Home » اسلامیات » طلبہ وفضلاء کے مطالعہ کے لئے مفید کچھ اہم کتب کا تعارف اور ان کی اہمیت پر اجمالی نظر: وصی میاں خان
ادب اسلامیات کتابوں پر تبصرے وصی میاں خان

طلبہ وفضلاء کے مطالعہ کے لئے مفید کچھ اہم کتب کا تعارف اور ان کی اہمیت پر اجمالی نظر: وصی میاں خان

قرآن کریم : سب سے پہلے تو براہ راست تدبر وفکر کے ساتھ قرآن پڑھیں،بغیر کسی تفسیر کی مدد کے، کیونکہ جو تاثیر جو معنویت اور گہرائی کلام اللہ میں ہے، دوسری کسی کتاب میں نہیں، اس سے فکر وخیال کو جو وسعت سوچنے کے جو زاویے میسر آتےہیں،انسانی تفاسیر اور تراجم وتشریحات میں وہ بات کہاں، ہر شخص کو اللہ نے منفرد دماغ، جداگانہ قوت فکر اورفہم سے نوازا ہے، کتاب اللہ سے ہر شخص کے تعلق کی نوعیت بھی اسی دماغی وفکری ڈھانچے کے لحاظ سے بنتی ہے “قل كل يعمل على شاكلته” براہ راست مطالعہ سے بسا اوقات وہ موتی ونگینے ہاتھ آتے ہیں کہ کسی انسانی تفسیر میں شاید ہی ملیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی سینکڑوں تفاسیر کے بعد بھی اس کی تازگی اور علمی پایہ جوں کا توں رہتا ہے ولا يخلق عن كثرة الرد حدیث میں بہت ہی ناپ تول کر کہا گیا ہے۔

لیکن ظاہر ہے کہ اس درجے کا مطالعہ اسی کے لئے مفید ہے جو اس کی بنیادی ضروریات اور مبادی سے واقفیت رکھتا ہو، یعنی صرف نحو، عربی زبان ولغت اور بلاغت کی شدھ بدھ رکھتا ہو،ساتھ ہی ساتھ یہ خیال رہے کہ کسی بھی آیت کے خود سے نکالے ہوئے مفہوم پر یقین کرنے اور دوسروں تک پہونچانے سے پہلے یہ چیک کر لیا جائے کہ وہ قرآن و سنت اور دین کے اصولوں سے متصادم نہ ہو،ورنہ تفسیر بالرائے کے ضمن میں آکر وہ وبال دین ودنیا بن سکتا ہے۔

اس لئے خود سے سمجھنے کے بعد پھر کوئی تفسیر بھی دیکھی جائے، تفاسیر تو بہت سی ہیں، اردو میں چند اہم تفاسیر :
بیان القرآن : حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
تفہیم القرآن : مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
تفسیر عثمانی : از علامہ شبیر احمد عثمانی
معارف القرآن:مفتی شفیع عثمانی
معارف القرآن :مولانا ادریس کاندھلوی
تدبر قرآن : مولانا امین احسن اصلاحی
درس قرآن : (آڈیو) ڈاکٹر اسرار احمد
فی ظلال القرآن : (اردو ترجمہ مولانا حامد علی،یہ ترجمہ اتنا شاندار ہے کہ اصل تفسیر کو گمان ہوتا ہے) از
سید قطب
تفسیر ماجدی : مولانا عبد الماجد دریابادی
روح البیان : مولانا عاشق الٰہی میرٹھی
ترجمان القرآن : مولانا ابو الکلام آزاد ( اس سے استفادے کے لئے پہلے دو تین تفسیروں کا پڑھ لینا ضروری ہے،ورنہ استفادہ کے بجائے فکری گمراہی کا خطرہ ہے)
اس کے علاوہ تفسیر مظہری اور ابن کثیر کے اردو تراجم بھی اردو میں زیادہ آرام محسوس کرنے والے حضرات دیکھ سکتے ہیں۔ باقی مولانا وحید الدین خان کی تفسیر تذکیر القرآن کچھ خاص نہیں ہے۔

حدیث : اس کے بعد صحاح ستہ میں سے حدیث کی ایک کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ قرآن کریم کی “وحی متلو” کے بعد حدیث شریف کی “وحی غیر متلو” کے علوم ومعارف ہی “ٹائم لیس” ہیں، جو زمانہ کی دھارا کے آر پار جھانک ہر شخص کے لئے ہر وقت ہدایت روشنی کا سامان کر سکتے ہیں۔

میرے خیال سے اگر حدیث کے مطالعے کے لئے ایک ہی کتاب چننی ہو تو صحیح مسلم کا انتخاب بہتر رہے گا، صحیح بخاری پر مسلم کو ترجیح دینے کی دو بڑی وجہیں ہیں

نمبر ایک تو یہ کہ مسلم میں ایک ہی موضوع سے متعلق احادیث یکجا مل جاتی ہیں،اور تلاش کرنا بھی نہایت آسان ہے۔
دوسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مسلم کے مطالعہ کے لئے ہمارے پاس “فتح الملہم” کی شکل میں ایسی بہترین جامع شرح موجود ہے کہ جو نہ صرف زمانہ جدید کے مسائل واسلوب میں احادیث کی تشریح کرتی ہے بلکہ سند کے ضروری مباحث کے ساتھ ساتھ متن حدیث کی تشریح میں فقہ،موجودہ حالات وغیرہ سے بھی تعرض کرتی ہے،جبکہ بخاری میں یکجا حدیث نہ ملنے کے علاوہ اس کی کوئی ایک شرح ایسی نہیں جو آج کے ہندوستانی طالب علم کو اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے، فتح الباری کی تعریف کرنے کی بھی اوقات ہماری نہیں ہے،لیکن اسے پڑھ کر حدیث کی فنی مباحث، اسنادی حیثیت،اور اختلافی فقہی مباحث کے مطالعہ کے نتیجے میں علم حدیث سے فنی واقفیت تو ہو سکتی ہے لیکن موجودہ دور کے موافق آسان عربی اسلوب میں عصری مسائل اور متن حدیث پر آج کی ضرورت کے لحاظ سے مختلف زاویہائے نظر سے گفتگو نہیں ملے گی،اس کے لئے دیگر دو تین شرحیں اور دیکھنی پڑیں گی، “فیض الباری سے کام چل سکتا تھا،اگر وہ مستقل تصنیف ہوتی اور ایک ایک حدیث پر فتح الملہم وفتح الباری کی طرح گفتگو اس میں ہوتی۔

اس کے بعد میرے خیال سے یہ کچھ کتب اردو میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ہم یہاں مصنفین کی ترتیب کے لحاظ سے ان کی کچھ اہم کتابوں کو ہی لیں گے، پہلے ارادہ تھا کہ موضوعات کے لحاظ سے ترتیب بنائی جائے لیکن پھر زیادہ بہتر یہی معلوم ہوا کہ مصنفین ہی کے لحاظ سے کتابوں کا خاکہ پیش کیا جائے ،ان شاء اللہ توفیق رہی تو موضوعات کے اعتبار سے ایک فہرست پیش کی جائے گی یہ انتخاب میرا ذاتی ہے، اس لئے کسی اور کوان حضرات کی دوسری کتابیں یا دوسرے حضرات کی کتابیں زیادہ پسند ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں،وہ اپنی فہرست پیش کر سکتے ہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اہم کتب ۔

