں، دینی تعلیمات سے ذراسی واقفیت سے پتہ چلے گا کہ ان کے مذہبی تہواروں میں عملی شرکت ہمیں “توحید” جیسی عظیم نعمت سے دور کرنے کیلئے کافی ہیں،  اب ایک اہم سوال رہ جاتا ہے کہ غیر مسلموں کیلئے  ہمارے دروازے کہاں تک کھلے ہیں، اگر ہم غیر مسلموں کے مذہبی اور اسلامی تعلیمات سے متصادم کلچرل پروگراموں میں شرکت نہیں کر سکتے تو  پھر یہ نفرت کیسے ختم ہوگی؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے، اور اسلام نے دوسروں کے ساتھ کہاں تک گھلنے ،ملنے اور معاملات کی چھوٹ دی ہے، اس سلسلے میں کچھ بنیادی اصول یاد رہے تو بات زیادہ واضح ہوگی، اور ایک مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ کس حد تک میل جول، کرسکتا ہے؟ اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے ساتھ کہاں تک گھل مل سکتا ہے، ان کے ساتھ کہاں تک معاملات کر سکتا ہے، یا اپنے بنیادی اصول سے کس حد تک سمجھوتہ کرنے کی گنجائش ہے؟ تو اس کے حدود اربعہ کا کچھ جائزہ لیتے ہیں
 *بنیادی طور پر اسلامی تعلیمات کی پانچ قسمیں ہیں، عقائد،عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات۔*
اخیر کے تین امور معاملات، اخلاقیات،اور معاشرت میں کچھ قیود کے ساتھ مکمل گنجائش ہے کہ کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات میں کوئی مضائقہ نہیں، ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہئے، معاشرت میں بھی کچھ شرائط کے ساتھ مکمل اجازت ہے، البتہ  
عقائد اور عبادات میں کسی طرح کے سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں ہر ایک کے تفصیلی دلائل کی گنجائش نہیں اسلئے قرآن و حدیث میں وارد احکام و ارشادات کی طرف مختصرا اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جس سے مسئلہ واضح ہوجائے، 
*عن عائشة أم المؤمنين (رضی اللہ عنہا) تُوُفِّيَ رَسولُ اللَّهِ ﷺودِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، بثَلاثِينَ صاعًا مِن شَعِيرٍ (بخاري 2916*
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کا درعہ مبارک ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جو کے عوض رہن پر تھا.
اس کے علاؤہ اور بھی احادیث ہیں جن سے واضح طور پر
پتہ چلتا ہے کہ کفار کے ساتھ خرید و فروخت اور دوسرے طرح کے لین دین جائز ہیں، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و مشرکین سے خرید و فروخت کیا ہے، 
بشرطیکہ وہ محرمات کی قبیل سے نہ ہوں۔
اخلاقیات کے باب میں دیکھیں تو 
ظلم و جبر کرنے والے غیر مسلموں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا پورا حق ہے،  لیکن جو
امن پسند ہیں، دشمنی نہیں برتتے ایسے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کا مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا گیا
  سورہ  الممتحنۃ آیت نمبر 8
*لَا یَنۡہٰاکُمُ اللّٰہُ  عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ  یُخۡرِجُوۡکُمۡ  مِّنۡ  دِیَارِکُمۡ  اَنۡ  تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۸﴾*
ترجمہ: 
اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا (ف ٣) . اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔
ایسے غیر مسلمین جو مسلمانوں پر ظلم و ستم نہیں کرتے، مار پیٹ اور قتل وغارت گری سے دور رہتے ہیں، دینی امور کے قیام میں رکاوٹ نہیں بنتے، اپنے دینی و مذہبی معاملات ہم پر زبر دستی تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک سے اسلام نہیں روکتا۔ 
احادیث میں بہت واضح طور پر کہا گیا ہے ۔
  *المؤمِنُ مَن أمِنه النّاسُ والمسلِمُ مَن سلِم المسلمون مِن لسانِه ويدِه(مسند احمد 12562)*
مومن کامل وہ ہے جس سے لوگ مامون رہیں ،اور کامل مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں، 
اس حدیث میں “من امنه المسلمون” کی بجائے 
“الناس” کہا گیا جس میں مسلم، غیر مسلم سب شامل ہیں،
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلم مریض کی عیادت کیلئے تشریف لے جایا کرتے تھے، 
 (البخاري).
 نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جو کفار و مشرکین کے وفود آتے تھے آپ بڑی خوش اخلاقی سے ان کا استقبال کرتے تھے،ان آیات و احادیث سے واضح پیغام ملتا ہے کہ  معاملات،اخلاقیات ،اور معاشرت میں کچھ شرائط کے ساتھ تعامل کی مکمل گنجائش موجود ہے بلکہ مستحسن ہے، جس میں بنیادی شرط یہ ہے کہ اسلامی اصول سے متصادم نہ ہوں، مثلا حرام اشیاء کی خریدو فروخت جائز نہیں،اسی طرح ملنے جلنے میں ان کے مخصوص طریقوں سے احتراز لازم ہے، جیسے ہمارے یہاں غیر مسلم حضرات پیر چھو کر یا قشقہ لگاکر استقبال کرتے ہیں ،جو ان کے دینی شعائر ہیں،  یا ان کے یہاں خواتین کے پردہ کا مخصوص التزام نہیں جبکہ اسلام میں پردہ فرض ہے،تو چونکہ یہ اسلامی طرز معاشرت سے بلاواسطہ متصادم ہیں لہاذا ان سے بھی پرہیز ضروری ہے،  
جہاں تک عقائد و عبادات کا مسئلہ ہے تو اس میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں،  
     سورہ النسآء آیت نمبر 97
*اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷﴾*
ترجمہ: 
بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کو گنہگار کر رکھا تھا تو وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم کس کام میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم سرزمین میں محض مغلوب تھے وہ کہتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ کی سرزمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کرکے اس میں چلا جانا چاہئیے تھا سو ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور جانے کے لیے وہ 
بری جگہ ہے۔ (97)
یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد بھی بغیر کسی واقعی مجبوری کے کفار کے درمیان تھے اور *”آدھا تیتر آدھا بٹیر”* بن کر کفریہ اعمال بھی کر لیتے تھے، نیم ایمان اور نیم کفر کی زندگی بسر کر رہے تھے،اس زندگی سے وہ قانع و مطمئن اسلئے تھے کہ اگر انہوں نے یہ سب چھوڑ دیا تو یہ آرام،عیش و عشرت، خاندان، جائداد و املاک سب چھوٹ جائیں گے، ورنہ کوئی واقعی مجبوری ان کے سامنے نہ تھی جو ان کیلئے ہجرت سے مانع ہو،  بہانا یہ تھا کہ ہم مغلوب ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق کہا گیا کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں، ان کو جواب دیاگیا ہے کہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے ، ایمان کی حفاظت کیلئے ہجرت کیوں نہ کی، پتہ چلا کہ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی ایمان سے سمجھوتہ برداشت نہیں، ایمان کی حفاظت سب سے مقدم ہے، 
حدیث پاک ہے *لا طاعةَ لِمخلوقٍ في معصيةِ اللَّهِ(مسند احمد 20656*
اللہ کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں، 
“رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی فوج کا ذمہ دار بنایا ،انہوں نے آگ دہکائی اور اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ آگ میں کود جاؤ ،انہوں نے انکار کردیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ شخص آگ میں کود جاتا تو جہنمی ہوتا” کمانڈر کی اطاعت ہر حال میں ضروری ہے لیکن خود کو آگ کے حوالہ کرنا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اسلئے  اللہ کے حکم کے آگے کمانڈر کے حکم کی کوئی حیثیت نہ رہی، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ماننے سے انکار کردیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید کی ، پتہ چلا کہ حالات کتنے ہی دگر گوں کیوں نہ ہوں ،  مخلوق کو خوش کرنے کیلئے خالق کی نافرمانی ہرگز قابل قبول نہیں،  
اس وقت یہ صورت حال عام ہے، چند مسلمان اپنے آس پاس کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے یا تھوڑی سی مجبوری میں شرکیہ اعمال و افعال میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے، *”وندے ماترم”جے شری رام” بھارت ماتا کی جے”قشقہ لگانا، ہاتھ جوڑ کر سلام کرنا، نمستے، اور نمشکار” ایک عام سی بات ہوگئی ہے*، اسلام توحید کا حکم دیتا ہے  جبکہ یہ ساری باتیں شرکیہ ہیں اس طرح بلا واسطہ شریعت سے متصادم ہیں،  
