Home » اسلامیات » آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جامعیت : سید سلیمان ندوی، رحمہ اللہ، انتخاب محمد عمر
اسلامیات مذہبی افکار ونظریات

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جامعیت : سید سلیمان ندوی، رحمہ اللہ، انتخاب محمد عمر

چند مہینے قبل ایک نعت پاک کے ترجمہ کی خاطر سیرت کی کتابیں دوہرائیں، کافی سرمایہ ہاتھ لگا جی میں آیا کہ اسے جوڑ کر یہاں نقل کروں

ہمکو ان تمام امور کے متعلق جو ہمارے مختلف افعال جسمانی سے تعلق رکھتے ہیں عملی نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح وہ افعال جنکا تعلق دل و دماغ سے ہے جنکو ہم اعمالِ قلب یا احساسات و جذبات سے تعبیر کرتے ہیں ان سب کے لئے ہم کو ایک عملی سیرت کی حاجت ہے، وہ سیرت جسکے ہاتھوں ہماری اندرونی سرکش اور بے قابو قوتوں کی باگ ہو، جو ان ہی راستوں پر ہمارے نفس کو لے چلے جن پر مدینہ کا اک ‘بے نفس انسان’ کبھی گزر چکا ہے
عزم، استقلال، شجاعت، صبر، شکر، توکل، رضا بہ تقدیر، مصیبتوں کی برداشت، قربانئ و قناعت، استغناء و ایثار، تواضع و انکساری، مسکنت و خاکساری، غرض نشیب و فراز تمام اخلاقی پہلؤں کو جو ہمکو مختلف حالتوں میں پیش آتے ہیں اسمیں ہمیں اک عملی ہدایت و مثال کی ضرورت ہے مگر وہ ملیگی کہاں؟ صرف محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس!
آپکی زندگی اک ایسی زندگی ہے جو ہر حالتِ انسانی کے مختلف مظاہر و ہر قسم کے جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہے
اگر آپ دولت مند ہیں تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کیجۓ،
گر غریب ہیں تو شعبِ ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنۓ، اگر بادشاہ ہیں تو سلطان عرب کا حال پڑھۓ، گر رعایا ہیں تو قریش کے محکوم کو اک نظر دیکھ لیجۓ، اگر فاتح ہیں تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر اک نظر ڈالۓ، اگر شکست خوردہ ہیں تو معرکۂ احد سے عبرت پکڑۓ، گر استاذ و معلم ہیں تو صفہ کی درسگاہ کے معلمِ قدس کی پیروی کیجئے، اور گر شاگرد ہیں تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جمائیے، گر واعظ و ناصح ہیں تو مسجدِ مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنۓ، گر تنہائی و بے بسی کے عالم میں منادی للحق کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہیں تو تو مکہ کے بے یار و مددگار نبی کا اسوہ حسنہ آپ کے سامنے ہے، اور گر آپ نصرت حق کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر کر چکے ہیں تو فاتح مکہ نظارہ کیجئے، گر اپنے کاروبار یا دنیاداری جد وجہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہیں تو بنی نظیر، خیبر اور فدک کی زمینوں کے مالک کا کاروبار اور اسکا نظم و نسق دیکھ لیجئے، گر یتیم ہیں تو عبد اللّٰہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولۓ، گر بچے ہیں تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے لَلَن کو دیکھۓ، اگر جوان ہیں تو مکہ کے چرواہے کی سیرت پڑھۓ، گر سفری کاروبار میں ہوں تو بصری کے کارواں سالار کی مثالیں ڈھونڈۓ، اور گر عدالت کے قاضی یا آپسی اختلافات کے ثالث ہیں تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کا حال جانۓ جو حجر اسود کو کعبہ کے اک گوشے میں کھڑا کر رہا ہے- مدینہ میں کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کی منصفی دیکھۓ جسکی نگہ انصاف میں شاہ و گدا امیر و غریب سب برابر ہیں