 ملفوظات الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

اس سے بہتر زندگی کو بدلنے کا مسالہ نہیں ملے گا،دل ودماغ دونوں کو اپیل کرتے ہیں،تصوف، فلسفہ، اخلاق، معاشرت، نفسیات، علم الانسان، تفسیر، فقہ کے سینکڑوں ہزاروں مسائل ان میں بکھرے پڑے ہیں جن کو بہت ہی دلچسپ، اور آسان انداز میں حضرت نے اپنی مجلسوں میں بیان کیا،30 جلدوں میں پی ڈی ایف بھی موجود ہے۔

خطبات حکیم الامت۔

آیات واحادیث کے ضمن شرعی مسائل کی اس قدر سہل اور معقول ومرتب تشریح شاید ہی کہیں ملے۔ شریعت کے اہم مسائل پر ایک ایک کرکے مفصل گفتگو،احادیث قرآن کریم سے ان کا استخراج اور پھر پریکٹل مشکلات پر ان کا انطباق، جو حضرت کا خصوصی طرز ہے، سب سے اہم بات یہ کہ ان مسائل وخطبات میں خشکی نہیں لطافت، اور ظرافت بھی بھرپور ہے ۔ 32 جلدیں پی ڈی ایف میں بھی نیٹ پر ہیں۔

 جواہر حکیم الامت: اس کی تین ہی جلدیں ہیں،یہ حضرت کے ملفوظات،مواعظ وخطبات ودیگر تصنیفات کا نچوڑ ہے۔علماء فضلاء کے لئے خاص طور پر مفید۔

 حیاۃ المسلمین :یہ کتاب عام مسلمانوں اور فارغین ومبتدی ومنتہی طلبہ سب کے لئے یکساں مفید ہے،ہر گھر میں اس کو سنانا بھی چاہئے۔

 اسلام اور عقلیات : اصولی لحاظ سے اس کتاب کا جواب نہیں، خاص طور یونانی منطق وفلسفہ کے طرز اور اسلوب میں حقائق کو مدلل پیش کرنے کے طریقے کو پسند کرنے والوں کے لئے ازکتاب میں مزید دلچسپی کا سامان ہے۔
امداد الفتاوی : مجھے نہیں لگتا کہ فقہ وفتاویٰ میں گہرائی کا خواہاں کوئی طالب اس سے مستغنی رہ سکتا ہے، یہ عام فتاوی سے کافی مختلف اور تھوڑی پیچیدہ بھی ہے۔

تحفۃ العلماء :اردو میں احکام شریعت کے مقاصد ان کے اسباب وعلل اور باریک فاروق کو بہت ہی آسان، دلچسپ اسلوب اور سادہ مثالوں وحکایتوں سے سمجھنے کے لئے یہ نہایت عمدہ کتاب ہے،فضلاء وطلبہ کے لئے بہت مفید اور ضروری کتاب، جو لوگ مقاصد شریعت اور ان کے فروق کے لئے “حجۃ اللہ البالغہ” اور امام قرافى كى “الفروق” سے استفادہ نہ کر سکیں ان کو تو یہ ضرور ہی پڑھنی چاہئے۔

اس کے علاوہ حضرت کی زندگی میں ہی تیار کردہ آپ کی سوانح جو”اشرف السوانح” کے نام سے دو جلدوں میں آپ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے مرتب کی ہے وہ بھی پڑھنا چاہئے، ایسے ہی “ارواح ثلاثہ” کے نام سے شاہ ولی اللہی سلسلے کے بزرگان دین کی نادر حکایات و قصص واقعات کا مجموعہ جس کا معتد بہ حصہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے خاص صحبت یافتہ”امیر شاہ خان صاحب خورجوی” کی روایت سے اور کچھ اپنی روایت سے جمع کئے گئے ہیں،بہت ہی دلچسپ،مفید، محرک عمل واقعات ہیں۔

مولانا علی میاں ندوی :

 انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج زوال کا اثر:یہ ماذا خسر العالم کا اردو ورژن ہے،ترجمہ نہیں ہے،اس کتاب کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو آئینہ دکھانا ہے۔

 تاریخ دعوت وعزیمت۔
اس میں تاریخ کے نامور اسلامی دعاۃ پر جو مفصل مدلل اور ایمان افروز گفتگو حضرت ندوی نے اپنے خاص انداز میں کی ہے وہ بس انہیں کا حصہ ہے، شیخ عزالدین بن عبدالسلام، امام غزالی، شاہ ولی اللہ، حضرت نظام الدین اولیا وغیرہ کی شخصیات وتحریکات کا اس سے بہتر مستند تذکرہ شاید نہ ملے۔ 5 جلدوں میں نیٹ پر دستیاب ہے ۔

 پرانے چراغ: تین جلدوں میں دستیاب ہے، اس میں مولانا علی میاں صاحب نے بہت سی شخصیات کا اپنے تجربات کی روشنی میں تذکرہ کیا ہے،کافی قریب سے اور نئے انداز میں ان بزرگوں کا تذکرہ اس میں ملے گا۔

معرکہ ایمان ومادیت: موجودہ دور کے اندر فتن،دجال اور امام مہدی پر بہت ہی سستی قسم کی جذباتی تحریریں اور کتابیں آرہی ہیں،جن میں آیات واحادیث کی عصری تطبیق کے جوش میں عجیب کھینچ تان مچی ہے،اس کتاب میں بہت ہی سلیقے کے ساتھ فتن کو خصوصا فتنہ کبری دجال کو جس انداز میں قرآن مجید سے اور خاص طور پر سورہ کہف سے اس کے ربط کو۔ بیان کیا گیا ہے اتنا شاندار،اور موثر پیرایہ میری محدود نظر سے نہیں گزرا۔

 دستور حیات : یہ بھی کچھ اہم بنیادی کتابوں میں ہیں جو سب کو پڑھنی چاہئے۔

 خطبات علی میاں : 8 جلدوں میں چھپ چکے ہیں، نیٹ پر پی ڈی ایف موجود ہیں، آج کل کے خطباء ائمہ اور سنجیدہ مطالعہ رکھنے والوں کو ضرور پڑھنا چاہئے، دو جلد تو تقریبا علما وطلبہ کے لئے ہی مختص ہیں۔

ان کے لئے علاوہ حضرت ندوی کی “المرتضی” “نبی رحمت” اور “مسلم ممالک میں اسلام اور مغرب کی کشمکش” بھی قابل مطالعہ کتب ہیں۔

حکیم الاسلام قاری طیب صاحب۔

 خطبات حکیم الاسلام: اگر عقل وفکر اور علم وتدبر کو تقریر وبیان کی شکل میں دیکھنا ہو،تو 12 جلدوں پر مشتمل حضرت حکیم الاسلام کے خطبات سے بہتر کچھ نہیں، اسلام کی ترجمانی، اس کے حقائق کو چٹکیوں میں وا کرنا بس حکیم الاسلام ہی کا حصہ ہے، ان خطبات کو بار بار پڑھ کر آسان سہل اسلوب میں عوام تک حضرت کے علوم کو پہونچانے کی اشد ضرورت ہے۔

