Home » آج کا تجربہ » شکر گزاری: محمد عمر
آج کا تجربہ ادب کتابوں پر تبصرے

شکر گزاری: محمد عمر

میرے ہاتھ ایک کتاب لگی ہے اور بڑی تمنا و آرزو کے بعد ہاتھ لگی ہے اس کتاب کو پاکر مجھے وہی خوشی حاصل ہوئ ہے جو خوشی کسی نجومی کو نیا ستارا پاکر یا اسکی منزل پاکر ملتی ہے یا کمسن بچہ جس طرح کھلونا پاکر خوش ہوتا ہے، وہی سکون و اطمینان حاصل ہوا جو تپتے صحرا میں  پیاسے مسافر کو ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھا کنواں پاکر حاصل ہوتا ہے۔

پانچ سال پہلے مجھے کلیم عاجز کے کلام و انکی ذات سے آشنائی ہوئی ظاہر سی بات ہے شعر آگے پہنچتا ہے اور شاعر پیچھے بشرطیکہ شعر جاندار ہو شعر کی جان کیا ہے یہ الگ بات ہے۔

مجھے پہلے پہل کلیم صاحب کے جو شعر پہنچے سنے تو حیران ہوا اپنی آواز لگی عاجز مرحوم کا شعر:

جھومتے ہیں سب میرے اشعار پر
میرے دل میں سب کے دل کی بات ہے

وہ شعر مجھے اب بھی یاد ہیں دو تین اشعار پڑھ جائیے

مۓ میں کوئ خامی ہے نہ ساغر میں کھوٹ
پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو
اور
یوں تو مقتل میں تماشائ بہت آتے ہیں
آؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ

ایک دو اشعار اور ہیں خیر سال دو ہزار پندرہ تھا شعر سنے دل کُلبلانے لگا جستجو ہوئی شعر کس کا اس وقت پاس میں فون اس لائق نہ تھا کہ جھٹ پٹ تلاش لیتا اور ایک تھا بھی تو اتنی تمیز نہ تھی لیکن تھا میں کھوج میں بلآخر جان لیا یہ ہمارے محترم دوست سعد شہاب الدین تھے جو میرے لۓ فرشۂ  رحمت ہو گۓ اور ہمیں گھر بیٹھے خضر ملے جنھوں نے چند بہترین اشعار سناۓ اور کہا کہ یہ اشعار کوئ کلیم عاجز ہیں انکے ہیں میں نے انکا اس وقت بہت شکریہ ادا کیا اور آج بھی کرتا ہوں آگے میں نے پوچھا کیا کوئ انکا دیوان ایوان بھی طبع ہوا ہے کہنے لگے ہاں “وہ جو شاعری سبب کا ہوا” کہا بس چلدو اسی وقت خریدنے ہم تو پگلائے پگلائے پھرتے تھے جھٹ ان نے اپنے بھائی کی گئے گزرے دور کی یادگار پَھٹپھٹِیا (موٹر سائکل) نکالی اور لد کے چل دۓ سیدھے آکے ندوہ پہ رکے کتب خانے میں داخل ہوۓ کتاب بغل میں دبائ نبّے روپۓ ڈھیلے کۓ اور واپس گھر ۔
اس وقت جو خوشی ہوئی آج کی خوشی اس سے کم نہیں یہ عاجز کا پہلا مجموعہ کلام ہے جسمیں ۷۲ کی دہائی تک کا کلام شامل ہے۔

ہاں تو کلیم کا کلام ان کی دردمندی سوزِ دروں محبت کی آگ میں تپا ہوا دل ٹھنڈے گرم آنسوں، غموں سے آباد سینہ سمیت مرے دلمیں گھر کر گیا؛ غزلیں پڑھتا رات دن پڑھتا، پورا دیوان مہینے بھر میں چاٹ ڈالا، کئ غزلیں مکمل غزلیں ستر کے قریب حفظ کر لیں اور طبیعت ہے کہ ذرا سیر نہ ہوئی وہی ھل من مزید کی صدا بلکہ اب تو آتش شوق اور بھڑک اٹھی سال بھر بعد فرید بک ڈپو نے ایک کلیات چھاپ دی جسمیں چاروں دیوان شامل ہیں جس ہفتہ مکتبۂ احسان میں پہنچی اسی ہفتہ منھ مانگی قیمت دیکر گھر اٹھا لایا۔ پھر وہی کیفیت کہ لئے گود میں بیٹھیں ہیں، رات رات بھر پڑھے جاتے ہیں، ایک دفعہ بہت رات گزر گئ پڑھتے پڑھتے، پھر سوچا اب ذرا سولوں کہ صبح تازہ دم اٹھوں جونہی تکئے پہ سر رکھا ادھر مؤذن نے اللّٰہ اکبر کی صدا بلند کر دی۔

آپ سمجھ گئے ہونگے کہ اس بندہ کو کلیم اور ان کے دیوان سے کیا لگاوٹ ہے مجھے کبھی رات بھر پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا یہ تو اس کتاب اور اس عاجز آدمی کا سحر تھا جس نے رات کا پتہ ہی نہ چلنے دیا کہ کب کٹ گئ اور سحر ہوئی۔

اور یہ صرف میری حالت نہیں بلکہ  ایک فلسفی ماجد دریابدی کا بھی کچھ یہی حال ہے کہتے ہیں رات کو کلیم کا دیوان لیکر بیٹھتا ہوں کب سحر  ہو جاتی ہے پتہ نہیں چلتا۔ یہ بات کلیم صاحب نے دیوان کے دیپاچہ میں درج کی ہے۔

