Home » اسلامیات » ماں: ایک عظیم نعمت: محمد اللہ قیصر
آج کا تجربہ اسلامیات نقطۂ نظر

ماں: ایک عظیم نعمت: محمد اللہ قیصر

                                           

کیا آپ کی ماں زندہ ہیں، اگر ہاں، تو یقین کیجئے آپ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں، مشکلات اور پریشانیوں کے تلاطم خیز طوفانوں میں گھر جائیں تو چار پائی پر بیٹھی بیمار ماں کی ایک نظر بھی آپ کو چٹانوں سے ٹکرا جانے والا حوصلہ دیتی ہے، اس کے ایک چھوٹے جملہ “گھبراؤ مت، اللہ ساتھ ہے” میں پتہ نہیں کیا جادو ہے، جو مصائب کے خوف سے سرد ہوتے خون کو وہ حرات بخشتا ہے، کہ انسان ہنستے کھیلتے ان سے گذرجاتا ہے۔

ماں خوشی اور غم دونوں میں آپ کی مخلص ترین اور بے لوث حصہ دار ہوتی ہے، بیوی بچے، بھائی بہن، دیگر اقرباء سب کے اپنے مفادات و مصالح ہو سکتے ہیں یہ ممکن ہے، لیکن ماں آپ کی خوشی میں بس خوش ہوتی ہے، اور غم میں صبر کا کوہ گراں، جس کے سامنے غم و اندوہ کی کوکھ سے نکلنے والا نا امیدی کا سیلاب تھم جاتا یے۔ ماں کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا، وہ اپنے ملال کو چھپا کر آپ کے سامنے بس اس لئے مسکراتی ہے کہ میرا لعل کہیں رنجیدہ نہ ہوجائے، گھر سے نکلتے ہیں تو نظریں چھپاکر روتی یے۔

ماں تنہا وہ ذات ہوتی ہے جہاں آپ کچھ بولتے ہوئے تحفظ کا شکار نہیں ہوتے، جن کے نزدیک آپ کو الفاظ کے انتخاب میں یہ فکر نہیں ہوتی کہ کہیں فلاں لفظ دل شکنی کا سبب نہ بن جائے، خوشی کا موقع ہو یا غم کا، آپ اپنے دل کی بات کرتے ہیں، بے جھجھک، بے دھڑک، بے خطر؛ جہاں کچھ چھپانے کی حاجت محسوس نہیں کرتے، تملق و ملمع سازی کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، صرف ان کے نزدیک دل،دماغ اور زبان تینوں یکجا ہوتے ہیں۔

خالق نے “ماں” نام کی ایک ہی نعمت پیدا کی جس کا بدل کوئی نہیں اور کچھ ہو بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ نعمت چلی جائے تو مداوا کی شکل بھی کوئی نہیں، اہل زبان نے ایسا کوئی لفظ ایجاد نہیں کیا، جو صبر و سلوان کا ذریعہ بن جائے۔ ہاں! بس ایک راستہ سمجھ میں آتا ہے، جب بے چینی بڑھنے لگے تو ماں سے زیادہ رحمت و مہربانی والی ذات، خالق و مالک سے ماں کے لئے کچھ بھیک مانگنے کے لئے، ہاتھ پھیلائیے، دل کا بوجھ آنسوؤں کی شکل میں نکلتا محسوس ہوگا، صبر کی کچھ گنجائش نکل آئے گی، جس نے اس عظیم ہستی کے جیتے جی اس کی قدر جان لی وہ سرخ رو ہوگیا، اور جس نے غفلت برتی وہ اس کے چلے جانے کے بعد سر پیٹتا ہے۔

 لوگ کہتے ہیں کہ ماں شفقت، محبت، عنایت، ہمدردی، مہربانی، ایثار و قربانی کا نمونہ ہوتی ہے، ایسا کیوں نہ کہا جائے کہ وہ تمام صفات جن میں ایثار و قربانی کا عنصر ہوتا ہے، اس کے مجموعہ کو ہی “ماں”کہا جاتا ہے، رب کریم ماں کی فطرت میں اپنے جگر گوشے کی محبت ودیعت کردیتا ہے، شفقت و ہمدردی ان کی طبیعت میں ہوتے ہیں، بچہ آہ کرتا ہے تو وہ روتی ہے، روتا ہے تو وہ تڑپتی ہے، سسکتا ہے تو وہ بلکتی ہے، اس کی ایک ہلکی کھانسی بھی ماں کو میٹھی نیند سے بیدار کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس کی قربانیوں کو کماحقہ بیان کرنا حد امکان میں نہیں، وہ قربانیوں کا مجسمہ ہوتی ہے، تبھی تو باری تعالیٰ نے ماں کے لئے جو دعا سکھائی اس میں اس میں کہا رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِىۡ صَغِيۡرًا ۞ “ ایسے ہی رحم پر فرما جیسے انہوں نے ہمیں پالا پوسا”۔

