Home » مذہبی افکار ونظریات » کیا طلاق کا مسئلہ انسانی عقل کے ذریعے حل ہو سکتا ہے؟ : وصی میاں خان رازی
مذہبی افکار ونظریات منتخب کالم نقطۂ نظر

کیا طلاق کا مسئلہ انسانی عقل کے ذریعے حل ہو سکتا ہے؟ : وصی میاں خان رازی

اللہ تعالی نے دنیا میں بےشمار مخلوق بنائی ، اور انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ، انسانوں میں دو صنف مرد اور عورت کی رکھی ، ان کے اندر مختلف صلاحیتں ودیعت کی ، ان کی جسمانی ، ذہنی اور فکری قوتوں اور طریقہ کار میں نمایاں فرق رکھا ، گھر اور معاشرہ کی تشکیل وترتیب میں ان کے حقوق اور واجبات متعین کئے ۔۔

یہ سب تو ٹھیک تھا ، اور ایک سلیم الفطرت انسان کے لئے اس میں کوئی دقت اور پریشانی بھی نہ تھی کہ وہ خدا کی اس فطری اور معقول تقسیم کار پر راضی ہو جائے ۔۔ لیکن دور حاضر میں مادی ترقی کے ساتھ انسان نے جہاں اور بہت سی چیزوں کو گنوایا وہیں خدا اور مذہب کے عقیدے پر بھی اس کے یقین و ایمان میں تزلزل پیدا ہوا ، اور خالق سے اس کا تعلق اتنا کمزور ہوا کہ اسے مذہبی اعمال ، خدائی احکام اور شریعت کے طریقہ کار میں شکوک اور شبھات ہونے لگے ، اسے محسوس ہونے لگا کہ شرعی احکام میں بھی لچک ہونی چاہئے ، اسے بھی یہ اختیار ہونا چاہئے کہ زمانہ کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق وہ قانون خداوندی میں رد و بدل کر سکے ، انسان آج چاند اور مریخ تک پہونچ گیا ہے ، ہر میدان میں اس کی ترقیات خیرہ کر دینے والی ہیں ، یہ کہاں کا انصاف ہے اس کی لگام اور باگڈور ۱۴۰۰ سال پرانے ( معاذ اللہ ) فرسودہ احکام و خیالات اور تیسری چوتھی صدی ہجری کے علماء اور اسکالرس کی تشریحات اور تعبیرات کے حوالے کر دی جائے ، اور وہ دم بھی نہ مار سکے ، ماڈرن دنیا اس کا مذاق اڑاتی ہے ، کہ آج مشاہدہ ، تجربہ اور عقلیت کے دور میں یہ لوگ کتنی فرسودہ باتیں کرتے ہیں ، پرانی لکھی کوئی باتوں کو مقدس سمجھتے اور اسی کو حرف آخر گردانتے ہیں ۔

یہ دراصل ایک دعوی ہے ، کہ اب انسان کو ( معاذ اللہ ) وحی کی رہنمائی کی ضرورت نہیں اور انسانی عقل ، انسانی تجربہ ، انسانی مشاہدہ اور انسانی علم ترقی کے وہ مدارج طے کر چکا ہے کہ اب اسے مزید کسی اور ذریعہ علم کی ضرورت نہیں ہے ۔۔اور یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے جو اسی دور میں پیدا ہواہو بلکہ دو ڈھائی سو سال پہلے یورپ کی نشآت ثانیہ اور سائنسی وصنعتی انقلاب کے وقت سے ہی انسان کے دل ودماغ میں مذہب سے آزادی اور کسی مطلق طاقت کی حاکمیت سے فرار کا فطور پیدا ہو چکا تھا ، ۱۹ وی صدی میں ڈارون اور کارل مارکس کی تحریکوں سے اس خیال اور اس کے ہمنواؤں کو مزید تقویت پہونچی ، بلکہ ان تحریکوں کو فروغ ہی اس لئے دیا گیا تاکہ مذہب کی پکڑ انسان پر ڈھیلی پڑ جائے ، ان ملحدانہ افکار و خیالات نے مغرب میں مذہب کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی ، تاہم مشرق اور. خصوصا اسلامی دنیا پر اس کا بظاہر خاص اثر نہیں پڑا ، اگرچہ کسی حد تک ایک جھٹکا ضرور دیا اور مصر ، سیریا و لبنان جیسے نسبتا ” لبرل” اسلامی ممالک میں اس کے ہمنواؤں اور جھنڈابرداروں کی ایک جماعت قائم ہو گئی جس نے کبھی کھل کر تو کبھی دبے انداز میں ڈارونزم اور مارکسزم کی تبلیغ میں جی توڑ کوششیں کی ، اور بڑے خوبصورت انداز میں دین اور دنیا کی تفریق کے نام پر دین کو غیر اہم ، غیر ضروری باور پرانے کی سعی کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔

۔ ہندوستان میں بھی اس طرح کوششیں ہوئیں ، اگرچہ ملک پر علماء کی سخت گرفت اور لوگوں میں حمیت اور غیرت ایمانی کی وجہ سے اپنے عربوں کی طرح زیادہ کامیابی تو نہیں مل پائی تاہم شروعات ہو گئی۔۔۔

الحاد اور خدا بیزاری کا سلسلہ اب ایک خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے کہ کھلے عام لوگوں میں احکام شرعیہ پر اعتراض اور سوال اٹھانے کی حد تک بے باکی آگئی ہے۔۔

اب ہم اس دعوی کی کہ اب انسانی عقل وعلم و تجربہ اس کی ہدایت کے لئے کافی ہے تحقیق کرتے ہیں کہ اس میں کتنی سچائی ہے ۔۔

اللہ تعالی نے انسان کو ۲ ذریعہ علم عطا کئے ہیں ، اور ہر ایک کی ایک لمٹ ہے ، حد ہے ، ان میں ایک تو حواس خمسہ ہیں ، کان سے سن کر ، آنکھ سے دیکھ کر ، ناک سے سونگھ کر ، زبان سے چکھ کر اور ہاتوں سے چھو کر انسان علم حاصل کرتا ہے ، لیکن ایک وقت آتا ہے کہ انسان کے حواس کام نہیں دیتے تو اسے ایک اور ذریعہ علم یعنی عقل کی ضرورت پڑتی ہے ، مثلا میرے سامنے یہ مائکروفون ہے ، آنکھوں سے پتا لگا کہ کالا ہے ، ہاتوں سے پتا لگا کہ یہ سخت ہے ، کانوں سے اس سے نکلنے والی آواز کا پتہ لگا ، لیکن اس کو کس نے بنایا ؟؟ یہ صرف عقل سے ہی پتہ لگا سکتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کے اب حواس بے کار ہو گئے ، نہیں بلکہ حواس کا دائرہ جتنا تھا انہوں نے کام کیا ، اب عقل کی باری آئی لیکن عقل کی بھی ایک حد ہے ، مثلا اب اگر پوچھا جائے کہ اس مائکروفون کا صحیح استعمال کیا ہے ، کس چیز میں اس کو صرف کیا جائے اور کہاں نہیں تو عقل انسانی اس سے قاصر ہے ، تو اب یہاں وحی کی ضرورت پڑتی ہے ، وحی آتی ہی وہاں ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ عقل بے کار ہے ، وہ بھی کار آمد ہے لیکن اس کی حدود ہیں جس سے باہر وہ کام نہیں کر سکتی۔۔ کیونکہ عقل کے پاس کوئی لگا بندھا ضابطہ نہیں ہے ، کہ خیر کیا ہے ، اور شر کیا ہے ، کیا اچھا ہے کیا برا ہے ۔۔مشہور برطانوی فلسفی برٹرینڈ ر سل کے بقول کوئی بھی چیز نہ اچھی ہے نہ بری ، ہر زمانے میں. معیار بدلتا ہے ، جس زمانے میں جس کو اچھا کہا جائے وہ اچھا اور جس کو برا کہا جائے برا ہے ۔۔

دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی برائی نہیں جس کو عقل اچھا نہ ثابت کر دے ، آٹھ سو سال پہلے قرامطہ ایک فرقہ ہوا ہے اس کا ایک مشہور لیڈر ” عبید اللہ بن حسن قیروانی اپنے پیروؤں کے نام خط میں کہتا ہے ” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کے پاس ایک خوبصورت باسلیقہ لڑکی بہن کی شکل میں گھر کے اندر موجود ہے ، جو بھائی کے مزاج کو سمجھتی ہے ، لیکن یہ بے عقل انسان اس کو ایک اجنبی کے حوالے کر دیتا ہے ، اور خود بھی ایک اجنبی لڑکی لاکر مصیبت مول کہتا ہے ، لہذا بہتر ہے کہ گھر کی دولت گھر ہی میں رہے ۔۔

اب خالص عقل کی بنیاد پر اس کا رد کوئی نہیں کر سکتا ، زیادہ سے زیادہ یہی کہ سکتے ہیں کہ یہ غیر اخلاقی عمل ہے ، تو جناب یہ سب تو آپ کے ماحول کا اثر ہے ورنہ اخلاق بذات خود عقلا کوئی پسندیدہ چیز نہیں ۔

امریکہ نے 6-9 اگست1945 میں جاپان کے دو شہروں ہروشما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے ، جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ انسان جاں بحق ہو گئے ، ایسا حادثہ انسانی تاریخ میں نہیں ہوا ، لیکن انسائکلو پیڈیا برٹینکا کا مقالہ نگار اس کی روداد لکھتے ہوئے اس کے مھلک نتائج تو بعد میں بیان کرتا ہے ، سب سے پہلے لکھتا ہے کہ ایٹم بم گراکر امریکہ نے 1کروڑ انسانوں کی جان بچا لی ۔۔ اب دیکھئے عقل کا کمال کہ اس کا بھی جواز ڈھونڈ لائی ۔۔۔

آئیے اب زیر بحث مسئلہ میں غور کرتے ہیں کہ کیا عقل انسانی اس میں کچھ رہنمائی کر سکتی ہے کہ نہیں ۔۔۔

ہم جب تاریخ انسانی پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان تعلق کی نوعیت ، معاشرے

میں عورت کے مقام کا مسئلہ نہایت پیچیدہ اور گنجلک رہا ، ہر دور میں اس کو سلجھانے کی کوششیں ہوئیں پر ناکام رہیں ، کبھی اس کو منحوس کہا گیا ، یونان قدیم میں اس کو تمام انسانی مصائب کا موجب قرار دیا گیا “ارسطو ” جو تاریخ انسانی کا سب سے بڑا مفکر اور عالم مانا جاتا ہے ، منطق ، فلسفہ ، سیاست ، بلاغت ، مدنیت سے لیکر فزکس ( طبیعیات) ، میٹافزکس ( مابعد الطبیعیات ) وغیرہ درجنوں علوم کا موجد اور بانی تصور کیا جاتا ہے ، وہ عورت کو ایک انسان بھی نہیں سمجھتا تھا ، اس کو زندگی بھر اس بات میں شک رہا کہ عورت کے منہ میں مردوں سے کم دانت ہوتے ہیں ( جو ان کے نقص کا بڑا سبب ہے ) حیرت ہے آج تک دنیا اس کی عظمت کو سلام کرتی ہے ، اور اسلام جس نے عورت کو تمام حقوق دئے اس کو عورت کی تنقیص کا مجرم قرار دیا جاتا ہے ۔

اسی یونان نے بعد میں طوائف تک کو اپنا معبود بنا لیا ، روم میں عورت کو اس قدر آزادی ملی کہ ایک عورت اپنی عمر کا حساب اپنے شوہروں کی تعداد سے لگایا کرتی تھی ، مسیحی یورپ نے عورت کو گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ کہہ کر دھتکارا تو ہندوستان میں اس کو شوہر کے ساتھ ستی ہونا پڑا ۔۔

