Home » ادب » بکری
ادب

بکری

محمد عمر

سب سے پہلے ‘کٹکھنے’ کے عنوان سے مرغ میاں رنگ باز کی کہانی لکھی تھی جن نے اک مہمان نوازی کے موقع پر شہادت پائی اور نصف درجن بیگمات کو بیوہ کرکے خود راہئ ملک شکم ہوئے
اس سے پہلے چوہے اور انکی خالہ جان معروف بہ بلی کا ذکر ہو چکا ہے، اور بیتے دنوں امہات المشرکین یعنی گؤماتا پر روشنی ڈالی گئی تھی، اسی دوران یہ حکم ملا کہ کچھ بکری پہ بھی ہو جائے
سو بکری بھی چوپاؤں میں اک گوناگوں حیثیت رکھتی ہے ہاں وہ مقام و مرتبہ جو ہندوستان میں ہندؤں کی والدہ ماجدہ کو حاصل ہے اور عرب میں مسلمانوں کے پدرِ بزرگوار یعنی اونٹ کو اس بیچاری کو کہیں میسر نہیں
بلیاں زیادہ چاہی جاتی ہیں، کتوں کو نرم و گرم آغوشیں میسر ہیں، اور کتوں جیسی شکل والوں کو (آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں) لیکن بکری کی طرف سے منھ پھیر لیا گیا
خیر ‘نظر انداز’ بکری دودھ بھی دیتی ہے اور مینگنی بھی اور کبھی کبھی مینگنی بھرا دودھ بھی، بکری سے شاید کوئی جانور نہیں ڈرتا اور خود خوف و دہشت کا استعارہ سمجھی جاتی ہے اہل فارس شاید اسی خاطر کمزور دل اور ڈرپوک انسان کو بزدل کہتے ہیں
چرنے چبانے میں کوئی انکا ثانی نہیں گاؤں کے لڑکے شرارتاً دوسروں کے کھیتوں میں اپنی بکریاں اتار دیتے ہیں اور پھر یہ اس سجے سجائے دسترخوان کا خدا کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے وہ حشر کرتی ہیں جو حشر موجودہ حکمران ملک و معیشت کا کر رہے ہیں
چرنے میں یہ اس قدر مگن ہو جاتی ہیں گھر لوٹنا نہیں چاہتی اسی مارے اک ہنکانے والا ساتھ رہتا کہ سانجھ ہوتے ہوتے انکو گھر ہانک لائے
میں نے اوپر لکھا کہ بکری دودھ بھی دیتی ہے اور مینگنی بھی گر چہ مینگنیاں کسی کام کی نہیں وہ کہتے ہیں نا کہ ‘بلی کا گُہ نہ لیپنے کا نہ پوتنے کا’ البتہ طبِ یونانی کی یا جڑی بوٹیوں کی جو گولیاں آتی ہیں وہ ہو بہو مینگنیوں کی ہم شکل و ہم رنگ و ہم وزن ہوتی ہیں اب وہ گولیوں کے نام پہ کیا دیتے ہیں یہ وہ جانے اور انکا ایمان
بہر حال بکری ان دونوں کے علاوہ ہمیں اک چیز اور دیتی جسے ہم بکرا یا خصی کہتے ہیں انسے ہمارا بڑا کام نکلتا ہے آج بازار میں ایک سے ایک بانکے ترچھے سینگ والے خوش قد و خوش رنگ بکرے رونقِ بازار و گرمئ بازار بنے کھڑے ہیں
جو قربان ہوتے ہیں، انکی ماں بکری کو انکا دکھ نہیں ہاں وہ ‘خیر منانا چھوڑ دیتی ہے’ اور ویسے بھی بکرے کی ماں جو ٹہری کب تک خیر مناتی؟
لیکن فرضی غم جتانے والوں سے یہ دل دوز و جاں سوز منظر نہیں دیکھا جاتا ہمدردی کا کیڑا رینگنے لگتا ہے اور رونے پیٹنے لگتے ہیں انکی ہمدردی اور انسانیت کی انتہا یہی ہے کہ کتوں کو گود میں کھلایا جاۓ، معراجِ انسانیت یہی ہے کہ قربانی کے جانوروں پر آٹھ آٹھ آنسو بہا لۓ جائیں اور اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا
خیر بات بکری کی تھی سب سے پہلے یہ سلسلہ چھڑا تھا کہ جملہ چوپاؤں میں بکری بھی اپنا کچھ مقام رکھتی ہے جی ہاں بکری بڑی خوش نصیب واقع ہوئی ہے پیغمبر کلیم اللّٰہ نے آٹھ سال تک بعوضِ مہر بکریاں چرائیں اور خود پیغمبر آخر الزماں نے بکریاں چرائیں اور ایں سعادت بزورِ بازو نیست………

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...