Home » عقائد » مسئلہ خیر وشر: وصی میاں خان رازی
عقائد مذہبی افکار ونظریات منتخب کالم

مسئلہ خیر وشر: وصی میاں خان رازی

یہ سوال بہت گردش کرتا رہتا ہے کہ اگر خدا غفور ورحیم ہے تو پھر دنیا میں شر وبرائی کیوں ہوتی یے؟ خاص طور معصوم انسانوں اور اس میں بچوں پر ظلم، اور زنا و ریپ کے واقعات کے بارے میں کیا کہا جائے کہ کیا یہ سب خصوصاً بچوں کا معاملہ خدا کے رحم کے خلاف نہیں ہے؟

اس سوال کا جواب دو چار سطروں میں دینا آسان نہیں ہے، کیونکہ اس کے پیچھے جو فکر کارفرما ہے،اور اس سوال کے نتائج جو  دوسری پوزیشن کو اختیار کرنے سے جو حاصل ہوتے ہیں کیا ان پر یہ سوال کرنے والے راضی ہیں یا نہیں؟ان سب کا جائزہ لینے ضرورت ہے، لیکن جواب کی طرف رخ کرنے سے  پہلے کچھ بنیادی نکات اور پائنٹس پر توجہ ضروری ہے۔

یہ سوال در اصل خدا کو اپنے معیار سے پرکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ خدا کو انسان کی اپنی ذاتی اغراض اور  پیمانوں سے ناپنا نہ صرف غلط ہے بلکہ ممکن بھی نہیں ہے، پھر دیکھنا یہ بھی ہے کہ جس خدا پر آپ ایمان رکھتے ہیں کیا اس نے اس قسم کے رحم کا دعویٰ یا وعدہ بھی کیا ہے جو ہم اپنے ذہن میں گھڑے بیٹھے ہیں؟

 خدا کے ہر کام میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے ہوتی ہیں جو انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔

 خیر وشر، اچھائی و برائی اور رحم وغیرہ کے جو معنی انسان کے نزدیک ہیں اور ان کے جو مظاہر انسان دیکھتا ہے وہ بہت ہی ناقص اور تمام پہلوؤں کا احاطہ نہ کر پانے کی وجہ سے ہیں۔

زیادہ تر سوال اس سوچ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ یہ دنیا پرفیکٹ اور کامل اسی وقت ہوگی جب ہر طرف امن شانتی ہو، ظلم وفساد اور زیادتی بالکل ختم ہو جائے، اور ہر انسان کو خصوصاً معصوم بچوں اور نیک لوگوں کو تو کوئی تکلیف ہی نہیں ہونی چاہیے۔

تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ خدا نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے نہ اپنی کتاب میں،نہ رسول کے ذریعے کہ اس دنیا سے شر، فساد، ظلم وزیادتی کا بالکل ہی خاتمہ ہو جائے گا، نہ ہی خدا نے کہا ہے کہ وہ اس دنیا کے کاموں میں زبردستی تکوینی طور پر خلل ڈالے گا، تو پھر اپنے دماغ سے اپجے معنی کو خدا کی طرف منسوب کرکے اس سے ایسی توقعات رکھنا کیونکرصحیح ہو سکتا ہے؟

دنیا کی اصل پوزیشن

اس دنیا کو اللہ نے دار الاسباب  اور دار الابتلاء بنایا ہے، اوراس میں اپنے قوانین اور سنتیں رکھ دی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کچھ چیزیں اسباب تو کچھ چیزیں  مسببات کے درجے میں ہیں، جب انسان کسی سبب ظاہر کو اختیار کرتا ہے تو عموما اس کام کی انجام دہی میں اللہ رکاوٹ نہیں ڈالتا، خاص طور پر جب اسباب ومسببات ان قوانین کی شکل میں ہ ہوں جن کو قوانین فطرت یا “نیچرل لاز” کہا جاتاہے، اگر کوئی آدمی کسی کو آگ میں پھینکے تو وہ جل  جائےگا،پانی میں ڈوب جائے گا، اونچائی سے دھکا دینے پرگر جائے گا۔۔۔وغیرہ وغیرہ پھر بندوں کو ٹیسٹ اور امتحان کے لئے  اس دارالامتحان میں بھیجا گیا ہے۔

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا  ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ‏ ۞

ترجمہ:جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے۔

اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا

ترجمہ:ہم نے زمین پر کی چیزوں کو اس کے لیے باعث رونق بنایا تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔

ظاہر ہے کہ امتحان اور آزمائش کے لیے اختیار اور فری ول ضروری ہے،ایسا اختیار ہر شخص کو ہونا چاہیے جو خیر اور شر دونوں پر قدرت رکھ سکے۔