خود اسلام اپنی تعلیمات دوسروں پر نہیں تھوپتا، دوسروں کو اپنی تعلیمات اپنانے پر مجبور نہیں کرتا،عقیدہ کی آزادی کا قائل ہے، اسلئے قرآن کا صاف صاف اعلان ہے  *(لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين) [البقرة 256:*
دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے،  *(فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر) الكهف: 29* جس کا جی چاہے مان لے جس کا جی چاہے انکار کردے،  وقال: *(أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ)۔ .٩٩ يونس: 99.*
“کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں،
یہ آیات صراحتا کہہ رہی ہیں کہ ایمان کا اعتقادی،اخلاقی و عملی نظام کسی پر تھوپا نہیں جاسکتا،جبرا کسی کے سر منڈھنے کا سوال ہی نہیں ہے، ایک دوسری آیت میں صراحتا حکم آیا کہ آپ نصیحت کر سکتے ہیں اپنی بات کسی پر تھوپ نہیں سکتے، 
 *(فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ 21لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ :الغاشية 22* اے نبی ، تم نصیحت کئے جاؤ تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو)
ہاں دعوت کی تلقین کی گئی ہے ، کہ غیر اللہ کو ماننے والوں کو توحید اور اس کے مقتضیات کی دعوت دیتے رہو،
 *(ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة*
 اے نبی! ، اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ) اس میں بھی بحث و مباحثہ کا طریقہ بتا تے ہوئے فرمایا،
*(وجادلهم باللتى هي أحسن)*
، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو) النحل 125. 
لڑائی جھگڑا گالی گلوچ، الزام و بہتان تراشی ،اور عیب جوئی والا طریقہ نہ ہو،
  *”باہمی ہم آہنگی”اور بقائے باہم”* کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے اصول سے ہٹ کر دوسروں کے مذہبی رسوم و رواج کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں، بلکہ اپنے عقائد اور دینی اقدار و روایات کی حفاظت کرتے ہوئے پر امن طور پر رہنے کا نام *”بقائے باہم”*
ہے ، ایک مسلمان کیلئے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ دینی امور میں وہ محفوظ و مامون ہو، شرائع دینیہ، اور عبادات کے ادائیگی کی مکمل آزادی ہو، دینی امور کی مخالفت پر اسے کوئی مجبور نہ کرسکے، یہاں ایک اہم بات یاد رہنی چاہئے کہ “بقائے باہم” تبھی ممکن ہے جب ہر ایک دوسرے کو اس کی ہیئت میں قبول کرنے کیلئے تیار ہو، قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی ہیئت یا اس کا کوئی دینی عمل ہمیں منظور نہیں تو اس کے خلاف کسی قسم کے طعن و تشنیع، تشدد یا جبر و اکراہ سے مکمل اجتناب کیا جائے، البتہ دلائل کی بنیاد پر مباحثہ و مناقشہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ، مثلا کسی ٹوپی داڑھی والے کے پہلو میں اگر کوئی بھگوا رنگ پہن کر بیٹھا  ہے تو ان دونوں میں سے کسی کو  یہ حق نہیں کہ ایک دوسرے  پر بے جا اعتراض کرتے ہوئے اس کو تشدد کا نشانہ بنائیں یا اس کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کریں، بلکہ دونوں  پہلو بہ پہلو بیٹھ کر دلائل کی بنیاد پر اپنے اپنے موقف کے صحت و سقم پر گفتگو کریں، اسلام کے بیان کردہ اصول پر غور کریں تو دو دو چار کی طرح بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اسلام ایک طرف دوسرے کو اس کی شکل میں قبول کرتا ہے، جبر و اکراہ سے روکتا ہے ، اور خوشگوار ماحول میں خوش اسلوبی کے ساتھ گفتگو کا حکم دیتا ہے، ایسی صورت میں کسی نفرت انگیزی کی کہیں کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، ہر طرف امن و امان کا بسیرا رہتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...