 ان کی قربانیوں کی تفصیل خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اولاد کے تئیں ان کے احساسات و جذبات بھی ناقابل بیان ہیں، چنانچہ ان کے احسانات کا بدلہ بھی ناممکن ہے، انسان کے بس میں نہیں، وہ صرف مالک ارض و سماوات دے سکتا ہے، اس لئے قربانیوں کا بدلہ چکانے کا حکم دینے کی بجائے حکم دیا کہ رب کے حضور درخواست کرو، وہی دے سکتا ہے، وہی دے گا۔

ماں ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ نعمت کہاں جانے والی ہے، انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس کی زندگی پر میرے شب و روز کا مدار ہے وہ کیسے دور ہوسکتی ہے، اس پر تو میرا ایسا حق ہے، جسے کوئی مجھ سے چھین نہیں سکتا، لیکن اچانک ایک دن آتا ہے، کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے یہ دولت چلی جاتی ہے، آپ بے یارو مدد گار، بے بسی کے تصویر بنے دیکھتے رہ جاتے ہیں، پھر چند ساعتوں بعد اپنے کاندھے پر انہیں ایک ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں دن کو جاتے ہوئے آپ خوف محسوس ہوتا ہے، بالآخر سسکتے، بلکتے، آنسوں کے سمندر غرق ہوکر، اسی کو اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے دفن کردیتے ہیں جو کبھی آپ کو گود میں لے کر اتنی خوش ہوئی ہوگی جیسے اسے دونوں جہان کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو، پھر اذیت کے دن شروع ہوتے ہیں ایک ایک پل احساس ہوتا ہے کہ جانے والی نعمت کس قدر انمول اور قیمتی تھی، وہ تو آپ کے درد دل کی دوا تھی، دہکتی دھوپ میں چھاؤں اور بلاخیز بارش میں آرام دہ سائبان تھی، مصائب کے طوفان پھنس جائیں تو ساحل تک پہونچنے کا آخری سہارا، ان کے جانے کے بعد قدم قدم پر اس کے نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے، چلتے پھرتے گھر کے ہر کونے سے ان کی آواز گونجتی ہے، کبھی آنگن میں تو کبھی گھر کے اندر یا دہلیز میں ان کے قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے، مصلے پر بیٹھی رب سے راز و نیاز کی کی باتیں کرتی نظر آتی ہیں، کھانے میں دیر ہو جائے تو محبت بھری خفگی کے عالم میں کھانے کا حکم دیتی سنائی دیتی ہیں، باہر سے آئیں تو دروازے کھولتے ہی لگتا ہے جیسے ماں پوچھ رہی ہو، کہاں تھے اب تک؟ کچھ کھایا؟ سرد رات میں ماں کے کمرہ سے وقفہ وقفہ سے ہلکی ہلکی کھانسنے کی آواز غائب ہوتے ہی سناٹوں کا وہ روح فرسا دور شروع ہوتا ہے، جب آپ رونا چاہتے، چیخ چیخ کر کسی کے سامنے حال دل بیان کرنا چاہتے ہیں، لیکن لمبی سانسیں، کلیجے کی تیز ہوتی دھڑکن اور چھت کو گھورتی ہوئی ،پتھرائی آنکھیں جہاں آنسوں خشک ہوچکے ہوتے ہیں، اجازت نہیں دیتے، وہی ماں جو اس وقت آپ کے سامنے بیٹھی ہے، جب چلی جائیں گی تو خدا کی قسم لمحہ لمحہ اس آرزو میں گذرے گا کہ کسی طرح سامنے آجاتی، صرف دو بول کا موقع مل جاتا ،پوچھ لیتا، “امی طبیعت ٹھیک ہے” طبیعت ناساز ہوتے ہوئے بھی مسکرا کر کہہ دیتی “اچھی ہوں” سوجاؤ، اور میں سوجاتا، ہر آن یہ تمنا منہ چڑائے گی کہ کسی لمحہ امی آپ کو آواز دیتیں، آپ دوڑ کر جاتے، مسکراکر کہتیں، گرم پانی لے آؤ، یا یہی پوچھ لیتیں کہ میری دوا کہاں ہے، یقینا جانے والدہ کے روپوش ہوتے یہ تمنائیں قلب و جگر کے اتنے ٹکڑے کریں گی کہ زندگی کے تماشوں سے لطف اندوز ہونے کا ذوق دھواں ہو جائے گا، 