 علماء دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج: دیوبند کے ہر فرد کو مختصرا جامع انداز میں فکر دیوبند کو سمجھنے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے، اسکو تاریخ دارالعلوم میں بطور مقدمہ بھی لگایا گیا ہے لیکن مکمل کتاب پڑھنا ضروری ہے۔ان شاء اللہ اس کے مطالعہ کے بعد دیوبند کی ایک نئی قدر اور ایک نئی عظمت دل میں پیوست ہو جائے گی۔

مقامات مقدسہ : یہ کتاب 700 صفحات میں ہے، اور صرف وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ‏ ۞ سے البلد الامین تک تین مختصر آیتوں کی انوکھی حیرت انگیز تفسیر پر مشتمل ہے، جس میں مصر، ارض فلسطین وشام اور حرم مکی کی فضیلت،ان کی اہمیت،ان کی ذمے داریاں اور قرب قیامت میں ان سے وابستہ ڈیوٹیز کو صرف انہیں تین مختصر آیات سے ثابت کیا ہے،یہ اصل میں حضرت کے قاہرہ کی عالمی کانفرس میں پڑھے گئے مقالہ کی تفصیل ہے۔ حضرت قاری صاحب اس کو تاریخ دارالعلوم کے طرز پر شائع کرنا چاہتے تھے،لیکن ان کے پاس اس کو چھپوانے کے لئے پیسا ہی نہیں تھا،اور کسی سے اشارتاً بھی کہنا ان کی طبیعت نے گوارا نہیں کیا،وفات سے کچھ گھنٹے پہلے تک اس میں اضافے کرت رہے۔
ظاہر ہے یہ حضرت حکیم الاسلام کی آخری تصنیف ہے۔

علامہ شبلی نعمانی:

 سیرت النبی: تھوڑے بہت اختلافی مسائل کو چھوڑ دیا جائے تو اردو میں سیرت پر ایسا شاہکار نہ ملے گا،عام سیرتوں سے بالکل ہٹ کر الگ ہی انداز اختیار کیا ہے، ہر بات کو بہت ہی گہرائی میں جاکر، تجزیہ کرکے ابن خلدون کے فلسفہ تاریخ کو اپلائی کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔

 الفاروق : کہا جاتا ہےکہ فاروق اعظم کی سیرت پر اس سے بہتر تصنیف کسی بھی زبان میں آج تک نہیں لکھی گئی،اور کتاب پڑھ کر یہ دعویٰ کچھ بعید بھی نہیں لگتا، جس نے اس کو نہیں پڑھا اس نے تاریخ اسلامی کے ایک بہت ہی اہم باب کو چھوڑ دیا۔
اگرچہ علامہ شبلی کے خالص،خشک موضوعی طرز بیان سے کہیں کہیں وحشت بھی ہوتی ہے، اور کچھ مواقع پر کچھ زیادہ ہی “تاریخی اصولوں سے کام” لینے کے چکر میں کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے خصوصاً جنگ قادسیہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کردار جس طرح بیان کیا ہے وہ محل غور ہے،لیکن کل ملا کر لاجواب کتاب ہے۔

الغزالی : امام غزالی اور ان کے فلسفے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے یہ کتاب بھی پڑھنے لائق ہے

 سیرت نعمان: مولانا شبلی کی یہ کتاب میری معلومات میں حضرت امام اعظم کی سیرت پر سب سے بہتر کتاب ہے، خصوصاً دوسرا حصہ جس میں امام صاحب کے اجتہادات، فقہ حنفی کی خصوصیات اور اس کی برتری کے وہ انوکھے نکات ودلائل شبلی میں اپنے مخصوص طرز بیان میں تحریر کئے ہیں کہ بس کچھ نہ پوچھئے۔۔فقہ حنفی کے ہر طالب علم اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے تھوڑی بھی عقیدت یا تعلق والے ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے،تاکہ شبلی کی “روشن خیالی” اور “عملاق شخصیت” پر فخر کرنے کے باوجود ائمہ اربعہ خصوصاً امام ابوحنیفہ رحمہ کی فقہ سے اعراض کرنے والے لوگوں کے سامنے سرخیل ندوہ کے خیالات بھی پیش کئے جاسکیں۔

علامہ شبلی کی دیگر تصانیف میں الکلام وعلم الکلام جدید علم کلام کے لئے، المامون، رومی، اور مصر وترکی کا سفر اور ان کے مقالات بھی دیکھنے سے تعلق رکھنے ہیں، شعر وادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے شعر العجم بھی ہے۔

سید سلیمان ندوی

 خطبات مدراس: اس کتاب کا جواب نہیں ہے، بس پڑھ کر ہی پتا چل سکتا ہے۔
حیات شبلی : شبلی کے طرز پر سید صاحب بھی جب کسی کی سوانح لکھتے ہیں تو اس سے متعلقہ کافی چیزوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں،یہ کتاب صرف شبلی کی ہی سوانح نہیں ہے یہ اپنے آپ میں ایک شاندار تاریخی مرقع ہے۔ یہ میں اب تک نہیں پڑھ پایا ہوں، لیکن مضامین اور محتویات سے واقفیت ہے اور کافی دنوں سے اس کو پڑھنے کی فراق میں ہوں۔۔

 سیرت عائشہ صدیقہ: اماں عائشہ کی سیرت پر بہت ہی مستند، اور جامع کتاب ہے، شبلی کی طرح ان کے شاگرد رشید بھی کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں،پہلےمیں عام زندگی کے واقعات، دوسرے میں علمی، اجتہادی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اختلافی چیزوں کو بھی موضوع بحث بناتے ہیں، اس کے بعد حضرت ام المومنین کے بارے میں کچھ مزید پڑھنے کے تعلق سے قاری مستغنی رہ سکتا ہے۔

مولانا مودودی :

 اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی: یہ کم مشہور کتاب ہے لیکن میرے نزدیک مولانا کی تصنیفات میں شاید دوسرے یا زیادہ سے زیادہ تیسرے نمبر پر ہے، اس میں آپ کو اسلام کی اصولی فکر اور اس کی جداگانہ تہذیب کا ایک بہترین جامع تصور ملے گا، اور یہ خیال مٹ جائے گا کہ محض اسلام تہذیبوں کے مادی وارتقائی تسلسل کی ایک کڑی ہے، اور یہ کہ تہذیب ودین الگ الگ چیزیں ہیں، اس سے ایک مرعوبیت کی فضا ختم ہوتی پے، اور تہذیب ودین کی تفریق کے فریب میں جو ڈاکے ڈالے جاتے ہیں اس پر سے پردہ اٹھتا ہے، فکر اسلامی کو صحیح نہج پر سمجھنے کے لئے سبھی کو یہ کتاب پڑھنا چاہئے۔

تفہیمات : پانچ جلدوں پر مشتمل، مولانا کے مختلف النوع اسلامی مسائل پر مدلل مقالات کا مجموعہ ہے، اکثر بنیادی مسائل کو کور کیا گیا ہے، الگ الگ فکری موضوعات کو سمجھنے کے لئے یہ سیریز نہایت مفید ہے۔

 تعلیمات: تعلیم کے مسئلہ کو لیکر مختصر رسالہ ہے،اس میں تین چار مضمون ہی ہیں لیکن کیا لاجواب طریقہ بیان ہے اور کیا ہی شاندار تعلیمی سکیم ہے۔

