Home » سائنس » معمۂ شعور : محمد عمیر
سائنس

معمۂ شعور : محمد عمیر

گلیلیو کو بابائے سائنس کہا جاتا ہے، جن بنیادوں پر آج سائنس کی بظاھر مضبوط عمارت استوار ہے وہ درحقیقت گلیلیو ہی کی اٹھائی ہوئی ہیں۔ مادی دنیا کی اس فلک بوس ترقی کے لئے گلیلیو نے آخر وہ کیا نئی شے غور و فکر کا حصہ بنائی یا یوں کہیں کہ انسانی تاریخ کے وہ کون سے پرانے سوالات تھے جنہوں نے حقیقت تک پہنچنےکی جستجو میں فلسفیوں، سائنسدانوں  اورمفکروں کو الجھا رکھا تھا، لیکن گلیلیو نے جب ان سے صرف نظر کی تو سائنس کی ترقی کے راستے کھلتے چلے گئے؟

 

 در اصل گلیلیو نے موجودات کے خصائص کو کیفیات (جنہیں ریاضی کی زبان میں بیان کرنا ممکن نہیں، جیسے رنگ بو، مزہ، صوت)  اورکمیات(وہ خصائص جو ریاضی کی زبان میں ادا کئے جاسکتے ہیں، جیسے سائز، شکل، عدد، وزن) کے دو خانوں میں تقسیم کرکے کیفیات کی بحث کو سائنس اور علم کے دائرے سے خارج کر دیا، اور کمیات کو سائنس وعلم کا موضوع قرار دیا۔  ایک جہت کو مکمل فراموش کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ تو ترقی کرتے کرتے ہواؤں اور فضاؤں میں اڑنے لگا لیکن خود انسان تنزلی کی پستیوں میں گرتا چلا گیا۔

 

گلیلیو نے سائنس کا مدار میتھمیٹکس کے اصولوں پر رکھا، لہذا آم کا وزن، حجم، شکل، ساخت، اسکے رنگ کی ویولینتھ کو تو موضوع بحث بنایا جا سکتا ہے، لیکن آم کی خاص خوشبو، اس کا ذائقہ، اس کا محسوس ہوتا ہوا رنگ گلیلیو کی سائنس کے دائرے سے خارج ہوگا۔ یعنی سائنس اس بات سے تو بحث کرے گی کہ آم کے (پیلے) رنگ کی ویولینتھ 575 نینو میٹر ( ایک میٹر کا اربواں حصہ) ہوتی ہے لیکن یہ بات اس کے دائرے سے باہر ہے کہ وہ “پیلا” رنگ مجھے اور آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے یا دکھائی دیتا ہے۔ آم سے ٹکرا کر روشنی کی شعاع جس کی ایک خاص ویولینتھ ہے انسان کی آنکھ کے ریٹنا سے ٹکراکر، وہاں سے بجلی کے سگنل کی شکل میں دماغ کے نیورونز تک پہنچی، یہ سب رنگ کے ادراک کا مادی پس منظر ہے لیکن ان تمام مادی روابط کے درمیان یہ پیلے رنگ کا خاص شعور (جو ممکن ہے ہر انسان کا ادنی رد و بدل کے ساتھ الگ الگ ہو) کہاں سے پیدا ہو گیا اسکا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے، کیوں نہیں ہے، کیونکہ اس کے بابا نے سائنس کو کیفیات کی تشریح کے لئے وضع ہی نہیں کیا تھا۔

 

گلیلیو کا ایک مشہور سوال تھا کہ اگر ایک بیابان میں، جہاں سننے والا کوئی کان موجود نہ ہو، کیا درخت کے گرنے پر کوئی آواز پیدا ہوگی؟ جواب تھا نہیں ہوگی صرف ویوز پیدا ہوں گی، کیونکہ درخت کے گرنے پر ایک خاص قسم کی آواز کا اپنے کانوں سے سننا کیفیات کی قبیل سے ہے اور اسکے اس مادی جہان میں صرف کمیات ہی کا گزر تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ گلیلیو کیفیات کا انکار کرتا تھا، بلکہ وہ اسے بس سائنس کے میدان سے خارج سمجھتا تھا، وہ ثنویت (ڈوئلزم) کے نظریے کا حامل تھا، اس کے نزدیک روح ایک بالکل علیحدہ شے ہے اور تمام احساسات، جذبات اور کیفیات اسی سے وابستہ ہیں لیکن وہ سائنس کے دائرے سے خارج ہیں، انہیں مانا جائے گا لیکن انسے بحث نہیں کیجائے گی۔

جستجوئے حق: محمد عمیر

 

