Home » مذہبی افکار ونظریات » سیرت » وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا: مفتی ذکوان: پرویز اختر
سیرت مذہبی افکار ونظریات منتخب کالم

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا: مفتی ذکوان: پرویز اختر

 

قرآن مقدس نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جو اس سے قبل کسی بھی نبی اور رسول کے بارے میں نہیں کیا گیا اور وہ دعویٰ ہے آپ کا دونوں جہان کے لیے رحمت ہونا :

*وما أرسلناك إلا رحمةً للعالمين(الأنبياء آیت 107)*

یہ دعویٰ جتنا عظیم ہے اتنا ہی واقعہ کے مطابق بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے رحمت، الفت،محبت، مودت، شفقت، ترحم، نرمی، لطف وکرم، ایثار و ہمدردی، کی صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ عملی طور پر یہ سب کچھ کر کے دکھایا.

اس مختصر سی تحریر میں آپ کی رحمۃ للعالمينی کے تمام گلوں میں رنگ بھرنا مقصود نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے.یہاں آپ کی رحمت للعالمينی کے دو پہلوؤں پر خامہ فرسائی کاارادہ ہے۔

آپ کی رحمت للعالمينی کا سب سے نمایاں مظہر یہ ہے کہ آپ نے دنیا کو وحدت الہ کا تصور دیا، کفر و شرک اور ہر در پر جبینِ نیاز خم کرنے میں انسانیت کی تذلیل ہے، آپ نے توحید کا تصور دے کر نہ صرف یہ کہ انسانیت کی تکریم وتعظیم کی بلکہ اس کو شرافت کے اوج کمال تک پہنچایا. چنانچہ جس وقت آپ اس عالم آب و گل میں جلوہ گر ہوئے تو اس وقت کنبہ کا کنبہ، خاندان کا خاندان ، سماج کا سماج بلکہ ملک کا ملک مختلف قسم کے کفرو شرک میں مبتلاہوکر انسانیت کی بدترین تذلیل کر رہا تھا۔

اس وقت کا معاشرہ کفر، شرک، الحاد، لادینیت، بت پرستی، اوہام پرستی، اور خالق کا انکار کرکے ذلت کے کتنے عمیق گڑھے میں گر چکا تھا آئیے ایک طائرانہ نگاہ اس پر ڈالتےہیں –

قرآن مقدس کے بیان کے مطابق شرک کی کوئی ایسی قسم نہیں تھی جو اس وقت کے معاشرے میں پائی نہ جاتی ہو،یہ ضرور ہے کہ ان کے یہاں اللہ کا تصور بھی تھا لیکن بس اس حد تک کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے

*ولإن سألتهم من خلق السماوات والأرض ليقولن الله*

(اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ بول اٹھیں گے اللہ نے، سورہ لقمان آیت 25) لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پرستش، نذرو نیاز اور قربانیاں بتوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور کہتے تھے ہم ان کے ذریعے اللہ تک پہونچنا چاہتے ہیں: *ما نعبدهم إلا ليقربونا إلى الله زلفى* (ہم ان بتوں کواس لیے پوجتے ہیں تاکہ وہ ہم کو خداسے قریب کر دیں، سورہ زمر آیت نمبر تین

اور اگر کوئی ان بتوں کو چھوڑ کر اللہ کا نام لے لیتا تھا تو ان کی ناک بہوؤں چڑھ جاتی تھی

*وإذا ذكر الله وحده اشمأزت قلوب الذين لايؤمنون بالأخرة و إذا ذكر الذين من دونه إذا هم يستبشرون* (اور جب خالی اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ناک بھؤں چڑھاتے ہیں اور جب خدا کو چھوڑ کر اوروں (معبودوں) کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو دفعتاً کھل جاتے ہیں، سورہ زمر 45).

پھر ان کے ذیلی خداؤں کا سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ انہوں ہر بڑی اور طاقتور چیز کو خدا تسلیم کر لیا، چنانچہ کبھی فرشتوں کو اللہ کی خدائی میں شریک کرلیا، جس کی قرآن مجید نے جابجا منظر کشی کی ہے اور پرزو لفظوں میں اس غلط عقیدے کی تردید بھی کی ہے، ارشاد ہے *ولا يأمركم أن تتخذوا الملائكة و النبيين اربابا*،(اور نہ تو خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو رب قرار دو. سورہ آل عمران آیت 80)

تو کبھی فرشتوں کو اللہ کی مؤنث اولاد قرار دے کر دامنِ توحید کو شرک سے آلودہ کردیا، قرآن نے اس کا منظر کچھ یوں کھینچا ہے :

*إن الذين لا يؤمنون بالأخرة ليسمون الملائكة تسمية الأنثى

(جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں.سورہ نجم آیت 27)

فرشتے تو فرشتے ہی تھے شرک نے ان کو اس قدر اندھا کردیا تھا کہ انھوں نے جنات کو بھی خدا کے برابر لاکھڑا کیا، اللہ نے اس کی تصویر کچھ اس کھینچی ہے :

وجعلوا لله شركاء الجن و خلقهم وخرقوا له بنين وبنات بغيرعلم

(اورانھوں نے جنوں کو خدا کا شریک بنایا جبکہ وہ خدا کی مخلوق ہیں اور بن جانے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں. سورہ انعام آیت 100)

صرف خدا کا شریک بنانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ خدا جیسی عبادت بھی ان کے لئے بجا لاتے تھے، قرآن گویا ہے :

*بل كانوا يعبدون الجن، اكثرهم بهم مؤمنون*

بلکہ یہ جناتوں کو (پوجتے تھے اور اکثر ان ہی پر ایمان رکھتے تھے سورہ سبا آیت 41) .