پھر اس سلسلے میں دو نظام اللہ کی طرف سے وجود میں آئے،اللہ نے انسان کے اندر خیر اور شر دونوں ہی کی صلاحیت ودیعت کر دئیے۔

وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا ۞فَاَلۡهَمَهَا فُجُوۡرَهَا وَتَقۡوٰٮهَا ۞

ترجمہ: اور قسم ہے (انسان کی) جان کی اور اس ذات کی جس نے اسکو درست بنایا۔ پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں) کا اس کو القا کیا۔پھر:

شر کی اشاعت کے لئے شیطان اور اس کی ذریت وجود میں آئی،شیطان اور اس کے ہرکارے انسان کے جذبہ شر کو مہمیز دیتے ہیں اور اپنی طرف بلاتے رہتے ہیں، ہر حربہ آزمانے کی ان کو چھوٹ ہے، شیطان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اولاد آدم کو بہلانے ورغلانے کی مکمل کوشش کرے گا اور اس سلسلے میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گا۔

خیر کے جذبے کو ابھارنے کے لئے اللہ نے انبیاء، صالحین اور فرشتوں کو لگا رکھا ہے، یہ مسلسل انسان کو خیر اور اچھائی کی طرف بلاتے ہیں،اس کے دل میں خیالات ڈالتے اور خیر کے جذبات کو ابھارتے ہیں۔

اس کے بعد اللہ نے انسان کی مدد تکوینی طور پر اس طرح کی کہ وہ اس دنیا میں “مسلم” بناکر بھیجا جاتا ہے، بعد میں اس کے والدین وغیرہ اس کو کچھ اور بنا دیتے ہیں جب وہ غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہو، یا اس کا غلط ماحول،سوسائٹی،اور اس کی تعلیم تربیت بدل دیتی ہے جبکہ وہ ابتدا مسلمان گھرانے میں پیدا ہو۔

اللہ نے اس کے ساتھ شیطان کی قوت کو کمزور اور اس کے بہکاووں کو ضعیف قرار دیا ہے، شیطان کو انسان کے اوپر کوئی جبر، اور سلطان نہیں دی کہ زبردستی اس کو بہکا سکے، اس کو صرف انہیں لوگوں پر کچھ قابو ملتا ہے جو اس کے دوست ہوتے ہیں یا ضمیر اور ہاتف غیبی کی دعوت خیر کو ٹھکرا کر اپنی ہوا خواہشات کے غلام بن کر صدائے شیطان پر لبیک کہتے ہیں۔

اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَـعَكَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ

ترجمہ:واقعی میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیری راہ پر چلنے لگے (تو چلے)۔

اِنَّهٗ لَـيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ۞ اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡنَ  ۞

ترجمہ:یقیناً اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر (دل سے) بھروسہ رکھتے ہیں۔بس اس کا قابو تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ خیر وشر جس طرح انفرادی طور پر صادر ہوتے ہیں ایسے ہی اجتماعی اور سماجی اعتبار سے بھی صادر ہوتے ہیں۔

اب یہ دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ اس خیر وشر کے نظام میں انسان کے لئے دو طرح سے اثر کرتا ہے ۔

تکوینی طور پر: یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک چیز کا اندازہ طے کر رکھا ہے کہ وہ کسی طرح ہوگی، تقدیر، موت وزندگی، دنیا کی تخلیق، قوانین فطرت وغیرہ اسی سے متعلق ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی صرف “مشیت” ہوتی ہے ارادہ نہیں، یعنی اللہ کی رضا اس کی خوشنودی سے ان چیزوں کو کوئی تعلق عموماً نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں انسان کو بھی  کوئی دخل نہیں ہوتا، کہ وہ کسی چیز کو روک سکے یا بدل سکے، لہذا انسان اس میں کسی چیز کا نہ مکلف ہے نہ ہی اس سے اس کا حساب ہوگا۔

 شرعی اور قانونی طور : یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ پسندیدہ طریقہ جس پر وہ انسان کو چلانا چاہتا ہے، اس کے لئے وہ انسان کو ایک دستور،ایک سسٹم، ایک نظام زندگی کا پورا ضابطہ بناکر رسولوں کے ذریعے بھیجتا ہے، اور چاہتا ہے کہ انسان اپنے اختیار سے اس پر عمل کرکے زندگی گزارے۔

اس کو شریعت، دین قانون خدا یا جو بھی کہہ لیجیے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ہمیں اللہ تعالیٰ کے ان نظاموں کا پتا چلتا ہے۔

وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَكُوۡا ‌ؕ وَمَا جَعَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا‌ ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَكِيۡلٍ

ترجمہ:اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے ہم نے آپ کو ان کا نگراں نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر مختار ہیں۔

سَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَكۡنَا وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَىۡءٍ‌ ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ حَتّٰى ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا‌ ؕ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَـنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ ۞

ترجمہ:یہ مشرک لوگ یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (رسولوں کی) تکزیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ کہئیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو۔

اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنۡكُمۡ‌ ۖ وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡـكُفۡرَ‌ ۚ وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا يَرۡضَهُ لَـكُمۡ‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‌ ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمه: اگر تم کفر کرو گے تو خدائے تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں اور اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کروگے تو اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی کسی (کے گناہ) کو بوجھ نہیں اٹھاتا پھر اپنے پروردگار کے پاس تمکو لوٹ کر جانا ہوگا سو وہ تم کو تمہارے سب اعمال جتلا دے گا وہ دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے۔

وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞

ترجمہ:اور تم بدون خدائے رب العالمین کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔

 مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں کہ تم پر کوئی تنگی ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم کو پاک صاف رکھے اور یہ کہ تم پر اپنا انعام تام فرمادے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ کو تو تمہارے حال پر توجہ فرمانا منظور ہے اور جو لوگ کہ شہوت پرست ہیں وہ یوں چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔

يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏ ۞

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ تخفیف منظور ہے اور آدمی کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

ان سب آیتوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ تکوینی لحاظ سے سب کچھ اللہ کی نگرانی اور مشیت کے تحت چلتا ہے،لیکن اللہ تعالیٰ شر،فساد، کفر، ظلم اور برے کاموں کو پسند نہیں کرتا، لیکن اس کے ساتھ وہ برائی وغیرہ کو روکنے میں ڈائریکٹ اس طرح دخل اندازی نہیں کرتا کہ کسی برائی کا وجود نہ ہو، اس کے لئے اللہ تعالیٰ بندوں کو رسولوں کے ذریعے اپنی پسند ناسپند بتاکر بندوں کو اس دنیا میں اس برائی اور شر وفساد کو روکنے کا مکلف بناتا ہے، اور اپنے عدل وانصاف کے مطابق پھر پورا میدان کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ بندے کس طرح اس کے احکام پر چلتے ہیں۔

ہاں ان کی مدد کے لئے فرشتوں کے ذریعے دل میں اچھے خیالات، ضمیر کے اندر دواعی،اور باہری دنیا میں صالحین کو بھیجتا ہے، اور اگر بندے اپنے دلوں کو اس سے جوڑ لیں، اس کے احکام پر چلیں، اس کے بتائے طریقے کو فالو کریں تو پھر اس سے ان کے دلوں میں اطمینان ہوتا ہے، شیطان اور اس کے کارندوں کا خوف ختم ہو جاتا ہے، بلکہ ان کے دشمن اور گناہ گاروں کے دلوں میں رعب اور دبدبہ بھی پیدا کر دیتا ہے۔

اور یہ کوئی مسلمان کے ساتھ تعصب یا نعوذ باللہ بیجا طرف داری نہیں ہے بلکہ یہ شیطان کے مقابلے “گراؤنڈ لیول” کرنے کے لئے ہے، کیونکہ شیطان مومنوں میں وسواس کے ذریعے ڈر اور خوف بٹھاتا ہے، اور گناہوں کی طرف رغبت دلاتا ہے،اور اپنے ماننے والوں کی مدد کرتا ہے، اسی طرح اللہ اور اس کے فرشتے بھی اہل ایمان کے دلوں میں خیر ڈالتے ہیں، وسواس کا اینٹی وائرس لگاتے ہیں، اور شیطان کے دوستوں کے دلوں میں مسلمانوں کارعب بٹھاتے ہیں۔

قرآن مجید کی مومنوں کی مدد کے لئے فرشتوں کے نزول سے متعلق آیتوں میں وہی تفسیر راجح لگتی ہے کہ وہ صرف اہل ایمان کی تثبیت قلب اور غیروں پر ان کا رعب ڈالنے کے لیے اترتے ہیں، نہ کہ باقاعدہ لڑتے ہیں جس سے توازن کے بگڑنے کا الزام آئے ۔

وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰى لَـكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ‌ؕ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِۙ‏ ۞

ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ تمہارے لیے بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہوجاوے اور نصرت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست ہیں حکیم ہیں۔

اِذۡ يُوۡحِىۡ رَبُّكَ اِلَى الۡمَلٰۤئِكَةِ اَنِّىۡ مَعَكُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا‌ ؕ سَاُلۡقِىۡ فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍؕ ۞

ترجمہ:(اس وقت کو یاد کرو) جب کہ آپ کا رب (ان) فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی (مددگار) ہوں سو (مجھ کو مددگار سمجھ کر) تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ۔ میں ابھی کفار کے قلاب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم (کفار کی) گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔۔

ان آیتوں کےظاہر سے اسی تفسیر کی تائید ہوتی ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے یہی تفسیر اختیار کی ہے۔

معلوم یہ ہوا کہ دنیا میں بندوں کو اللہ نے اختیار دیکر چھوڑ دیا ہے، اور اپنے فطری قوانین رکھ دئیے ہیں، جو جیسا کرے گا ویسا ہی نتیجہ ہوگا، اس کے ساتھ قوانین شریعت اور دین دیکر بندوں کو اس کے نفاذ اور اس کی تطبیق کی ذمے داری دی ہے، اور اس کے نافذ نہ کرنے پر جو فساد، طغیان،ظلم، اور ناانصافی ہواس کا مکلف اور ذمے دار بندوں کو بنایا ہے، اور اس میں کوتاہی پر آخرت میں عذاب کی وعیدیں اس کو کھول کھول کر سنا دی ہیں۔ اور عدل کی باریکیاں دیکھئے کہ یہ نہیں کہ صرف  حکومت اور اس کے ذمے دار ہی ہر چیز کے لئے ذمے دار ہیں بلکہ اس نے ہر شخص کو اپنے ماتحتوں، اپنے زیر تربیت لوگوں کو نگراں اور “راعی” بنایا ہے، ماں باپ اولاد کے لیے، استاد، شاگرد کے لیے، افسر اپنے ماتحت ملازم کا ذمے دار ہے،پھر سماج کے معزز اراکین، علماء، صلحاء اور قائدین کی الگ ذمے داریاں ہیں۔

 اور بندے کے خلیفہ ہونے کے یہی معنی ہیں کہ دنیا کا میدان اس کے لئے کھلا ہے کہ وہ خدائی فوجدار بن کر اس کے احکام رضا اور خوشنودی کو اس دنیا میں قائم کرے۔

یہ اللہ کا صاف صاف عدل اور انصاف ہے کہ وہ دنیاوی اسباب کے تحت بندوں کی اختیار سے ہونے والی چیزوں کو ہونے دے،اور اس کے اچھے برے نتائج کا انجام آخرت میں پورا پورا ان کے سامنے رکھ دے۔

اب اگر کہیں ریپ، قتل ناحق، یا کوئی بھی ظلم ہوتا ہے تو بتائیے اس کی ذمے داری کس پر ہے؟

ظاہر ہے کہ اس کی ذمے داری کچھ تو ان والدین پر ہوگی جنہوں نے اپنی اولاد کو خدا کے قانون کی اعتبار سے تربیت نہیں دی، کیا انہوں نے غض بصر( نظر جھکانا نیچی رکھنا)، زنا کی برائیاں، اخلاق وکردار کی اہمیت، رسول اللہ کی سیرت، خوف خدا اپنے بچوں میں پیوست کیا؟

کیا انہوں نے اپنی حدود میں فحاشی، بے حیائی، ننگے پن، کو روکنے کی کوشش کی؟

کیا انہوں نے اولاد کے لباس، اس کی تعلیم وتربیت، اس کے رہن سہن کو اسلامی بنانے پر دھیان دیا؟

اگر نہیں، تو بتائیے کہ ان کا بچہ یا بچی اگر غیر اسلامی تربیت اور تعلیم کے نتیجے میں کسی کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہو جائے تو پھر خدا کے رحیم ہونے یا نہ ہونے کا کیا قصور ہے؟

پھر اس کے بعد استادوں نے کیا تعلیم بچوں کو دی، کس راستے پر ان کو چلایا؟ اگر تعلیم صرف مادیت کو ترقی، اسی دنیا میں شہرت،عزت اور دولت کو کامیابی اور ہر ممکن طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتی ہو، جس کے نتیجے میں گرل فرینڈ، بوائے فرینڈز کلچر عام ہو، اخلاق باختہ، حیا سوز مناظر فلم، ڈرامے کی شکل میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہوں، اور ان کےوہ  اداکار بچوں کے ہیروں ہوں جن کا کل مطمح نظر ہر کہانی میں ایک لڑکی کو حاصل کرنا ہو، لڑکا لڑکی کا اختلاط، اور کلچر پروگرام کے نام پر بے حیائی کا رواج ہو،محبت وعشق کا مطلب جب صرف ایک غیر محرم لڑکی سے تعلق ہی رہ جائے تو بتائیے ایسی تعلیم سے نکلنے والے اگر گھر پر نہ بگڑ سکیں تو سکول کالج میں تو ضرور کوئی نہ کوئی کارنامہ کر نے کا پورا ماحول تیار ہے ۔

پھر سکول کالج سے باہر کا “غیر مہذب طبقہ” تو ان سنیمائی مناظر اور ہیروز کی “گرل فرینڈز” وغیرہ آسانی سے دستیاب نہ ہونے کے باعث زبردستی کاپی کرتا ہے،2012 کے مشہور دہلی گینگ ریپ میں بہت سے “دانشوروں” کی یہی رائے تھی کہ ایسے “ان کلچرڈ” لوگ “کلچرڈ سوسائٹی” کے جوڑوں کو دیکھ کر  خود کے لئے یہ سہولت دستیاب نہ ہونے پر ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں۔

اس کے بعد سوسائٹی کو دیکھیے اس نے کیا اپنے افراد کے اندر خدا کی بغاوت کو پنپنے کا موقع دیا یا نہیں؟ خدا کے باغی افراد کو قبول کرنا، کوئی نکیر کرنے کے بجائے ان کے فعل پر مسرت کا اظہار کرنا یا اس کو “زمانے کے تقاضے” کہہ کر نظر انداز کرنا، یہ سب کن چیزوں کو بڑھاوا دیتے ہیں؟ خدا نے تو سماج پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمے داری ڈالی تھی، جب اس کے حکم کو صراحتا اعلانا توڑا جائے اور اس بغاوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پھر اگر اس کے طبعی اور منطقی نتائج ظاہر ہو جائیں تو ان پر یہ واویلا کرنے کا حق آخر کس کو ہے کہ “خدا کو تو رحم ہی نہیں آتا”۔.

پھر دیکھئے ،حکومتی سطح پر کیا کیا جارہا ہے، کیا زانی، ڈاکو کے لئے مناسب سزا اور شرعی حدود کا انتظام ہے؟ کیاوہ مجموعی ماحول بنایا جا رہا ہے جو عوام کو اس قسم کی حرکتوں سے باز رکھے؟

ہم تو دیکھتے ہیں کہ حکومتیں “آزادی” اور “آرٹ” کے نام پر عریانیت، فحاشی کو ہی بڑھاوا دے رہی ہیں، ورنہ “پورن ویب سائٹس”، فحش مجلات ورسائل، حیا سوز تصاویر سے بھرے اخبارات، جنسی کہانیوں سے بھرپور ناولز اور خصوصا “چائلڈ پورن” کو کھلی چھوٹ دینے کا مطلب کیا ہے؟ انٹرنیٹ پر فحاشی کا ایک الگ ہی عالم برپا ہے۔اس پر مزید، شراب،منشیات اور جوے کی بہتات اور رواج جو آدمی کو بآسانی شیطان کے پھندے میں ڈال کر اس کے عقل وحواس کو چھین لیتا ہے، پھر اسے کچھ خبر نہیں رہتی۔ اب بتائیے کہ اس سب میں خدا کی رحمت کا مسئلہ کہاں سے آگیا ؟

اگر ہم خدا سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں کچھ برا نہ ہونے دے اور زبردستی ہر برائی کو اچھائی کی طرف موڑ دے اور برائی بھی وہ جو ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے اعتبار سے چاہے،تو ہم نے مقصد تخلیق، اس دنیا کی پوزیشن کو سمجھا ہی نہیں، اور پھر مان لیجئے اگر خدا برائی کو زبردستی روکے، ہونے ہی نہ دے، یا ظالم اور مجرم کو فورا عین گناہ کرتے وقت پکڑ کر سزا دے تو سوچ لیجیے، خدا کی نظر میں جرم اور ظلم صرف “معصوم بچی سے ریپ” ہی نہیں ہے۔ پھر تو بات دور تک جائے گی، شرک وکفر، والدین کی نافرمانی، نماز، روزہ کا ترک، سود خوری، دھوکا دھڑی، جھوٹ، شراب، جوا، فلم ومیوزک، گانے بجانے، فیشن، عریانیت۔ غرض ہر چیز پر پکڑ ہوگی، پھر خدا کو یہی لوگ ظالم کہیں گے جوآج رحمت کے لئے انٹرفیئر کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پھر ریپ ہی کیا موقوف ہے بچوں کو تو مرنا بھی نہیں چاہئے، نہ بیمار ہونا چاہئے نہ ان کا ایکسی ڈینٹ ہونا چاہیے، ماں باپ کی غفلت میں ننگا تار پکڑنے پر نہ ان کو بجلی کا کرنٹ لگے، نہ ہی وہ پانی میں ڈوبیں، نہ آگ ان کو جلائے، کیونکہ ان سب میں بھی تو بچوں کو ریپ جیسی ہی بلکہ اکثر زیادہ جسمانی تکلیف ہوتی ہے، کیونکہ ریپ کے اندر جسمانی سے زیادہ  سماج میں رسوائی، ذلت اور ذہنی تکلیف زیادہ ہوتی ہے، جبکہ بچوں کو ان سب چیزوں کا زیادہ شعور نہیں ہوتا، اس کے صحیح ادراک کے لئے زیادہ عقل اور شعور اور پورے معاملے کی فہم کی ضرورت  ہوتی ہے۔

ایک امریکی عورت نے جو اسی سبب سے ملحد ہوئی کہ بچپن میں خدا نے اس کی پکار سن کر اس کو اس کی ماں کے بوائے فرینڈ کے جنسی تشدد سے نہیں بچایا، اس نے یہ کہا کہ میں نے جب عدالت میں اس کے خلاف بیان دیا تو مجھے ٹھیک سے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ کس طرح سے بتاؤں کیونکہ مجھے انسانی جسم کے “پرائیوٹ پارٹس” کے نام تک نہیں معلوم تھے، میری  ماں اور  وکیل نے یہ سب اس کو یاد کرایا تھا۔

اگر پردے کا صحیح نظم ہو، بچوں کی تعلیم و تربیت اسلامی اخلاق پر ہو، معاشرے وسوسائٹی میں کوئی بھی زانی ڈاکو قابل قبول نہ ہو، اور اس سب کے باوجود اگر کوئی ڈھیٹ جرم کرے تو حکومت اسے شرعی قانون کے مطابق جلد سزا دے تو بتائیے کس کی ہمت پڑے گی کسی بھی طرح کے زنا کی؟ خدا کا یہی عدل ہے جو انسانوں کے لئے رحمت ہے،اور اسی کے نفاذ کی ذمے داری انسان پر اس نے ڈالی ہے، ہاں اگر اس کے قوانین ہی ظالمانہ ہوتے،اور وہ عدل کا حکم نہ دیتا اور نہ ظلم پر سزا کے لئے اپنی عدالت تیار رکھتا تو پھر واقعی اعتراض کی بات تھی،لیکن قرآن وسنت کو پڑھتے اور دیکھتے جائیے تو آپ کو پتا چلے گا کہ اسلام نے خدا کا کس قدر مکمل اور جامع تصور دیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ جاہلیت کے دور سے ہی شیطان کی راہ پر چلنے والے لوگوں نے زنا کی تقسیم کرکے سب سے زیادہ نقصان پہونچایا ہے، ان کے یہاں اگر رضامندی سے نکاح کے بغیر جنسی تعلق ہو تو وہ “ریلیشن شپ” ہو جاتی ہے جبکہ صرف زبردستی کا زنا ان کے نزدیک قابل سزا “ریپ” ہے، لیکن اسلام کی نظر میں ایسی کسی تقسیم کے لئے جگہ  نہیں ہے، ہر ناجائز تعلق زنا ہے اور اس کے مرتکب سزا کے مستحق ہیں، ہمارے معیار کے لحاظ سے اللہ کے رحیم اور عادل ہونے کا تقاضہ یہ ہونا چاہیۓ  کہ ایسے زانیوں کو بھی فوری سزا دے، بلکہ “رضامندی” کے زنا کو بھی نہ ہونے دے۔

لیکن اس سب کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر انسانوں نے اپنی ذمے داری کو پوار نہیں کیا تو خدا بھی زانی کو یوں ہی چھوڑ دے گا، وہ اس کو نہ صرف یہ کہ آخرت میں سخت عذاب دے گا، بلکہ دنیا میں اس کی زندگی دوبھر کر دے گا، حدیث میں ہے کہ زانی شخص کو اللہ تعالیٰ فقر میں مبتلا کر دیتے ہیں، اس کو ایک پل بھی ذہنی سکون نہیں رہتا، اس کے تعلقات اپنے ملنے والوں سے خراب ہو جاتے ہیں،وہ  نشے کا عادی، نفسیاتی مریض بن جاتا ہے، ہر پل اس کی ایک موت ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے دل کو اچھائیوں سے خالی کر دیا جاتا یے، خدا کی یاد، اس کاخوف، اس کی حیا، اس کے سامنے جواب دہی، رحم دلی، شفقت ان سب جذبات سے وہ خالی ہوکر ایک حیوان بن جاتا ہے، حتی کہ زنا کرتے وقت تو اس کا ایمان ہی ختم ہو جاتا ہے۔

لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن

 مطلب یہ کہ زنا کرتے ہوئے زانی شخص مومن نہیں رہتا، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتی،اور اس حالت پر اس کے بارے میں سخت خطرہ ہوتا ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو، جس سے اس کے لئے ہمیشہ کی جہنم کا عذاب تیار رہتا ہے۔

اگر کسی شخص کو واقعی اہمیت ہو،اور اس کی صحیح سمجھ ہو تو اسے پتا چلے کہ ایمان اور خدا کی یاد کتنی بڑی نعمت ہے، سخت دلی اور بے رحمی کتنی بڑی محرومی ہے، اور چند لمحے کے مزے کی دنیا کے اندر بھی نفسیاتی و جسمانی سزا (اگر شرعی حدود کی شکل میں دی جائے) کتنی سخت ہے، اور آخرت میں تو کتنا عبرت ناک انجام ہوگا اس کا تصور بھی ممکن نہیں، اور اس سے پہلے قبر کا عذاب الگ رہا۔

دوسری طرف مظلوم  بچی کونہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس کا بہترین بدلہ دے گا بلکہ اس کو بڑا ہونے پر اس ذہنی، نفسیاتی کرب اور بے چینی سے بھی (اگر قانون خدا پر چلے)  نجات دے گا اور اس کے لئے آخرت میں تو نہ صرف اپنے ظالم پر مقدمہ کا حق ہے بلکہ اس کو بیش بہا ابدی نعمتیں بھی عطا ہوں گی، اگر اس بچی کا انتقال اس جرم کے سبب ہو جائے تو وہ نہ صرف شہید ہوگی بلکہ آخرت میں اپنے گھر والوں کے لئے شفاعت کا ذریعہ بنے گی(بشرطیکہ ان کا خاتمہ شرک وکفر پر نہ ہو)

قرآن میں تو اللہ نے زمانہ جاہلیت میں زندہ دفن کی جانی والی لڑکی کاذکر کرکے اس کے مقدمے کی روداد بھی بیان کی ہے۔

وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُئِلَتۡ ۞بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ‌ۚ

کہ زندگی درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی تاکہ اس کے قاتلوں پر حجت پوری کرکے ان کو سزا دی جائے۔اس وقت کی اس ظالمانہ رسم کو ختم کرنے کی ذمے داری بھی اللہ نے انسانوں کو دی، اور ان کے ذریعے اس بری رسم کا خاتمہ کرایا۔ ہر دور کے انسانوں کو اللہ کی یہی ہدایت ہے، اگر وہ اس پر چلتے ہیں تو ان کی مدد بھی خدا کی طرف سے ہوتی ہے،اور دنیا میں انسانوں کو بھی امن وسکون ملتا ہے، اور جب وہ خدائی حکم کو چھوڑ کر ہر چیز میں بغاوت شروع کرتے ہیں تو خدا کی مار بھی پڑتی ہے۔

سوال کرنے والے کو ان بچوں کے بارے میں بھی سوال کرنا چاہیے جنہیں اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیا گیا، فواحش اورزنا کے سیلاب کا نتیجہ یہی ہے کہ اپنی حیوانی خواہشات کو پورا کرکے اس کے نتیجے اور ذمے داری کو قبول نہ کرنے والا انسان اپنی ہی اولاد کا قتل کر بیٹھتا ہے، ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ہوتے یہ “ابورشن” اور “اسقاط حمل” کیا یہ ایک “بچی کے ساتھ ریپ” سے کم گھناؤنا اور ظالمانہ کام ہے؟ پھر اس سماج وسوسائٹی نے اس کو قبول کیوں کر رکھا ہے؟ جب سماج میں ہر طرف قاتل گھومیں گے تو پھر ان میں زانی بھی پیدا ہوں گے۔ بلکہ زانی ہی قاتل بنیں گے کیونکہ زنا کے لئے ماحول تیار کرنے میں سوسائٹی، گھر، اور حکومت سب ذمے دار ہیں، اور زنا کے نتائج کو روکنے کے لئے قتل ہوتے ہیں، تو پھر گمبھیر نتائج بھی یہی سماج بھگتے گا، یہ سنت اللہ ہے اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوتی۔

اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے۔واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة.

کہ اس فتنے سے بچو، جو صرف ظالموں کو ہی نہیں پڑےگا، بلکہ ظالموں کی وجہ سے ان کے مظلوم بھی لپیٹے میں آجائیں گے، ہاں یہ بات الگ ہے کہ مظلوموں کو آخرت کا عذاب جو کہ صحیح معنی میں اصل سزا ہے اور جس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی تکلیف کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، وہ ان کو نہیں ملے گا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث سے جو آخری زمانہ کے بارے میں ہےجس میں مکہ مکرمہ کی طرف بڑھنے والے ایک لشکر کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے، جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ ان میں تو ایسے لوگ بھی ہوں گےجو اس جرم میں شریک نہ ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب ہی ہلاک ہوں گے لیکن جب دوبارہ زندہ ہوں گے تو سب کا انجام ان کی نیتوں پر ہوگا۔

عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ عَبْدِاللهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ»، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»؛ متفق عليه

اسی طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری زمانے کے بارے میں سن کر پوچھا کہ کیا لوگ تب بھی ہلاک ہوں گے جبکہ نیک لوگ ان کے درمیان ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب خبث یعنی گناہ، اور معاصی اور فواحش بہت بڑھ جائیں گے تو پھر سب ہی دھرے جائیں گے، مظلوم، غیر مظلوم، وغیرہ۔

 عن زينب بنت جحش أم المؤمنين رضي الله عنها أن النبي ﷺ دخل عليها غضبان يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذا، وحلق بين أصبعيه السباحة والوسطى فقالت له زينب رضي الله عنها: يا رسول الله أنهلك وفينا الصالحون؟! قال: نعم إذا كثر الخبث!