 ان کے جانے کے بعد، پیشانی کی لکیروں سے خوشی و غم کا صحیح اندازہ لگانے والا کوئی نہیں رہتا، آپ کا خیال سب کو اپنے بعد آتاہے، بس ایک ماں ہے جسے آپ کا خیال اس کی اپنی جان سے بھی پہلے آتا ہے۔

جن کی مائیں ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہیں، اس انمول رتن کی حفاظت کیجئے، والدین کے متعلق اللہ و رسول کے جتنے ہدایات ہیں ان پر عمل کیجئے، خوش رہیں گے۔ 

دنیا کے تمام جاندار پیدائش کے بعد ہی اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ اپنے خورد و نوش کی تلاش میں لگ سکیں، لیکن یہ چوڑی چھاتی والے، حضرت انسان کی پوزیشن ایسی ہوتی ہے کہ چند ساعت انہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جائے تو ہست سے نیست، پیدائش کے بعد ایک عرصہ تک انہیں ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو ننھی جان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھے، اسے گرمی کی تپش اور ٹھٹھرتی سردی میں اپنے بجائے اس نومولود کی پرواہ ہو، اس کے دکھ، درد، بیماری پریشانی، ہر موقع پر والدین اپنی مصیبت بھول جاتے ہیں، اگر غربت و ناداری اپنے کٹار سے وار کرے، اور روٹیوں میں صرف ایک کا بھوک مٹانے کی گنجائش ہو تو اولاد کو ترجیح دینے والی ذات کو ماں کہتے ہیں، کبھی ایسا موقع آجائے کہ اپنی اور نومولود کی جان میں کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے لمحہ بھر کا توقف ان کے لئے محال ہو جاتا ہے، 

اسی شفقت و محبت، ہمدردی، اور ایثار و قربانی کا جذبہ رکھنے والی ذات کو تو “ماں” کہتے ہیں، رب کریم نے کئی جگہوں پر اپنے حقوق کی ادائیگی کا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ 

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِی اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِاالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔(البقرة ٨٣) اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد کیا کہ نہیں عبادت کروگے کسی کی سوائے اللہ کے اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کروگے

وَاعْبُدُواللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْ بِہٖ شَیْئاً وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً (النساء ٣٦) اللہ ہی کی بندگی کرو، کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، 

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡئًـــا وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ۚ (الأنعام ١٥١) کہئے، آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے کیا چیزیں تم پر حرام کی ہیں، یہ کہ کسی شئے کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، 

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ (الاسرا ٢٣)اور فیصلہ کردیا ہے، آپ کے رب نے کہ مت عبادت کسی کی سوائے اس کے، 

 اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ (لقمان ١٤) شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا۔

احادیث میں بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں، جس کے والدین ناراض ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجی گئی ہے، اس کیلئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی جو

والدین کی خدمت کرکے خود کو جنت کا حقدار نہ بنا سکے، خوش خبری سنائی گئی کہ والدین خوش ہیں تو مالک بھی خوش ہوگا، ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ جہاد کی اجازت طلب کی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تیری ماں زندہ ہے، فرمایا، جی ہاں، فرمایا، جاؤ اس کی خدمت کرو، اسی میں محنت کرو، والدین کو حسن سلوک کا سب سے بڑا حق دار بتایا، پھر اس میں بھی پتہ چلتا ہے کہ ماں کا حق زیادہ ہے، ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی، حدیث پاک میں ہے کہ ان تین لوگوں میں جو غار میں پھنس گئے تھے، اور دروازہ چٹان سے بند ہو گیا تھق، ان میں ایک شخص نے والدین کی خدمت کے واسطہ سے بھی دعا کی تھی جس اللہ نے چٹان کے راستے کو تھوڑا سرکاکرکشادہ کر دیا ہٹادیا، اور پھر تینوں کے مجموعی اعمال صالحہ کے واسطے مکمل چٹان ہٹ گئی۔