شرک کے ساتھ بت پرستی بھی ان کے خمیر میں شامل ہوگئی تھی *علامہ شبلی نعمانی اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچتے ہیں

جن خداؤں کو یہ لوگ مانتے تھے ان کے بت بنالیتے تھے، اور جابجا عظیم الشان بتکدے قائم ہوگئے تھے. یہ رواج اس قدر عام ہوگیا تھا کہ جہاں کوئی خوبصورت پتھر مل گیا، اٹھا لیا اور اس کی پرستش شروع کر دی، زیادہ خوبصورت مل گیا تو اس کو پھینک دیا اور اس کی پرستش کرنے لگے، جہاں کوئی پتھر ہاتھ نہ آیا خاک کا ایک تودہ بنالیا، ایک بکری لاکر اس کا دودھ اس پر دھویا پھر اس کے گرد طواف کیا اب وہ معبود بن جاتا تھا. (سیرت النبی 4/179

بت پرستی کے ساتھ ساتھ وہ ستارہ پرستی کے دلدل میں بھی پھنسے ہوئے تھے قرآن نے خصوصیت کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہے،

*لا تسجدوا للشمس ولا للقمر :*

(نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو سورہ حم سجدہ آیت 37)

یمن میں قوم سبا سورج کی پوجا کیا کرتی تھی *وجدتها وقومها يسجدون الشمس من دون الله* :

(میں نے اس کو اور اس کی قوم کو اللہ کے بجائے سورج کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے پایا. سورہ نمل آیت 24).

غرض یہ کہ پورا معاشرہ بری طرح کفر، شرک، بت پرستی، اوہام پرستی کے چنگل میں جکڑا جاچکا تھا ، اور یہ صرف اسی معاشرے کی حالت نہیں تھی بلکہ دنیا میں اس وقت جو دو آسمانی مذہب تھے وہ بھی شرک کا شکار ہو چکے تھے چنانچہ یہودی کہتے تھے حضرت عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں : *وقالت اليهود عزير بن الله*

اور عیسائیوں کا ماننا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں : *وقالت النصارى مسيح بن الله*، اسی پر بس نہیں بلکہ وہ گمگشتہ راہ ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو جادہ حق سے منحرف بھی بتاتے تھے :

*وقالت اليهود ليست النصارى على شيء وقالت النصارىليست على شيء سورہ بقرہ آیت113*

ایسے وقت میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوتے ہیں اور صرف عرب ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو شرک کی تذلیل سے نکالتے ہیں، جھوٹے خداؤں کی غلامی کی زنجیریں کاٹتے ہیں، ہر در پر پیشانی کو ذلیل ہونے سے بچاتے ہیں، اس کے ماتھے پر توحید کا ٹیکہ لگاتے ہیں، اس کے گلے میں عزت وشرافت کا ہار ڈالتے ہیں اور جو انسان کائنات کا خادم بنا ہوا تھا، اور ہر طاقتور چیز کے سامنے جھک جایا کرتا تھا اس کے اندر تسخیری قوت پیدا کرکے کائنات کا مخدوم اور ایک اللہ کا خادم بنا دیتے ہیں. یہ رحمۃ للعالمين کی رحمت کا ایک عظیم پہلو ہے۔

-،آپ علیہ السلام کی رحمۃ للعالمینی کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ آپ نے دنیا کو *وحدت انسان* کا تصور دیا. آپ کی بعثت سے قبل پوری دنیا پیدائشی طور پر نابرابری کا شکار تھی، خاک وخون، رنگ ونسل، زبان و بیان اور پستی و بلندی کی تفریقوں میں پڑی ہوئی تھی، انسان اور انسان کے درمیان غیر فطری امتیازات کی سنگین دیواریں حائل تھیں اور عصبیت و قومیت کے شکنجے میں اس دھرتی کا ہر انسان جکڑا ہوا تھا، کوئی پیدائشی طور پر ذلیل سمجھا جاتا تھا تو کوئی عزیز، حصول علم اور ذرائع معرفت پر ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری تھی، خود ہمارے پیارے ملک ھندوستان میں انسانوں کو چار طبقوں میں بانٹ دیا گیا تھا کسی کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ یہ خالق کی پیشانی سے پیدا ہوا ہے، تو کسی کو مان لیا گیا تھا کہ یہ بھگوان کے بازو سے پیدا ہوا ہے، کسی کے بارے میں خیال تھا کہ اس نے بھگوان کی ران سے جنم لیا ہے تو کسی کو شودر کہہ کر بتا دیا جاتا تھا کہ اس کی پیدائش بھگوان کے پیروں سے ہوئی ہے اور اس پر ہر طرح کی ناانصافی، زیادتی، بھید بھاؤ اور ذلت روا سمجھی جاتی تھی.