اسی طرح گر بیویوں کے شوہر ہیں تو خدیجہ و عائشہ کے مقدس شوہر کی حیات پاک مطالعہ کیجئے گر صاحب اولاد ہیں تو زینب و رقیہ ام کلثوم و فاطمہ کے بابا سے آشنائی رکھۓ غرض آپ جو کچھ ہیں اور جس حال میں ہیں آپکی زندگی کے لئے نمونہ اور ظلمت خانہ کے لئے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں
آپکی زندگی میں بیک وقت اس قدر مختلف اوصاف نظر آتے ہیں جو کسی انسان میں چشم تاریخ نے کبھی یکجا نہیں دیکھا
بادشاہ ایسا کہ ایک پورا ملک اسکی مٹھی میں ہو اور بے بس ایسا کہ خود اپنے آپ کو اپنے قبضہ میں نہ جانتا ہو بلکہ خدا کے قبضہ میں، دولتمند ایسا کہ خزانے کے خزانے اونٹوں پہ لدے پھندے اسکے دارالحکومت میں آتے ہوں اور محتاج ایسا کہ مہینوں اسکے گھر چولہا نہ جلتا ہو اور کئ کئ وقت اس پر فاقے کے گزر جاتے ہوں، سپہ سالار ایسا ہو کہ مٹھی بھر نہتے آدمیوں کو لیکر ہزاروں غرق آہن فوجوں سے کامیاب لڑائی لڑا ہو اور صلح پسند ایسا کہ ہزاروں پر جوش جاں نثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغز پر بے چوں چراں دستخط کر دیتا ہو، با تعلق ایسا ہو کہ عرب کے ذرہ ذرہ کی اسکو فکر، بیوی بچوں کی پرواہ، غریب مفلس مسلمانوں کا اسکو خیال، خدا کو بھولی ہوئی دُنیا سدھارنے کی ہمہ وقت اک دُھن غرض سارے سنسار کی اسکو چِنتا ہو اور بے تعلق ایسا کہ اپنے خدا کے سوا اسکو کسی اور کی یاد نہ ہو، اسنے کبھی اپنی ذات کے لۓ خود کو برا کہنے والوں سے بدلہ نہ لیا اور اپنے ذاتی دشمنوں کے حق میں دعائے خیر کی اور انکا بھلا چاہا لیکن خدا کے دشمنوں کو اور حق کے راستہ میں روڑا اٹکانے والوں کو ہمیشہ جھنم کی دھمکیاں دی اور عذاب الٰہی سے ڈراتا رہا، عین اس وقت جب اس پر کشور کشا فاتح کا شبہ ہو وہ پیغمبرانہ معصومیت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتا ہے، عین اس وقت جب ہم اسکو شاہ عرب کہ کر پکارنا چاہتے ہوں وہ کھجور کی چھال کا تکیہ لگاۓ کھردری چٹائ پر بیٹھا درویش نظر آتا ہو، عین اس وقت جس دن عرب کے اطراف سے آ آ کر اسکے صحنِ مسجد میں مال و دولت کا انبار لگا ہوتا ہے اسکے گھر میں فاقہ کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے، عین اس وقت جب لڑائی کے قیدی مسلمانوں کے گھروں میں لونڈی و غلام کی صورت بھیجے جاتے ہوں اور فاطمہ بنت رسول جاکر اپنے ہاتھوں کے چھالے اور سینہ کے داغ باپ کو دکھاتی ہیں جو چکی پیستے پیستے اور مشکیزہ بھرتے بھرتے ہاتھ اور سینہ پر پڑ گئے تھے، عین اس وقت جب آدھا عرب اسکے زیر نگیں ہوتا ہے حضرتِ عمر حاضرِ دربار ہوتے ہیں اور ادھر ادھر نظر اٹھا کر کاشانۂ نبوی کے سامان کا جائزہ لیتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ آپ ایک چٹائی پر آرام فرما ہیں جسمِ اطہر پر بدھیوں اور بانوں کے نشان پڑے ہیں اک طرف مٹھی بھر جو رکھی ہے سرور کائنات کے گھر کی یہ کل کائنات دیکھ کر عمر رو پڑتے ہیں، آپ سبب دریافت کرتے ہیں کہ عمر روتے کیوں ہو؟ عمر عرض کرتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر رونے کا اور کونسا موقع ہوگا کہ قیصر و کسریٰ باغ و بہار کے مزے لوٹتے ہیں اور آپ اس حالت میں ہیں ارشاد ہوتا ہے عمر! کیا تم اس پر راضینہیں کہ قیصر و کسریٰ دنیا کے مزے لوٹیں اور ہم آخرت کے۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...