 تحریک آزادی ہند اور مسلمان: دو جلدوں میں پی ڈی ایف بھی مل جاتی ہے، ہندوستان کی آزادی کے وقت کے صحیح ماحول کو سمجھنے کا ایک زاویہ فراہم کرتی ہے یہ کتاب،پاکستان کے قیام کے اسباب، کانگریس اور مسلم لیگ کے رویہ، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مظاہر،اور اسباب تقسیم اور نئ اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت، مسئلہ قومیتاور اس کی تاثیر، لیگی اور کانگریسی علماء میں اختلافات کی نوعیتیں۔۔یہ سب اس میں ملے گا،اور میرے حساب سے تو وہ سب باتیں صادق آرہی ہیں جو مولانا مودودی نے 1940 میں ہی غیر مسلموں کے ساتھ متحدہ ہند میں رہنے پر پیش آنی تھی۔

تصریحات : یہ پوری 500 صفحہ کے قریب کتاب طلبہ کے الگ الگ وقت پر کئے گئے سوالات اور مولانا کے جوابات پر مشتمل ہے،اس میں دعوت اسلامی،فکر اسلامی کو درپیش چیلینجز اور اس کو دنیا کے سامنے کیسے رکھا جائے اور کیا طریقہ کار اپنائے جائیں اس پر زیادہ بحث ہے،آجکل طلبہ میں پھر سے یہ فکر پھیل رہی ہے کہ کچھ کرنا چاہئے لیکن کیا اور کیسے یہ بتانے والا شاید ہی کوئی ہو، اس کتاب میں کچھ حد تک رہنمائی مل سکتی ہے۔

 شخصیات : مولانا مودودی کا شخصیات کو بیان کرنے میں بالکل منفرد اسلوب ہے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے لیکر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر شخصیات پر ان کا قلم کچھ الگ ہی انداز میں چلتا ہے، بہت ہی مفید کتاب۔

 سنت کی آئینی حیثیت : حدیث وسنت رسول کی حجیت پر عام روایتی طرز سے ہٹ کر معقول ومدلل گفتگو کرتی یہ کتاب بہترین ہے۔۔ اس سے بہت ہی آسانی سے حدیث کی حجیت سمجھ میں آجاتی ہے،آجکل کے لبرل اور منکر حدیث کے جواب کے لئے یہ شاندار کتاب ہے۔

مرتد کی سزا: مولانا مودودی میرے مطالعے کی حد تک پہلے شخص ہیں جنہوں نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے مرتد کی اسلامی سزا کو بلا ک جھجھک مانتے ہوئے اس مسئلہ کو منقح مدلل کرکے بے غبار پیش کردیا ہے،چھوٹا سا رسالہ ضرور پڑھنا چاہئے۔

 اسلام اور ضبط ولادت : فیملی پلاننگ یا ضبط ولادت کے موضوع پر 60 سال پہلے لکھی گئی یہ مختصر کتاب آج بھی بلحاظ افادیت جوں کی توں ہے،اگر اس میں موجود ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے تو اس کی افادیت بہت بڑھ جائے گی۔ اس مسئلہ کو اسلامی اور عقلی لحاظ سے سمجھنے کے لئے اس سے بہتر کتاب اردو میں مجھے نہیں معلوم۔

اس کے علاوہ ان کی کتب میں پردہ،سود، الجہاد فی الاسلام سے سبھی واقف ہیں اس لئے ان کا ذکر نہیں کیا،اور تنقیحات، معاشیات اسلام، قادیانی مسئلہ اور ایک اہم ترین کتاب “اسلامی ریاست” بھی قابل مطالعہ کتب ہیں، آخر الذکر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ابھی ہندوستان میں نہیں ملتی، میں بھی پڑھ نہیں پایا ہوں،لیکن فہرست مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ معرکہ الآرا کتاب ہے ۔

میری محسن کتابیں : مولانا علی میاں ودیگر: زبردست کتاب ہے، یہ اصل میں مشہور ومعروف شخصیات کی پسندیدہ کتب سے متعلق ایک سلسلہ تھا،جو مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ندوہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ میں شائع کرنے کے لئے شروع کیا تھا،وہ معروف شخصیات سے درخواست کرتے کہ اپنی ان محسن کتابوں کے بارے میں لکھ کر ہمیں بھیجیں جنہوں نے ان کی زندگی میں انقلاب برپا کیا۔
اس میں شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب، مولانا مودودی صاحب،مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب، مولانا عبد الباری صاحب وغیرہ جیسے بہت سے حضرات نے اپنی محسن کتابوں کے بارے میں لکھا، دلچسپ بات یہ ہے حضرت شیخ الادب کی محسن کتابوں میں “مقامات حریری” اور مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتابوں میں “داستان امیر حمزہ” بھی شامل ہیں۔ اس کتاب سے قاری کو اچھے درجے کی کتب کی ایک فہرست تو ہاتھ آتی ہی ہے ساتھ ہی ان کی افادیت اور اہمیت بھی آگ طریقے سے کھل کر سامنے آتی ہے ۔

مولانا عبد الماجد دریابادی :
ان کی تفسیر کا تذکرہ شروع میں آچکا ہے، اس کے علاوہ مجھے ان کی چار کتب اور بہت پسند آئیں ۔

آپ بیتی : اس کتاب نے نہ جانے کتنے بھڑکے ہوئوں کو راہ دکھائی ہوگی، نوجوانوں کے لئے بہت ہی ضروری کتاب ہے،حضرت دریابادی کا الحاد سے ایمان کا عبرت آموز سفر ان کے منفرد اسلوب بیان کے ساتھ الگ ہی اثر کرتا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ عقل وفلسفہ کی وادیوں میں گھس کر ایمان ویقین کی شاہ راہ سے انسان کب بھٹک کر اپنی عاقبت خراب کر لیتا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا، آخر میں بزرگوں سے تعلق، اہل دل کی صحبت، اور مشفق اور داناں مربیوں کی حسن تربیت انسان کو ان سنگلاخ وادیوں سے نکال کر دولت یقین سے مالامال کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، یقین کا راستہ دل سے ہی ہوکر جاتا ہے بس دماغ کو اس کے تابع بنانے والی کامل شخصیت میسر آجائیں تو خدا کا کرم ہے،اور حضرت دریابادی کو حضرت اکبر الہ آبادی، علامہ شبلی نعمانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسین احمد مدنی جیسے بزرگ اور مولانا عبد الباری ندوی،مولانا سید سلیمان ندوی،مولانا مناظر احسن گیلانی،اوربعد میں مولانا علی میاں ندوی جیسے رفقاء واحباب اللہ نے عطا کر دئے تھے۔