حیرت انگیز طور پر اسکے بعد آنے والے سائنسدانوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ جو بات اس سائنس کے دائرے سے خارج ہو وہ بھی اپنا ایک وجود رکھتی ہے اور اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا، وہ اس بات پر مصر ہو گئے کہ جو بات سائنسی اصول سے ثابت ہوگی وہی تسلیم کی جائے گی ورنہ رد کر دی جائے گی یا زیادہ سے زیادہ اپنی “اعلی ظرفی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا جائے گا کہ ہم ابھی اس کی جستجو میں ہیں جب ہم اس کو دریافت کر لیں گے تو قبول کر لیں گے۔ آج خدا کے وجود، روح، انسانی عقل و شعور کے متعلق ان کا یہی کہنا ہوتا ہے۔ حالانکہ جن اصولوں کی بنیاد پر  تحقیق کا یہ دعویٰ ہے اس کی سمت ہی الٹی ہے، اس سمت پر چل کر یہ ان حقیقتوں سے اور دور ہوتے چلے جائیں گے، اس کے قریب جانے کی بس یہی صورت ہو سکتی ہے کہ زیادہ دور نکل جانے کی صورت میں انہیں احساس ہو کہ ہم شاید غلط سمت پر نکل پڑے ہیں ورنہ اب تک ہمیں منزل کا حصول ہو گیا ہوتا، اور اس احساس کے بعد وہ اپنی راہ درست کر لیں۔

آج شعور کا سوال انتہائی دشوار معمی سمجھا جاتا ہے ، اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا، اس کو  فلسفے کی زبان میں “ہارڈ پرابلم” یا مشکل مسئلہ کہا جاتا ہے۔ “ابھی کوشش میں ہیں، سائنس اس کا حل نکال لے گی” کہہ کر جان چھڑائی جاتی ہے، حالانکہ جیسے اوپر ذکر ہو چکا کہ جب سائنس اس کے لئے وضع ہی نہیں کی گئی تو وہ اس کا حل کیسے نکالے گی؟

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے شعور کو مادی بتانے کی ایک بھونڈی کوشش کی جاتی ہے، دعوی کیا جاتا ہے کہ خالص مادے کی بنیاد پر شعور پیدا کیا جا سکتا ہے اسکی دلیل آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہے۔ لیکن زرا غور کریں کہ کیا کوئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی روبورٹ انسانوں کی طرح چلتی ہواؤں، بہتے دریاؤں، اٹھتی موجوں، گرتے آبشاروں، پھوٹتے چشموں، چڑھتے سورج، برستی بارشوں، مہکتی خوشبوؤں کا احساس و ادراک کر سکتا ہے، جواب یقیناً نفی میں ہوگا، ایک مثال سے یہ بات اور واضح ہو جائے گی۔

 

 کمرے کے اندر ایک چینی زبان سے نا آشنا شخص کو بند کر دیا جائے ساتھ اس کے سامنے ایک ضخیم کتاب رکھ دی جائے جس میں چینی زبان میں جتنے بھی سوال و جواب اور رد و قدح ہو سکتی ہے درج کر دی جائیں، اب باہر سے آپ چینی زبان میں مختلف سوالات پر مبنی پرچے دروازے کے نیچے سے کھسکانا شروع کریں، اندر بیٹھا ہوا شخص اس کتاب میں اس انپٹ کا آؤٹ پٹ تلاش کرے گا( واضح رہے کہ کتاب میں انپٹ اور آؤٹ پٹ دونوں درج ہیں، اسکا کام صرف باہر سے آئے پرچوں کو ملانے کا ہے) اور اس کا جواب دروازے کے نیچے سے ارسال کر دے گا، باہر موجود لوگ سمجھیں گے کہ اندر ایک با شعور چینی زبان کا جاننے والا بیٹھا ہے، جبکہ اندر اس شخص کے جواب دینے میں شعور کا کوئی دخل نہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا کام‌بھی بس اتنا ہی ہے، اس کی ترقی بس اس چینی کتاب کو ضخیم سے ضخیم تر بنانا اور سوالات کے جوابات دینے میں تیزی پیدا کرنا‌ ہے، یہ خالص مادے کی بنیاد پر سر انجام دیا جاتا ہے اس میں شعور کا کوئی دخل نہیں۔

 

بعض لوگ اس شعور کے معمے کو حل کرنے کی کوشش میں اس انتہا تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ سرے سے اس کا انکار ہی کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف مادیت ہی مادیت ہے شعور کسی شے کا نام نہیں، یہ بس آپ کے ذہن کی اپج ہے۔ ان کا جواب یہ ہے کہ صرف ایک شعور ہی تو ہے جس کی بنیاد پر ہم خود کو ایک دوسرے کو حتی کہ جس سائنس پر آپ کو ناز ہے اس کو پہچانتے ہیں، شعور و احساسات اگر نہ ہوتے تو کیا کبھی ہم اپنے مشاہدات، تجربات کی بنیاد پر سائنس کو وضع کر پاتے؟ یہ تو اسی طرح ہوا کہ ٹیلیسکوپ کی مدد سے ستارے کو دیکھا پھر ستارے کے وجود کا تو اقرار کر لیا لیکن ٹیلیسکوپ کے وجود کو سرے سے نکار دیا۔ کیا اندھاپن ہے یہ؟