انسانی تاریخ کے یہ تجربات بتاتے ہیں کہ اس مسئلہ میں عقل انسان کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں ، اسے وحی کی ضرورت ہے ، اور چونکہ وحی آتی ہی وہیں ہے جہاں عقل کی رسائی نہ ہو تو یہ سوال ہی بے کار ہے کہ کیا عقل انسانی کو وحی میں تبدیلی کا اختیار ہے ۔۔ اسلام نے آکر عورت کے حقوق اور واجبات متعین کئے ، اس کی عظمت اور مقام کو پہچانا اور اس کو عزت واحترام بخشا ، مرد کو باہر اور اسے گھر کی ذمے دار بنایا ، مرد کو ہی طلاق کا حق دیا گیا ۔۔۔

یہاں پر ایک دوسرے زاویہ سے بھی نظر ڈالتے چلے کہ کچھ پڑھے لکھے لوگ یہ بھی کہ رہے ہیں کہ فقہ کا قاعدہ ہے ” الآحکام تتغیر بتغیر الزمان ” تو کیوں نہ اس مسئلہ میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تین طلاق کو ایک یا کالعدم قرار دے دیا جائے ۔۔

تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا احکام میں کوئی لچک ، کوئی فلیکسی بلٹی ہے ، اور اس قاعدہ کی کیا حقیقت ہے ، اور کیا زیر بحث مسئلہ میں یہ قاعدہ جاری ہو سکتا ہے ؟؟

تو ہم پاتے ہیں کہ احکام شرعیہ تین طرح کے ہیں ::

(1) وہ احکام جو نصوص صریحہ سے ثابت ہیں اور معلول بالعلت نہیں ہیں ، یعنی ان کی کوئی علت نہیں ، بس اللہ اور رسول کا حکم ہے اور مسلمان کو ماننا ہے ، کوئی چوں چراں کی گنجائش نہیں ، کوئی تبدیلی کسی زمانہ میں ان میں نہیں ہوگی ۔۔ مثلا خنزیر کی حرمت ، کہ اس کی کوئی علت نہیں ، اگر کوئی علت بیان کرتا بھی ہے تو معتبر نہیں ۔(2) وہ نصوص جو ظنی ہیں ، معلول بالعلت ہین ، مجتہد فیہ ہیں ، اگر ان کی علت منصوص نہیں تو علت کی تبدیلی سے حکم بدل سکتا ہے ( مثلا دوسرے امام کے قول پر فتوی وغیرہ) اس کی مثال پانی کی بیع کا مسئلہ ہے ، فقہاء نے لکھا کہ آب پاشی کے لئے پانی کی بیع جائز نہیں کیونکہ پانی ناپنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ کتنا پانی لیا ، لہذا مجہول کی بیع ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، لیکن آج کل چونکہ ناپنے کے لئے میٹر لگے ہیں ، لہذا جہالت کے ختم ہونے سے بیع جائز ہو گئ ۔ تو علت بدلنے سے مسئلہ بدلا ، ایسے ہی مسئلہ ظفر کی مثال ہے ، لیکن اس کو طوالت کی وجہ سے چھوڑتا ہوں ، علماء سے رجوع کیا جائے ۔۔

3) وہ احکام کہ جن میں کوئی نص نہیں وارد ہوئی اس میں انسان کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی ضرورت ، تجربہ اور علم کی بنیاد پر فیصلہ کر کے ( جب تک کوئی محظور شرعی لازم نہ آئے ) اس کی مثال کھجوروں کی تلقیح والا مسئلہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماکر گنجائش کا اشارہ دیا ” أنتم أعلم بأمور دنياكم “

تو شریعت نے بہت سے مسائل میں سکوت کرکے اشارہ دے دیا کہ انسان خود اس میں فیصلہ لے ، کیونکہ یہ انسانی عقل کی دسترس سے باہر کی چیزیں نہیں ہیں۔۔