عورتوں اور غلاموں کے حقوق تو دور کی بات ہیں خود آزاد لوگوں کے حقوق کی حفاظت کا کوئی پیمانہ نہ تھا بلکہ جو اپنے خاندان و قبیلے سے ہوتا تھا اس کے حقوق کی حفاظت کی جاتی تھی وہ حق پر ہو یا باطل پر اور جو اپنے کنبے سے نہیں ہوتا تھا اس کے حقوق کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی تھی جاہے وہ ظلم کی چکی میں ہی کیوں نہ پس رہا ہو

ایسے وقت جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم دنیا میں تشریف لائے تو آپ نے شرک کو ختم کرنے کے بعد سب بڑا جو جہاد کیا وہ اسی جاہلی عصبیت کو ختم کرنے کے لئے ہی کیا، چنانچہ آپ نے خاک وخون، رنگ وزبان اور پستی و بلندی کی تمام تفریقوں کو مٹا دیا انسانوں کے درمیان غیر فطری امتیازات کی تمام سنگین دیواروں کو مسمار کر دیا اور قومیت و عصبیت کے تمام بتوں کو پاش پاش کرڈالا.

آپ نے اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دی : *عن جبير بن مطعم:] ليسَ منَّامنْ دعا إلى عصبيةٍ، وليسَ منَّا منْ قاتلَ على عصبيةٍ، وليسَ منَّا منْ ماتَ على عصبيةٍ*

السيوطي (٩١١ هـ)، الجامع الصغير ٧٦٦٥ • صحيح

(جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے، جس نے عصبیت پر جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم سے نہیں ہے) .

آپ فرمایا کرتے تھے پرہیزگاری اور دینداری کے سوا کسی اور چیز کی بنا پر ایک شخص کو دوسرے شخص پر فضیلت حاصل نہیں ہے سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں

 عن عقبة بن عامر:] *أنَّ أنسابَكم هذه ليست بسِبابٍ علىأحدٍ، وإنما أنتم ولدُ آدمَ، طَفَّ الصاعُ لم تملَؤوه، ليس لأحد فضلٌ على أحدإلا الدِّينُ، أو عملٌ صالحٌ،(الترغیب والترهيب2962)*

آپ فرمایا کرتے تھےکسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر پرہیزگاری کے سوا کوئی برتری حاصل نہیں ہے: *لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ، ولا لعجميٍّ على عربيٍّ، ولا لأحمرَ على أسودَ، ولا لأسودَ على أحمرَ إلا بالتقوى*

آپ نے صرف زبانی ارشادات پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ آپ نے اپنے ساتھیوں کی جو شیرازہ بندی کی تھی اس میں رنگ و نسل، خاک و خون، ذات وپات، زبان و علاقہ اور قومیت و عصبیت کی کوئی تمیز نہ تھی، آپ کے خوشہ چینوں میں حضرت سلمان ایرانی تھے جن سے ان کا نسب پوچھا جاتا تو کہتے سلمان بن اسلام لیکن آپ علیہ السلام نے ان کے متعلق فرمایا : عن عمرو بن عوف المزني:] سَلمانُ مِنَّا أَهلَ البيتِ

السيوطي (٩١١ هـ)، الجامع الصغير ٤٦٨٠ • صحيح

(سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں.)

آپکے ساتھیوں میں باذان بن ساسان اور ان کے بیٹے شہر بن باذان کا نسب بہرام گور سے ملتا تھا لیکن آپ نے ان کو یمن اور صنعاء کا گورنر بنایا تھا.

آپ کے رفیقوں میں بلال حبشہ کے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے:

*بلال سيدنا و مولى سيدنا*

بلال ہمارے آقا ہیں.

آپ کے شاگردوں میں صہیب رومی تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ نماز میں امامت کے لئے ان کو کھڑا کر دیا کرتے تھے.

آپ کے ساتھیوں میں ابوحذیفہ کے غلام سالم تھے لیکن ان کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا تھا کہ اگر آج سالم زندہ ہوتے تو خلافت کے لیے میں ان کو نامزد کر دیتا.

آپ کے چاہنے والوں میں زید بن حارثہ ایک غلام تھے لیکن آپ علیہ السلام نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کا نکاح ان سے کردیا تھا.

ان ہی زید کے بیٹے اسامہ تھے جن کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسے لشکر کا سردار بنا دیا تھا جس میں حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ تھے، ان ہی اُسامہ کے متعلق حضرت عمر اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر سے فرمایا کرتے تھے کہ *اسامہ کا باپ تیرے باپ سے أفضل ہے اور اسامہ خود تجھ سے أفضل ہے*(مسئلہ قومیت 42 حذف و اضافہ کے ساتھ)

یہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی رحمت کا وہ حصہ جو اس سے قبل کسی بھی انسان بلکہ نبی اور رسول کے حصے میںبھی نہیں آیا۔

اور قیامت تک انسانیت رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس عزت افزائی کو فراموش نہیں کر سکتی ۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...