حکیم الامت نقوش و تاثرات : یہ کتاب شاید اردو میں دوسری ایسی کتاب ہے جو میں نے سب سے پہلے مکمل پڑھی تھی، 600 صفحات کی اس کتاب میں حضرت تھانوی اور حضرت دریابادی کی شخصیات کا الگ اور ان کے تعلق کی نوعیتں جہاں جاننے کا موقع ملتا ہے، وہیں اس کتاب میں ان دونوں حضرات کے درمیان سینکڑوں اہم علمی مسائل پر قیمتی تبادلہ خیال بھی ہوا ہے، بسااوقات بحث ونقاش تک بھی بات پہونچی،اور کچھ مسائل میں اختلاف برقرار ہی رہا لیکن سب ادب کے دائرے میں اور عزت واحترام کی بقا کے ساتھ، اس میں خاص طور پر مولانا محمد علی جوہر اور حضرت تھانوی کے درمیان مصالحت اور دونوں کی ملاقات کی کوششوں کا حضرت دریابادی نے خوبصورتی سے ذکر کیا ہےاور کئی اہم باتیں ذکر کی ہیں، اسی طرح حضرت مدنی اور حضرت تھانوی کے اختلافات کی نوعیت اور اس میں دونوں حضرات کا رویہ قابل مطالعہ اور اختلاف کرنے والوں کے لئے ایک درس عبرت ہے، حضرت دریابادی ان گنے چنے حضرات میں سے ہیں جو آخر تک دونوں حضرات سے تمام ہی حالات میں یکساں وابستہ رہے،کیونکہ وہ بیعت تو حضرت مدنی سے تھے،لیکن عملا اصلاحی تعلق زیادہ تر حضرت تھانوی سے تھا، اسی طرح اس کتاب میں شیعوں کی تکفیر سے متعلق علماء دیوبند کے مسئلہ میں پر بھی دونوں کا مکالمہ ہوا ہے،اور حضرت دریابادی کو اطمینان نہیں ہوا ایسے ہی علامہ شبلی نعمانی کے تعلق سے علماء دیوبند کی رائے اور اس پر ان دونوں حضرات کی گفتگو قابل دید ہے۔

مبادی فلسفہ : فلسفہ عموماً مشکل اور دوسری دنیا کا موضوع مانا جاتا پے، ہیولی، صورت جسمیہ، جوہر عرض، وغیرہ کی اصطلاحات مبتدی طالب علم کو کسی اور ہی جہان سے متعلق معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب ان ہی چیزوں کو آسان سہل عام فہم انداز میں روزمرہ کی مثالوں کے ساتھ کوئی سمجھا دے تو معاملہ کافی حد تک سلجھ جاتا ہے، اور ایک گونہ دلچسپی بھی اس موضوع سے پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ دلچسپی کا مدار فہم پر ہی ہے،انسان ناقابل فہم چیزوں میں دل لگا ہی نہیں سکتا،سمجھ میں آنے پر دوسروں کو خشک لگنے والے ریاضی اور فلسفہ جیسے موضوعات بھی بہت ہی مزے دار لگنے لگتے ہیں، حضرت دریابادی نےاس کتاب میں یہی کام کیا ہے، یہ دو جلدوں میں ہے،نیٹ پر بآسانی دستیاب ہے، خاص طور پر پہلی جلد شائقین فلسفہ کو ضرور پڑھنی چاہئے۔

سفر حجاز: حرمین شریفین کی زیارت کا شوق جگانے،اور وہاں کا سفر کر رہے شخص کے اندر امنگیں پیدا کرنے میں یہ کتاب لاثانی ہے، حضرت دریابادی کے خاص اسلوب نے اس مقدس سفر کی سرمستیوں،اور نشاط انگیزیوں کو دوبالا کر دیا ہے۔

مفتی تقی عثمانی :

اصلاحی خطبات : مفتی تقی عثمانی، دین کے الگ الگ مختف مسائل کی مستند، معتدل تشریح، آسان، دل سوز اور پرخلوص انداز میں، خطبات کی موجودہ بھیڑ میں اس سے بہتر اور قابل اعتماد کچھ نہیں، 20 سے زیادہ جلدوں میں پی ڈی ایف بھی بآسانی دستیاب ہے۔

بائبل سے قرآن تک : مفتی تقی عثمانی: مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی شہرہ آفاق عربی کتاب “اظہار الحق” کا ترجمہ، مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس پر 300 صفحات میں مفصل مقدمہ بھی لکھا ہے، تین جلدوں میں ہے، نیٹ پر دستیاب ہے، عیسائیت کی حقیقت کو گہرائی سے جاننے کے اس سے بہتر اردو میں کچھ نہیں لگتا، مفتی صاحب کا مقدمہ مختصرا ایک چھوٹی کتاب “عیسائیت کیا ہے” میں الگ سے بھی چھپا ہے، اس سے بھی ابتدائی معلومات ہو جاتی ہے،لیکن تفصیل کے لئے یہی بہتر ہے کہ مکمل کتاب سے رجوع کیا جائے۔

اسلام اور سیاسی نظریات : دنیا میں پھیلے مختلف سیاسی نظریات کے بیچ اسلام کی حیثیت ومقام کیا ہے، موجودہ وگزشتہ سیاسی نظاموں کی اساس اور بنیادی عوامل کیا ہیں،ان کے اور اسلام کے نظریہ حکومت میں کیا فرق ہے، اسلام کس طرح موجود دنیا کے سامنے درپیش چیلنجز میں اپنے آپ کو فٹ پاتا ہے،کیا اسلام اور جمہوریت ایک ہی ہیں یا کچھ فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو کیا ہے،اور اسلام جمہوریت سے بہتر کس طرح ہے ؟ اسی طرح کے سب سوالوں کو اگر جاننا ہے تو مفتی تقی عثمانی صاحب کی یہ کتاب پڑھ جائیے، عام طور پر یونیورسٹی یا کالج میں سیاسی نظریات ونظاموں کے تعلق سے پڑھنے والا طالب علم کبھی اسلام کے سیاسی نظریہ کو نہیں جان پاتا، نہ ہی وہ ان نظاموں کے ساتھ تقابل کر پانے کی قابلیت رکھتا ہے،کیونکہ وہ ان نظاموں کے اصول و مبادی سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بعض مظاہر سے دھوکا کھاکر ان کو اسلام کے مشابہ سمجھ لیتا ہے، یا پھر ان کا اس حد تک ہی تجزیہ کرپاتا ہے جو اس کے “سلیبس”(نصاب)کا حصہ ہے، یا زیادہ سے زیادہ وہ ان “سفارشی” (Recommended) کتابوں تک ہی رسائی کرپاتا ہے جن تک اس کے اساتذہ یا “ماہرین سیاسیات” رہنمائی کرتے ہیں،اور ان میں اصل عنصر غائب ہوتا ہے۔

اس کے سامنے بس حیرت مارکس کی ملی جلی ملحدانہ تھیوری کی بنیاد پر سیاسی نظام کی شروعات کے سلسلے میں کچھ مفروضے گھڑ کر پیش کر دئیے جاتے ہیں، جنہیں وہ سرمایہ سیاست باور کریتا یے،حیرت ہے کہ سیاسی نظریات ونظاموں کی تاریخ وتجزیہ میں دیگر علمی میدانوں کی طرح اسلام کا نظریہ اور نظام عموما سرے سے غائب ہی رہتا ہے،زیادہ سے زیادہ ایک دو جملوں میں اس کو ایک عمومی اصطلاح “بادشاہی نظام” یا “مذہبی نظام” کا حصہ مان کر الگ سے گفتگو کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ اس کتاب میں مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اسلام کا نظریہ پیش کرکے اس کے ساتھ دیگر کا تجزیہ اور تقابل کیا ہے اور پھر اسلامی نظریہ ونظام کے محاسن اور اس کی برتری پر روشنی ڈالی ہے، سیاست کے ہر طالب علم کو ضرور پڑھنا چاہئے، خصوصاً مدارس کے ان فارغین کو جو یونیورسٹی میں “پولیٹکل سائنس” آپشنل یا مرکزی موضوع کے طور پر لے لیتے ہیں اور “جین جیکس روسو” اور “جان لاک” کے سیاسی نظاموں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔

فقہ البیوع : یہ اگرچہ عربی کتاب ہے لیکن مفتی صاحب کی اہم کتابوں میں شامل ہونے کے سبب چھوڑنا بہتر نہیں لگا، ماڈرن بینکنگ پر مشتمل جدید معاشی نظام کے دور میں اسلام کے معاشی نظام کا جو خاکہ اور جو مسائل کا حل اس میں پیش کیا گیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی، ہدایہ کے کتاب البیوع یا صحیح مسلم کے کتاب البیوع کے ساتھ اس کو پڑھنا ہر طالب علم کے لئے ضروری ہونا چاہئے، بلکہ وقت کی تنگی ہو تو ہدایہ کے کتاب البیوع کی جگہ صرف اس پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے، اس کتاب کی افادیت پر میں پہلے ہی ایک مستقل مضمون لکھ چکا ہوں جو اس لنک پر پڑھا جا سکتا ہے https://urdu.qaram.in/archives/3027

فقہی مقالات : یہ چھ جلدوں پر مشتمل مختلف فقہی احکام سے متعلق نادر مقالات کا مجموعہ ہے، اس میں زکاۃ،بیع، خرید وفروخت کے جدید طریقوں، بینکنگ، شیئر بازار، مشینی ذبح، اعضاء کی پیوندکاری، کرنسی، اجتہاد اور اس کی حقیقت، نکاح، رضاعت، خلع، مبتوتہ کا نفقہ، موزوں پر مسح،غیر مسلموں کے ساتھ سلوک وتعلقات،غلامی، ٹریفک، ووٹ، فارن ایکسچینج اور مغربی ممالک میں پیش آمدہ جدید مسائل کے علاوہ دیگر بہت سے اہم ایشیوز پر مفصل مدلل مقالات شامل ہیں، ان سب مسائل سے واقفیت یا ان کے جوابات میں دو چار لائن کا فتوی کافی نہیں ہے، صحیح سمجھ کے لئے اور دوسروں کو سمجھانے کے لئے مفصل معلومات ضروری ہے ۔

علوم القرآن : قرآنی علوم سے واقفیت اس کی جمع وترتیب کے پس منظر، اس کی تفسیر کے لئے ضروری علوم، معروف ومستند تفاسیر کا تعارف، اور دیگر مسائل کے لئے شاندار کتاب ہے، اس کتاب کی سب سے اہم اور منفرد بحث “سبعۃ احرف” کی بحث ہے، مفتی صاحب نے جس طریقے سے اس کو منقح کیا ہے کہیں اور نظر سے نہیں گزرا، عام پر سات قراءتوں پر ہی سات حروف کا گمان ہوتا ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کو “اختلاف قراءات کی مختلف نوعیتں” قرار دیا ہے اس کا مطلب سمجھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ کرنا پڑے گا، اس کے کچھ ضروری مباحث معارف القرآن تفسیر میں بطور مقدمہ بھی شائع ہوئے ہیں ۔

اس کے علاوہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی “حجیت حدیث” صحیح مسلم کی معرکہ الآرا شرح “تکملہ فتح الملہم” مختلف ممالک کے اسفار کا مجموعہ “جہان دیدہ” اور ” دنیا میرے آگے” اور اسلام کے معاشی نظام کا تعارف ومسائل پر مشتمل 8 جلدوں میں ” اسلام او جدید معاشی مسائل” وغیرہ بھی اہم کتب ہیں۔

مولانا وحید الدین خان :

مذہب اور جدید چیلنج : 1953 میں اس کتاب کا خاکہ مولانا وحید الدین خان صاحب نے 28 سال کی عمر میں جماعت اسلامی کے ایک جلسے میں پیش کیا تھا، اس کی خوب پذیرائی ہوئی، اس کے بعد آخری شکل اس کو دی گئی تو جہاں تک یاد پڑتا ہے 1965 میں یہ کتاب شائع ہوئی،تب سے اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں، عربی میں “الإسلام يتحدى” اور انگریزی میں “God Arises” کے نام سے۔

اس کتاب کا صرف سرسری تعارف بھی اس کا متقاضی ہے کہ اس کو علیحدہ مستقل مضمون کی شکل میں لکھا جائے، ان شاءاللہ بتوفیق خداوندی وہ بھی ہوگا، لیکن سردست اس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خالص یونانی منطق وفلسفہ سے ہٹ کر اسلام کو موجودہ دور کے عقلی استدلال کے پیرائے میں پیش کرنے میں یہ کتاب بے نظیر ہے، اس کی افادیت کا اندازہ اسی بات سے لگ سکتا ہے کہ مختلف عرب یونیورسٹیوں نے اس کو داخل نصاب کیا ہے۔ ظاہر ہے موجودہ دور کا عقلی پیرایہ بیان سائنس کا استدلال اور پیرایہ ہے، سائنس مشاہداتی استدلال اور اس سے اخذ کردہ عقلی و منطقی نتائج اور اس سے اخذ کردہ عقلی و منطقی نتائج کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے،مولانا وحید الدین خان صاحب نے اسی اسلوب میں سب سے پہلے مذہب اور خدا کا اثبات کیا ہے، جو “نیتشے” کے مشہور قول ” خدا مر گیا ہے” کے اعلان کے بعد ( نعوذ باللہ) مغرب میں سائنس کے نام پر الحاد کی چپیٹ میں آچکا ہے، “نیتشے” تو “وجودی” تھا،اس لئے اس کا انسان کو خدا کی جگہ پر براجمان کرنا سمجھ میں آتا ہے،لیکن اس کے اس فلسفے نے الحاد کا بیرئر توڑ دیا، جو مشرق تک کو اپنی زد میں لینے لگا، مولانا وحید الدین خان صاحب نے پوری قوت اور اعتماد کے ساتھ مذہب کی اہمیت اس کے وجود اور پھر ایک خداکی ضرورت کو ان ہی دلائل سے ثابت کیا جو الحاد کے اپنے دلائل سمجھے جاتے تھے، پھر نبوت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو خاص طور پر ثابت کیا، پھر قرآن کریم کو کتاب اللہ ہونا اور اس کی ضرورت کو ثابت کر دیا۔

موجودہ دور میں بڑھتے فکری انحراف، لبرلزم اور انکار خدا کی سرکوبی کے لئے یہ کتاب بھی ہر طالب علم اور فاضل دین کی الماری میں رہنی چاہیے۔

عقلیات اسلام : مولانا وحید الدین خان نے اپنی زندگی کے مشن میں اسلام کو عصری اسلوب میں عصری دلائل کے ساتھ پیش کرنا بھی بتایا ہے، اسلام اور عقلیات اسی کی ایک بہترین کڑی ہے، “مذہب اور جدید چلینج” کی طرح اس میں اصولوں پر مفصل کلام تو نہیں ہے لیکن مختلف جزئی پہلوؤں کو کو دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

سوشلزم اور اسلام : اسلام اور سوشلزم یا مارکسزم پر مولانا نے تین چار کتابیں تیار کی ہیں:
“مارکسزم :تاریخ جسے رد کر چکی ہے”
سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ
اسلام اور سوشلزم
لیکن اگر صرف اس ایک کتاب کو پڑھ لیا جائے تو بقیہ کی ضرورت نہیں رہے گی ان شاءاللہ، سوشلزم کے رد میں جو کچھ میں نے پڑھا ہے اس پر اس سے بہتر علمی تنقید نظر سے نہیں گزری، خاص بات یہ ہے کہ مولانا نے سوشلزم کی اساس اور بنیادی دلائل کو سنجیدگی سے لیکر اس پر گفتگو کی ہے، غیر ضروری جذباتیت، اور علمی تمسخر واستہزا سے پرہیز کرتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے ان دلائل کا عقلی، اور مشاہداتی استدلال سے رد کر دیا ہے۔

جے این یو اور اس کے طلبہ لیڈر کی شہرت کے ساتھ اب مسلمانوں خصوصاً نوجوان کالج کے طبقے میں متبادل کے طور پر بائیں بازو کے نظریات دھیرے دھیرے گھر کر رہے ہیں،سوشلسٹ علمی تفوق اور “وسعت مطالعہ” کے زعم میں خود بھی مبتلا رہتے ہیں اور اپنے مخاطب پر یہی اثر چھوڑتے ہیں، اس لئے اس طبقے میں شامل افراد کو “انٹلیکچوئل” یا دانشور طبقہ عموما خیال کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے مقابل کوئی بھی “ملا” ظاہر ہے دقیانوسیت اور پچھڑے پن کا پیکر ہی ہوگا،اور یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے کہ دینی فضلاء کے حلقے میں اس فکر کی اساس سے واقفیت کم ہی ہوتی ہے، رد تو دور کی بات ہے، اس لئے اس طرح کی کتابیں ضرور پڑھنی چاہیے۔

علماء اور دور جدید : دور جدید میں ایک عالم کا فرض منصبی علمی میدان میں کیا ہونا چاہئے، کیا کچھ تقاضے ہیں جن کو نظر میں رکھنا ضروری ہے،اور کیا کچھ امیدیں ہیں جن پر کھرا اترنا لازمی ہے ؟ مولانا وحید الدین خان کے نزدیک سیاست اور کارزارِ حیات کے دیگر جھمیلوں سے بالکل یکسو ہوکر اسلام کو علمی عصری اسلوب میں پیش کرنا علماء کی ذمے داری ہے،جو مولانا کے الفاظ “کونیت بشری” کی ذمے داری ہے، یعنی علماء کا رول یہ ہے کہ وہ ہر دور میں تکوین شعور اور شاکلہ انسانی کی تصحیح کرتے رہیں۔

مولانا وحید الدین خان کے بقول شاہ ولی اللہ سے لیکر آج تک کوئی بھی عالم،اسلام کے تعارف اور اس کے نظریہ کو پیش کرنے والی ایک ایسی کتاب تیار نہ کر سکا جو عصری علوم کے دلائل سے بھرپور ہو،اور دنیا کے سامنے اسلام کی قیادت وعقلی وعلمی تفوق کاسکہ جما سکے، شاہ ولی اللہ کا شاہکار “حجۃ اللہ البالغہ”، مولانا مودودی کی شہرہ آفاق تفسیر “تفہیم القرآن” اور مولانا علی میاں ندوی کی معرکۃ الآرا ء تصنیف “ماذا خسر العالم” جو اسلام ومسلمانوں کی ترجمان سمجھی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی کتاب بشمول دیگر کتب اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکی، کیونکہ ان حضرات نے قائدانہ نہیں “حفاظتی کردار” ادا کیا ہے اور دیں اللہ کی “عقلی تبیین” کے بجائے، “تقلیدی تبیین” ہی پیش کر سکے۔

مولانا وحید الدین خان کی اس رائے نااتفاقی کی پوری گنجائش ہے، اور راقم السطور بھی اس موقف کو پورے طور سے بجا نہیں سمجھتا،لیکن اس رسالے میں مجموعی طور پر علماء کی ذمے داری اور فرض منصبی کے تعلق سے جس انداز میں گفتگو کی گئی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

تعبیر کی غلطی : مولانا مودودی کے افکار وخیالات اور ان کے اسلام کی ترجمانی کے سلسلے میں اختیار کئے گئے طریقے سے شروع سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے، مختلف علماء اور سکالرز نے اپنے اپنے انداز میں اپنے اختلاف کو ظاہر کیا، کتابیں لکھیں، مولانا وحید الدین خان نے 15 سال جماعت اسلامی میں رہنے کے بعد اس جماعت اور اس کے بانی کی فکر کا گہرائی سے تجزیہ کیا، اور اپنے انداز کے مطابق جوش وجذبات کے بجائے بڑی ہی سنجیدگی سے جائزہ لیا،اور پھر جماعت کے فکری اساس پر علمی انداز میں تنقید کی،جماعت پر اتنا گہرا نقد شاید ہی کسی نے کیا ہو، یہ کتاب بھی پڑھنی اس لئے ضروری ہے تاکہ طلبہ وعلماء کو جماعت کی اساس سے واقفیت کے علاوہ جذباتی اور ذاتیات سے در خالص علمی اسلوب میں موضوعی تنقید کا سلیقہ اور طرز سیکھنے کو ملے ۔

اس کے علاوہ مولانا کی اہم کتابوں میں “عظمت قرآن”، “اسلام دو جدید کا خالق”، “مذہب اور سائنس” خاتون اسلام”، “پیغمبر انقلاب” “تبلیغی تحریک” اور “راز حیات” بھی کچھ عمدہ کتابوں میں سے ہیں ۔

ابھی کے لئے اتنی کتب کا تعارف کافی ہے،ان شاء اللہ توفیق رہی تھی کچھ اور کتابوں پر ہلکی پھلکی گفتگو کہ جائے گی، بس چند متفرق کتب کے نام اور لکھ دیتا ہوں۔