اب اس زیر بحث مسئلہ کو دیکھئے ، کہ یہ ان تین میں کس کیٹیگری میں آتا ہے ، تو ہمیں پتا لگتا ہے کہ اس کا تعلق پہلی قسم سے ہے ، کیونکہ قرآن یا حدیث نے ، طلاق کے تین ہونے ، یا طلاق کا اختیار مرد کو ہونے کی کوئی علت نہیں بیان کی سیدھا حکم سنایا ، نہ ہی فقہاء امت میں کسی نے کہا کہ طلاق کی تعداد ، یا مرد کو طلاق کا اختیار معلول بالعلت ہے اور علت کے ختم ہونے پر معلول بھی ختم ہو جائے گا ۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوا حالانکہ فقہاء میں طلاق کی نوعیت اور اس کے بدعت و سنت یا حرام ہونے کے تعلق سے اختلاف اور بحث ہوئی لیکن کسی بھی فقیہ نے تین کے عدد اور اختیار مرد پر انگلی نہ اٹھائی ۔

تو معلوم ہوا کہ طلاق کا اختیار مرد کو ملنا، طلاق کا تین ہونا یہ امر تعبدی ہے ، انسانی عقل کی دسترس سے باہر کی چیز ہے ، اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ، جیسا خنزیر کی حرمت امر تعبدی ہے ، وراثت کی تعیین امر تعبدی ہے ، کوئی سوال نہیں کر سکتا ، کہ کیوں ہے ۔۔۔

اس لئے کہ یہ سب مسائل انسانی فطرت سے متعلق ہیں اور انسان کے خالق کے علاوہ اس کی فطرت کو کوئی نہیں جان سکتا ، انسانی عقل بالکل یہاں قاصر ہے ، تجربہ اس کا گواہ ہے ، یہیں سے اس بات کا جواب نکل آیا کہ قرآن اور حدیث میں سائنس اور ٹیکنولوجی اور ایجادات کے فارمولے کیوں نہیں ہیں ، چاند اور مریخ پر جانے کی ترکیبیں کیوں نہیں مذکور ہیں ، کیونکہ یہ سب انسانی عقل کی دسترس میں ہیں ، یہ عقل کا میدان ہے ، وحی کی ضرورت نہیں ، جبکہ میراث ، طلاق اور کھان پان کے مسائل عقل کی دسترس سے باہر ہیں ، اس لئے وحی آتی ہے ۔۔۔۔

لہذا علماء کو بدنام کر نا ، یا طلاق کے مسائل میں تبدیلی کا مطالبہ کم از کم مسلمانوں کی طرف سے غیر معقول ہے ، یہ بس اللہ کا حکم ہے اور ہمیں ماننا ہے ، ہاں اسلام سے نکل کر بیشک آپ مت مانئے ۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور شریعت کو صحابہ کرام سے زیادہ نہ کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی اس پر ان سے زیادہ عمل کر سکتا ہے ، اب ہم دیکھتے چلیں کہ کیا صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز عمل کیا ہے تھا جب ان سے احکام شرعیہ میں کمپرومائز یا مصالحت کا مطالبہ کیا جاتا ۔

صحیحین میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے زکاة میں چھوٹ مانگی اور کہا

حضرات !! بات صرف طلاق کی نہیں ہے ، کس کس چیز پر آپ کمپرومائز کریں گے ، آج طلاق ، تو کل قربانی ،( اس کی شروعات ہو چکی ہے ) پہر اذان پر پابندی ، پہر پردہ اور برقع( بہت سے مغربی ممالک میں بین ہو چکا ہے اور ہمارا ملک اسی نقش قدم پر گامزن ہے) بین ہوگا ۔۔۔ ایک ایک کرکے اسلام پورا ہی رخصت ہو جائے گا ۔۔خدارا ابھی سنبھلئے ، ورنہ ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين ..

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...