نافرمانی پر وعیدیں بے شمار ہیں، والدین کی نافرمانی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، نافرمان کو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں ہی ملے گی، والدین پر لعنت کرنے والوں پر خدا کی لعنت کا اعلان کیا گیا، والدین کی نافرمانی کو شرک جیسے کبائر کے ساتھ شمار کیا گیا ہے، 

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ والدین کے سامنے ایسے رہو جیسے گناہ گار، اور ذلیل غلام اپنے سخت دل آقا کے سامنے رہتا ہے۔

یہ احکامات خداوندی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبشرات و وعید والدین کی اہمیت کو کھول کھول کے بیان کر رہے ہیں، ایک مومن کے لئے یہی دلائل کافی تھے، لیکن بار بار تلقین کا مطلب ہے کہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے، اور ظاہر ہے، خاندانی اکائی کی اصل بنیاد ماں ہوتی ہے، اگر اس کے تئیں اولاد میں فنائیت کا جذبہ ہو گا تو اس کی شاخوں سے بھی محبت، و مودت اور اتحادو اتفاق کا احساس بیدار ہوگا، حمل ٹھہرنے سے لیکر پیدائش پھر نومولود کی پرورش میں ماں باپ کی محنت، مشقت، جدو جہد، اور قدم قدم پر ان کے ایثار کو ہم نہیں جانتے، جانتے ہیں تو دنیا کے دوسرے جھمیلوں میں پھنس کر نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں، پھر انسانی فطرت ہوتی ہے کہ کسی کی ایک چوک نظر آئے تو اس کی ہزار خوبیاں نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے، کبھی کبھی انسان کو لگتا ہے کہ والدین کا کوئی مخصوص فیصلہ ان کے خلاف ہے، دوسرے بھائی کے حق میں ہے، اس طرح وہ بدظنی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی پرورش میں والدین کی بے مثال قربانیوں کو بھی فراموش کرنے کی جرات کر بیٹھتے ہیں، اس سے بڑا غیر انسانی رویہ کچھ نہیں ہو سکتا، شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے، کیوں کہ انسان اس ذات کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ٹھہرا تا ہے جس نے صرف اس انسان کو نہیں بلکہ اس پوری کائنات کو وجود بخشا، پیدا کرنے کے بعد اس کی بقاء کا انتظام بھی کیا، اتنے عظیم احسان کو بھول کر کسی اور کی عبادت یقینا ظلم عظیم ہے، اس کے بعد جو سب سے بڑا گناہ ہے وہ والدین کی نافرمانی کیوں یہاں انسان اپنی پیدائش اور رب کے پیدا کردہ اسباب بقاء کو جمع کرنے والے کے احسان کا انکار کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں شرک و کفر میں خالق کے احسان کا انکار کرتا ہے تو عقوق والدین میں خالق کے معین کردہ محافظین کے احسان کا انکار ہوتا ہے، اسی لئے شاید بار بار والدین کے احسانات ان کی قربانیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، نافرمانوں کےلئے سزا کا اعلان ہوا ہے۔

اسلاف سے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی فرمانبرداری کے جو محیر العقول واقعات منقول ہیں، شمار میں، وہ سب اس لئے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی حقیقت ان پر پوری طرح منکشف تھی۔

اس ضمن میں اپنا ایک ذاتی واقعہ ذکر کرنا مناسب ہوگا فائدہ سے خالی نہیں۔میرے بھانجے کی پیدائش کے بعد جن دشواریوں کا سامنا تھا ان کے متعلق میں نے اپنے بہن سے ازراہ مذاق کہا کہ ان کی ویڈیو بنالو، بڑے ہوں گے تو دکھانا کہ تمہاری پرورش میں کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس نے کہا: “بھائی! ہم سب کی زندگی خود ویڈیو ہے، ہر انسان سوچ لے کہ اپنے بچوں کی پرورش میں جو قربانیاں ہم دے رہے ہیں، ہمارے والدین نے بھی دی ہوگی، بلکہ ممکن ہے کہ ان سے بڑی ہوں”۔

اللہ ہم سب کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی توفیق دے، ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ دے، ہماری کوتاہیوں کو معاف کرے۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...