اور ایک دفعہ مولانا ابو الحسن علی ندوی سے کسی نے کہا کہ ہندوستان میں ایک بہت بڑا شاعر پیدا ہوا ہے مولانا نے جواب دیا ضرور آپ کلیم عاجز کے بارے کہتے ہیں۔

ابھی تک ہم نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ مجھے آج کون سی کتاب ہاتھ لگی تو سنئے اور دل تھام سنئے جب کلیات پڑھ پڑھا کے فارغ ہوا تو اور کی طلب ہوئی، کلیم صاحب جیسا کے نظم میں البیلے تھے اپنی خاص شاہراہ تھی پامال گزرگاہ کے عادی نہیں تھے بلکہ اپنی روش تھی  کسبی تھی:

اپنے کلام کا مجھے عاجز سرور کیوں نہ ہو
خود میرا فیض کسب ہے بخشش دیگراں نہیں

بعینہ وہی کیفیت وہی جادو وہی گل افشانی جو نظم میں ہے نثر میں بھی کسی طرح کم نہیں دو کتابیں ابھی سن لو مجھ سے۰۰۰ اور دوسری جو مجھے آج ملی ہے یعنی “جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی” یہاں نثر کا جادو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ کتاب نہ مجھے آن لائن پڑھنے کو مل سکی نہ پی ڈی ایف میں نہ کسی دکان پر کہ خرید کے ہی پڑھ لیتا ہاں تو کیسے ملی؟

میں نے آپ کو یہ تو بتایا نہیں کہ کلیم پہلا شاعر ہے جسے پڑھ دل نے آرزو کی کہ اس زندہ دل آدمی سے ملاقات ہوتی یہ شروع کی بات ہے یعنی سن  پندرہ  کی جب انکا پتہ معلوم کیا تو پتہ چلا:

خا ک ہو جائینگے ہم تم کو خبر ہونے تک!

بڑی دیر میں خیال آیا مجھے کلیم کا کلام اس وقت ہاتھ آیا جب وہ اس دنیا سے جا چکے تھے سوچا ان کے خاندان کا تو کوئی ہوگا بالآخر ان کی صاحب زادی ملیں بات چیت ہوئی بڑی شفقت اور کمال مہربانی سے ملیں، ابا کے متعلق شہر گھر سب بارے بات ہوئی، کہیں پروفیسر یا لکچرار ہیں شعبۂ اردو میں، باپ کی جھلک باقی رکھی ہے، شعر سخن سے ایک گونا گوں وابستگی ہے ماشاء اللّٰہ خوش حال ہیں اور باتیں ان کے متعلق بدون اجازت کہنا مناسب نہیں۔

ہم نے انھیں سے پوری بے شرمی اور  ڈھٹائی سے منھ کھول کر کہا مجھے یہ کتاب چاہئے کسی بھی حال میں ان نے وعدہ کیا کہ ان شاء اللّٰہ بھیج دی جائیگی۔
کچھ دن بیتے ہم نے پھر یاد دلایا یہ نہ سوچا کہ خاتون ہیں کام دھام ہوگا اتنا  فراغ  نہ ہوگا جو ارسال ترسیل کے چکر میں الجھیں، بہر کیف کتاب ان سے ٹھگ لی ایک شام ڈاکیا پہنچا گیا اور یوں مری مراد بر آئی۔

تو میرے لئے یہ کتاب کئ وجوہ کی بنا پہ اہم ہے اول یہ کہ کتاب ہے دوسرے یہ کہ پسندیدہ مصنف کی ہے تیسری یہ کہ اردو کی ہے چوتھی یہ کہ مفت کی ہے پانچویں یہ کہ کتاب دکاندار کے ہاتھوں نہیں بلکہ باپ کی کتاب بیٹی کے ہاتھوں ملی ہے۔

اللہ بھیجنے والی کو جزائے خیر دے ہمارے پاس سوائے نیک دعاؤں اور شکر گزاری کے سوا کچھ نہیں۔

اب جاتے جاتے کتاب کا ایک اقتباس پڑھ جائیے:

تاریخ اور ادب و شاعری

میں تاریخ کی بات نہیں کرتا، تاریخ تو امیر زادی ہے، بادشاہ زادی ہے، یہ تو شاہراہوں پر اٹھلاتی پھرتی ہے برق رفتار گھوڑے پر اٹھلاتی پھرتی ہے اُڑن کھٹولوں پر پرواز کرتی ہے یہ میناروں کو دیکھتی پھرتی ہے قبیلوں اور کلیسوں کی زیارت کرتی پھرتی ہے۔ لال قلعہ تاج محل قطب مینار اشوک کی لاٹ اجمیری گیٹ کشمیری گیٹ کی بات کرتی ہے یہ کونوں میں نہیں جھانکتی گوشوں پر نگاہ نہیں ڈالتی یہ تنگ گلیوں اور تاریک کوچوں میں جانے سے ڈرتی ہے یہ محلوں کے پھاٹکوں پر کارڈ بھیج کر استقبال کراتی ہے۔ یہ ٹوٹے پھوٹے دروازوں پر اور بے کِواڑ کی ڈیوڑھیوں پر دستک نہیں دیتی۔ یہ کام ادب کرتا ہے یہ کام شاعری کرتی ہے”۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...