 

ایک کوشش یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ دیکھو شعور کا وجود اس مادی ڈھانچے سے ہی ہے، اسے تباہ و برباد کر دو شعور بھی نا پید ہو جائے گا، اس کا جواب یوں دیا جاتا ہے کہ اگر ریڈیو سگنل کے مظہر ٹیلیویژن کو توڑ دیا جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریڈیو سگنل بھی ختم ہو گئے، ہر گز نہیں، ریڈیو سگنل تو ابھی بھی موجود ہیں۔

 

آج کل کے کچھ ملحد ان تمام باتوں کے منکشف ہو جانے کے بعد بھی ان حقائق کو تسلیم کر لینے کے لئے تیار نہیں ہیں، اب ایک طبقہ پینسائکزم (ہر شے کی ایک روح ہے) کا قائل تو ہوا ہے لیکن خدا کے وجود کا پھر بھی انکاری ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آج سائنس کسی بھی چیز کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کے “کیوں” کو نہیں بتا پاتی۔ مثلاً پہلے یہ سوال تھا کہ یہ سیارے سورج کے گرد کیوں گھومتے ہیں، نیوٹن نے اس کا جواب قوت کشش سے دیا، اب یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ قوت کشش کیوں پیدا ہوتی ہے، اسکا جواب آئینسٹائن نے دیا کہ سورج یا کوئی بھی وزنی شے اپنے گرد کی جگہ کو موڑ دیتی ہے جسکے اثر سے دونوں وزنی شے ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ آج لوگ اس جواب کو لیکر اڑ جاتے ہیں کہ دیکھو سائنس تمام چیزوں کے جواب رکھتی ہے، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے بعد بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزنی شے اپنے ارد گرد کی خلا کو کیوں خم کر دیتی ہیں یا موڑ دیتی ہیں اور پھر ایک دوسرے کی طرف مائل ہونے میں وہ نزدیکی راستہ (شارٹیسٹ روٹ) کیوں اپناتی ہیں۔

 

اسی طرح سینکڑوں جوابات میں سے “کیوں” کے سوال پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب اب بعض لوگ ہر شے کی اپنی ایک خاص روح اور شعور ہونے کی صورت میں تو دے رہے ہیں لیکن ان تمام چیزوں کے پیچھے جو ایک کار فرما قوت اور علت العلل وجود باری تعالیٰ ہے، اس سے منہ موڑے جا رہے ہیں؟

دنیا کی ہر شے کے “کیسے” کے سوال کو تو سائنس، تجربات اور مشاہدات کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن “کیوں” کا سوال بغیر وجود باری تعالیٰ کو تسلیم کئے حل نہیں کیا جا سکتا۔درحقیقت وہ سائنس اس قابل ہی نہیں ہے جسے بنیاد بنا کر مذہب اور خدا کے وجود کو رد کیا جاتا ہے ، اس کے پاس وہ جسم تو ہے جس کے ذریعے وہ عالم سفلی میں رینگ سکے لیکن وہ پر نہیں جس کی مدد سے اس کی رسائی عالم بالا کی پر اسرار فضا کے حقائق تک ہو سکے۔ یہ سائنس نہیں جو مذہب اور خدا کے وجود کا انکار کرتی ہے بلکہ یہ فلسفۂ سائنس ہے جس کے ناپائیدار اصولوں اور مفروضات کی بنا پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس عالم کا کوئی مالک حقیقی نہیں۔ سائنس اور شے ہے، فلسفۂ سائنس اور شے ہے۔ آج ضرورت ہے اس پر تاب سائنس کے حیرت انگیز اکتشافات و ایجادات سے خیرہ ہوتی آنکھوں کو اسکی بنیاد میں موجود ان کمزور پتھروں سے بھی روشناس کرایا جائے جن میں محض مادی عمارت کو اٹھانے کی ہی سکت ہے۔

 

اکثر ملحدین کے اعتراضات کی بنیاد سائنس نہیں بلکہ یہی فلسفۂ سائنس ہوتا ہے جس کے‌ مفروضات و‌ مقدمات انہوں نے خود گھڑے ہیں اور زبردستی وہ ہم سے اسے قبول کروانا چاہتے ہیں۔ شعور کا سوال ایک ایسا سوال ہے جسے ہمیں بھی اپنی غور و فکر کا‌ مرکز بنانا چاہیے، اسے یوں نہیں جانے دینا چاہیے، اس کے ذریعے ان ملحد فلاسفہ اور سائنسدانوں کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ اسکی تفصیل کے لئے فلپ گوف کی کتاب گلیلیوز ایرر ایک قابل مطالعہ کتاب ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment