Home » ادب » حرم کے پاسبانوں سے خطاب
ادب

حرم کے پاسبانوں سے خطاب

محمد طاہر سلیمی بھیسانوی

ہواؤں کا جگر تھراۓ وہ آواز پیدا کر
خدا کی نصرتیں آئیں گی تو پرواز پیدا کر

جھپٹ پڑ خیل باطل پر سراپا شیر نر بن کر
چٹانیں چور ہوجائیں تو وہ انداز پیدا کر

خموشی تیرے بیڑے کو تلاطم میں ڈبودےگی
صلاح الدین بن جا پھر سے سوزوساز پیدا کر

یہ کالے بل جو آتے ہیں تملق کا نتیجہ ہیں
نہ بن روباہ غافل شوکت شہ باز پیدا کر

ہیں کھیون ہار اس کشتی کےدلی جامعہ والے
نہ ان کو چھوڑ تنہا یک رنگی کا ناز پیدا کر

ہتھیلی پر لئے جان اپنی آ! ملت کو اپنا لے
نہ رہ اپنوں سے بیگانہ یہ دل کا راز پیدا کر
حرم کے پاسباں ہرگز نہ غافل ہوں ستمگر سے
سلیمی اٹھ کے اس غزوے کاتو آغاز پیدا کر

 

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...