Home » ادب » کچھ اشعار اپنی یادیں ساتھ لۓ یاد رہتے ہیں: محمد عمر
ادب

کچھ اشعار اپنی یادیں ساتھ لۓ یاد رہتے ہیں: محمد عمر

مجھے خوب یاد پڑتا ہے کہ سات آٹھ برس قبل کمرے کی الماری پر اک اخبار بچھا تھا میں نے یہ سوچتے ہوئے اخبار پہ رکھی چیزیں سرکا کر نظر ڈالی کہ شاید کوئ اچھا شعر مل جائے یہ وہی زمانہ تھا جب شعر خوانی کی دھن پہلے پہل سوار تھی نظر پڑی تو یہ شعر پڑھنے کو ملا
آپ تسلیم کریں یا نہ کریں
آپ سا کوئ بسا ہے دل میں
اور ‘پڑھتے ہی دل میں جو اتر جاۓ’ کی طرح اتر گیا لیکن اب یاد نہیں پڑتا شعر کس کا تھا
سیدھا سادا آسان فہم شعر تھا کہ آپ خود مختار ہیں سنیں نہ سنیں مانیں نہ مانیں لیکن آپ سا کوئ بسا ہے دل میں
لیکن یہ کسک دل میں پھانس بن کھٹکتی ہے کہ شاعر کا نام نہ یاد رہا، یہ تو ہوئ یاد کی بات، آگے سنۓ
اچھا شعر سن کر یا پڑھ کر اگر آپ کے دل میں تخلیق کار کی جستجو نہیں اٹھتی ہے تو یہ سند ہے اس بات کی کہ آپ ‘کور ذوق’ واقع ہوۓ ہیں
یہی ذوق و جستجو تلاش و فکر انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے
لوگ خدا کا کلام سن کر بھاگتے بھاگتے چلے آئیں اور بالآخر مشرف بہ اسلام ہوئے
بہرحال آپ دو واقعے سنیں
میں اک جلسہ میں شریک تھا وہاں میں نے اک شعر سنا
جلیل آساں نہیں آباد کرنا گھر محبت کا
یہ ان کا کام ہے جو زندگی برباد کرتے ہیں
شعر سن کر تو میں جھوم اٹھا اور غائبانہ خوب داد دی اور بار بار شعر پڑھتا رہا لیکن شعر کس کا ہے؟ یہ بات مجھے بے چین رکھتی تھی ہاں یہ آسانی تھی کہ کوئ جلیل ہیں لیکن کون جلیل القدر ہیں ہمیں معلوم نہ تھا کئ دنوں تک سر کھپاتا رہا ہے کہ معلوم کروں کون صاحب ہیں اور ایسا کوئی سخن کا دلدادہ بھی موجود نہیں تھا جو مجھے بتاتا کہ شعر کس نے تخلیق کیا ہے نہ ہی اپنے پاس موبائل تھا کہ سرچ کرتا لیکن شعر سوال بن کر اٹک گیا کئ مہینے بعد آخرکار جان لیا کہ یہ حافظ جلیل حسن مانِکپوری ہیں پرتاب گڑھ میں کوئ بستی مانکپور ہے وہیں سے علاقہ رکھتے ہیں حضرت امیر مینائی کے شاگردِ خاص ہیں اشعار اس پاۓ کے ہیں حضرت داغ و حضرت امیر سے پہلو مارتے ہیں حیدرآباد میں نواب کے دربار سے بھی منسلک رہیں رامپور میں بھی کچھ دن قیام رہا اور فن شاعری میں استادانہ مہارت رکھتے ہیں داستان لمبی ہو رہی اس لۓ جلیل صاحب کا ذکر چھوڑ کے اصل واقعے پہ آتے ہیں
خیر جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ‘تاج سخن’ پڑھی یہ اسی جستجو کا نتیجہ تھا کہ ایسے عمدہ عمدہ شعر ہاتھ لگے کہ صلّ و جلّ!
تو آج حضرت جلیل کے جس قدر اشعار مجھے یاد ہیں یہ اسی ذوق کا نتیجہ ہے اور صرف اشعار ہی نہیں آپکی کئ کتابیں جنکے بارے میں مجھے کوئی نہ بتاتا معلوم ہوئیں
معیار اردو
سوانح حضرت امیر مینائی
تاج سخن
عروس سخن
وغیرہ وغیرہ
یہ تو ہوا ایک واقعہ اب کور ذوقی کا واقعہ سنۓ اس سے پہلے حضرت جلیل کے دو اشعار سنۓ اور سر دھنۓ ویسے حضرت جلیل کے اشعار تو ہم کثرت سے لگاتے ہیں یہ اشعار گو لگا چکے ہیں مگر پھر بھی
نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
حسنِ انسانی کی کیا تعریف کی ہے اور بلا مبالغہ کی ہے، بغیر تشبیہ کے کی ہے بلکہ جن تشبیہات کے سہارے تعریف کی جاتی ہے انکی تنکیر کی ہے
دوسرا شعر واقعے میں شامل ہے، واقعہ یوں ہے کہ ہمارے استاذ صاحب درجہ میں بیٹھے پڑھا رہے داہنی جانب جو لڑکے بیٹھے تو وہ غافل تھے استاذ سبق پڑھا رہے تھے وہ اپنا کہیں اور مست تھے مولانا کی نظر پڑ گئ سخت برہم ہوئے اور کہنے لگے
‘بغل میں بیٹھتے ہو اور اس قدر غافل ہو، پہلو میں بیٹھنے والے کو سنبھل کر بیٹھنا چاہئے’
میں نے جھٹ سے کہا کہ ‘مولانا شعر یاد آ رہا ہے’ کہا ‘ارشاد ہو’ میں سنانے چلا تو شعر ذہن سے نکل گیا میں تھوڑی دیر چپ رہا اور خاموشی کا سبب بتانے لگا کہ شعر یاد آیا تھا مگر اب یاد داشت کی گرفت سے نکلا جاتا ہے انھوں نے فرمایا کہ جب تک یاد نہیں آتا سب خاموش رہیں گے اتنے میں یاد آ گیا اس وقفہ کا فائدہ یہ ہوا کہ ساری جماعت میری طرف متوجہ ہو گئ ہمنے شعر پڑھا
آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں
دلِ بے تاب کو عادت ہے مچل جانے کی
مولانا تو اچھل پڑیں، شعر واقعہ کی ترجمانی کر رہا تھا زور سے سبحان اللّٰہ کہا اور شعر کئ مرتبہ پڑھوایا، پاس بلایا جیب سے سو روپے نکال کر بطورِ انعام یہ کہتے ہوئے تھمایا کہ پورے نہیں دے سکتا آپ بیس روپیہ رکھ کے اَسّی روپۓ مجھے لوٹا دیجئے گا (شاید انکے پاس اس وقت کل اتنی ہی رقم تھی)
یہ انہیں حضرت جلیل القدر جلیل مانک پوری کا شعر ہے جو بجلی بن کر درجہ میں کوندا ذوق کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اک شعر کی جستجو نے شاعر تک پہنچایا اور شاعر نے پورا دیوان تھمایا اور پھر دیوان کی بدولت بر موقع شعر پڑھا، محفل لوٹی، انعام ملا، دعائیں ملیں
اور آخری بات یہ کہ درجے کے تمام بچے مجھ سے شعر لکھا کر لے گئے لیکن ایک نے بھی نہ پوچھا کہ
”شعر کس کا ہے”
نہ طالب علم نے نہ ہی استاذ نے
یہ ہے ہماری کور ذوقی……….

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...