یہ خدا کا نظام ہے، جس کی حکمتوں،اور مصلحتوں کو سمجھنا ایک انسان کے بس میں ہوتا تو وہ انسان ہی کیوں ہوتا، انسان کی سمجھ،عقل وفہم تو ہمیشہ دو روٹی کمانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتی، اسے یہ تک نہیں پتا کہ اگلے پل اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے، اس کے اندر یہ سمجھ، شعور، فکر، اور ان سب خیالات کو آخر کس نے رکھا دیا ہے؟ کیا خود ہی انسان وجود میں آگیا ہے؟ اگر واقعی سب کچھ یوں ہی وجود میں آگیا ہے اور خدا کا وجود نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ اندھے مادے کو پھر “رحم” “ظلم” وغیرہ کسی اخلاقی اچھائی یا برائی کا کیا پتا ؟ بلکہ کوئی بھی چیز اچھی ہے یا بری یہ طے کون کرے گا؟ ہر شخص کا معیار الگ ہے زانی شخص کو زنا میں ہی لذت مل رہی ہے تو پھر اسی کو کیوں برا کہا جائے،وہ توچونکہ آپ کے نظریہ کے مطابق خدا کے بغیر صرف مادے کی پیداوار ہے اور “ایولیوشن” یا “ارتقاء” کے اصولوں پر اپنی “فٹیسٹ” راہ طے کر رہا ہے، تو اس کا کیا قصور؟

  مادے کے اندر کوئی خیر وشر کا “کوڈ” نہیں ہوتا، بلکہ خالص مادے کی پیدائش انسان کو کوئی “فری ول” یا آزادنہ اختیار ہی کہاں ہوتا ہے، (جیسا کہ دور جدید کے ملحدین کا گرو گھنٹال سام ہیرس کہتا ہے) وہ تو جیسے اور جہاں مادہ اور اس کی “جبلت” اس کو چلا رہی ہے,چل رہا ہے؛ پھر ویسے بھی خدا کو اگر رحیم نہ مان کر نکال دیا جائے تو الحادی نظریہ کے مطابق سروائول آف فٹیسٹ” یعنی “بقاء اصلح” کے تحت تو کمزور اور مظلوم کو جینے کا حق ہی نہیں ہے۔اور خدا کو مانے بغیر رحم، خیر، شر،ظلم سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے یا تو خدا کو اس کی تمام صفات، خوبیوں کے ساتھ مان کر یہ تسلیم کر لو کہ کمی ہمارے عمل میں ہے اور خدا کی حکمتوں کو سمجھنا ہمارے بس کا نہیں ہے، جوکہ خود لفظ خدا کا تقاضہ ہے،ورنہ ہم ہی خدا کیوں نہ ہوتے اگر سب کچھ سمجھ لیتے،۔پھر ہماری جہالت،کمزوری، اور ناواقفیت کے سینکڑوں نظارے روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے رہتے ہیں جو صاف ثابت کرتے ہیں کہ ہمیں خدا تو کیا، اس پوری دنیا تو کیا ،اپنے شہر،سوسائٹی، اور گھر بلکہ اپنی ذات تک کے مسئلے مکمل سمجھ میں نہیں آتے، اور اکثر حل بھی ہمارے پاس نہیں ہوتا، تو پھر ہم، اپنے خاص ماحول کے نتیجے میں بنے اپنے مزاج کے خلاف ایک خاص واقعے کو دیکھ کر کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ خدا کو یوں ہونا چاہیے تھا،یوں کرنا چاہئے تھا،ورنہ وہ خدا نہیں ہے۔

یا پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ خدا کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کو زندگی سے خارج کیا جائے تو اس وقت ہم دیکھ لیں کہ ہماری پوزیشن  کیا رہ جاتی ہے؟ ہم پھر کہاں کھڑے ہیں؟ کس نظریہ اور کس موقف کو اختیار کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم پھر رحم، ظلم، اور اچھائی، برائی کی بات کرنے کے لائق عقلی اور علمی اعتبار سے رہ جاتے ہیں؟

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...