اشاعت اسلام : مولانا حبیب الرحمن عثمانی، یہ کتاب خاص طور پر مجھے بیحد پسند ہے، اس میں اسلام کی اشاعت کے تعلق سے اس اعتراض کا محققانہ انداز میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا واقعی اس اعتراض میں کچھ دم ہے، خاص بات یہ کہ اس کے لئے کوئی معذرت خواہانہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے بجائے جوں کا توں پوری بیباکی اور خودداری سے ایمانی قوت کے ساتھ حقائق کو رکھ دیا گیا ہے، مصنف کے دل میں اسلام کی حقانیت اور اس کی ابدی صداقتوں کا غیر متزلزل یقین سطر سطر میں جھلکتا ہے، یہ بات اس لئے بھی اہم ہو جاتی ہے کہ مصنف نے جابر انگریزی حکومت کے دور میں تحریک ریشمی رومال کے سایوں میں یہ کتاب لکھی ہے، ایسے وقت جب دارالعلوم دیوبند اپنے سرخیل حضرت شیخ الہند کی جدو جہد کے سبب انگریزوں کو کھٹکتا تھا، جہاد کے موضوع پر منصفانہ قلم اٹھانا بڑے جگرے کے کام تھا۔
اس کتاب میں خاص طور پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ کی شخصیت، آپ کے جنگی کارناموں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت پر تقریبا 250 صفحات میں جو شستہ، رواں اور سبک انداز میں شاندار محققانہ بحث کی ہے وہ شاید ہی اتنی تفصیل اور تحقیق کے ساتھ کہیں ملے۔
کتاب کی اہمیت اور مصنف کے علمی پایہ کا اندازہ اس سے ہو جاتا ہے کہ اس کی تقریظ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اور حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہما اللہ نے لکھی ہیں،اور ایسے محتاط ومتقی حضرات کا مصنف کی شان میں تعظیمی کلمات ادا کرنا، مصنف کی علمی عظمت کی روشن دلیل ہے، راقم السطور کے والد بزرگوار فرمایا کرتے ہیں کہ علماء دیوبند میں صرف دو شخص ایسے گزرے ہیں جو اعلی درجے کے مدبر،مبصر اور ایک ملک کے انتظام وانصرام کو سنبھالنے کا سیاسی شعور رکھتے تھے،اور اگر ان کو سیاست وحکمرانی کے میدان میں آگے جانے کے مواقع ہوتے تو ان کی کامیابی کی داستان کچھ اور ہی ہوتی، ان میں سے ایک تو مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ تھے جن کو کچھ نہ کچھ اپنے جوہر اس میدان میں دکھانے کا موقع میسر آیا اور دوسرے اس کتاب کے مصنف دارالعلوم کے مہتمم خامس حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی رحمہ اللہ تھے، اور واقعی علامہ کشمیری جیسی نابغہ روزگار ہستی کے دارالعلوم سے بہت سے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ڈابھیل چلے کے بعد جب لگا کہ دارالعلوم اب بکھر جائے گا تو یہ مولانا حبیب الرحمن عثمانی ہی تھے جنہوں نےحسن خوبی سے معاملہ سنبھال لیا،اور ساتھ ہی حضرت شیخ الہند کی تحریک کے دور میں بھی ہر بری نظر سے دارالعلوم کو صاف نکال لانے میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔
میں نے کہیں یہ بھی پڑھا ہے کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ پر کسی کے علم کا رعب نہیں پڑتا تھا،لیکن مولانا عثمانی کے علم وفضل کا ان پر بھی کافی اثر تھا۔

شاہ ولی اللہ اور ان کا سیاسی فلسفہ : مولانا عبیداللہ سندھی، بہت دلچسپ کتاب ہے تفصیلی تبصرہ پھر کبھی، بس سردست اتنا ہی کہنا ہے کہ یہ کتاب سبھی ساتھی ضرور پڑھیں، اگر اب تک نہیں پڑھی ہے تو، اس میں مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کا ایک الگ اور انوکھا ہی فلسفہ دیکھنے کو ملتا ہے جو اسلام کی عالم گیریت اور اس کی آفاقی تعلیمات کی نوجوانوں کے مابین ترسیل وتبلیغ کے لئے وہ پیش کرتے ہیں، اور اس کو وہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے افکار سے مستنبط مانتے ہیں۔
مثلا موطا امام مالک کو بخاری پر ترجیح۔
عقیدے کے لئے قرآن پر ایمان کو کافی سمجھنا۔
برصغیر ہند وپاک میں تصوف اور فقہ حنفی کے رواج کو یہاں کے ہندو رشی منی کے نظریہ سے تال میل کے باعث مفید گرداننا وغیرہ۔۔۔
دلچسپ کتاب ہے اور نئے فکر ونظریہ کی راہ کھول کر دیوبند کے ایک فرد کی نظر چیزوں کو الگ سے دیکھنے کا ایک زاویہ پیش کرتی ہے جو مجموعی فکر سے بظاہر ہم آہنگ نظر نہیں آتا، اور میرے خیال سے تو متفقہ فکر اسلامی سے بھی کچھ چیزیں ہٹ کر ہیں، لیکن حضرت سندھی کی ذہانت، جذبہ اسلامی، اور حمیت بے مثال ہے۔

جاوید نامہ مع شرح یوسف سلیم چشتی : علامہ اقبال، مسئلہ معراج کو الگ ہی انوکھے انداز میں اقبال نے ثابت کیا ہے، بہت ہی اعلی درجے کی کتاب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کے بعد شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے “فتوحات” میں اپنی ایک کشفی معراج کا ذکر کیا ہے، 14 ویں صدی عیسوی میں اٹلی کے مشہور شاعر “دانتے” نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی اور شیخ اکبر کی معراج کشفی سے استفادہ کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں 1308 سے 1320 عیسوی تک 12 سال کی مدت میں آسمانوں سے پرے اپنے ایک روحانی سفر کو پیش کیا جو “ڈوائن کامیڈی” کے نام سے ادبی دنیا میں مشہور ہوا، اس کو عالمی ادب میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے اور یورپ کے اندر تو اس طرز کی بنیاد رکھنے والا “دانتے” ہی مانا گیا۔
اقبال نے “دانتے” کے چھ سو سال بعد اپنی آخری تصنیف “جاوید نامہ” اپنی فکری معراج کا ذکر کیا اور وہاں کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے معراج کے تصور کو گویا ایک حقیقت بناکر پیش کر دیا۔ یہ کتاب اقبال اور فلسفہ میں دلچسپی رکھنے والوں کو توضرور ہی پڑھنی چاہئے۔

تاریخ تصوف : پروفیسر یوسف سلیم چشتی
تصوف کی حقیقت کیا پے اس کی ابتدا کیسے ہوئی، ہندوستان کے جوگیوں رشیوں اور منیوں کاتصوف اسلامی تصوف سے کس قدر مختلف ہے، دونوں میں قدر مشترک کیا ہے،ہندو مذہب کی قدیم کتابوں “اپنیشد” اور “پرانوں” میں تصوف کا کیا تصور ہے، تصوف میں کس قدر حصہ اسلام کے اساسی مراجع سے ہم آہنگ ہے کتنا غیروں کی آمیزش ہے، اس طرح کی بہت سی چیزوں کے لیے یہ کتاب مفید ہے۔

معرکہ مذہب وسائنس : مولانا ظفر علی خاں : یہ کتاب بہت بہترین ہے، مولانا ظفر علی خاں صاحب کا ترجمہ اور ضروری تشریح واسلامی موقف کی وضاحت بھی پڑھنے کے قابل ہے۔

تاریخ اسلام : مولانا معین الدین ندوی

تاریخ افکار وعلوم اسلامی : علامہ راغب الطباخ

نقش دوام : مولانا انظر شاہ کشمیری، علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح، اس میں جہاں کتاب کے محتویات سے قاری فائدہ اٹھاتا ہے وہیں اعلی درجے کی انشا پردازی اور شاندار تراکیب میں فصیح،بلیغ اردو سے محظوظ ہوکر زبان وبیان کا ذائقہ بھی محسوس کرتا ہے۔

صور من حیاۃ الصحابہ : عبد الرحمن رافت الباشا ، ایمانی حرارت وسوز وساز کے لئے یہ بے نظیر ہے۔

صور من حیاۃ التابعین : عبد الرحمن رافت الباشا، یہ بھی پہلی کے مثل ہی ہے۔

شوق وطن : قاری طیب صاحب،حضرت تھانوی

سردست ان کتب سے کام چلائیں، اردو کی مزید کتابوں کے علاوہ عربی انگریزی کتب کا تذکرہ کسی اور وقت کیا جائے گا بشرط توفیق، میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی کتب کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا تھا،لیکن اس پر تھوڑا تفصیلی تعارف لکھنے کا ارادہ ہے،یہ تحریر مزید لمبی ہو جاتی اس لئے پھر کبھی ان شاءاللہ۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...