Home » اہم شخصیات » آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا- مفتی اعجاز ارشد قاسمی، جرأت مند کوہ پیما
اہم شخصیات

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا- مفتی اعجاز ارشد قاسمی، جرأت مند کوہ پیما

محمد اللہ قیصر قاسمی

بات ہے، مدرسہ بشارت العلوم کھرایاں پتھرا کی، والد صاحب مجھے مدرسہ لیکر آئے ، شعبہ حفظ میں داخلہ ہوا، تعلیم کا آغاز ہوا، دیکھا طلبہ کے ہجوم میں ایک طالب علم کا بڑا چرچا تھا،وہ اساتذہ کے منظور نظر ، تو طلبہ کے مابین قابل رشک ہے، کبھی ذہانت و ذکاوت کی تعریف ہوتی،کبھی محنت ، لگن اور شوق و جذبہ کی، کوئی اس کی اطاعت گزاری و فرمانبرداری کا ثنا خواں ہے، تو کوئی اساتذہ کے تئیں اس کی بے پناہ عقیدت و محبت پر فدا ہے،
ایک ہونہار طالب علم کو جن خصوصیات کا حامل ہونا چاہئے دست قدرت نے بظاہر ان تمام خوبیوں سے خوب نوازا تھا، ہفتہ واری انجمن سے لیکر دیواری پرچہ”البشارت” کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد، اس کی مضامین نویسی ، اور اس نوعمری میں رموز تحریر پر قابل رشک گرفت کی ستائش میں طلبہ کیا اساتذہ بھی رطب اللسان، کون ہیں یہ؟ جس کی تعلیمی سرگرمیاں ہر جگہ اس کے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں، یہ ہیں، چندرسین پور کے رہنے والے، “اعجاز بھائی” یعنی مستقبل کے “ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی”، حرکت و نشاط، حوصلہ مندی، اولوالعزمی، جہد مسلسل اور عمل پیہم کی مجسم شکل، ایک طالب علم کو جن خوبیوں کا حامل ہونا چاہیے ان تمام خوبیوں سے مالامال، ذہین، فطین، قوت فہم و ادراک کے ساتھ بلا کا حافظہ، چستی و پھرتی بے نظیر، انہوں نے قابل رشک شخصیت پائی تھی۔
مفتی اعجاز ارشد صاحب کا آبائی وطن صوبہ بہار کے مدھوبنی ضلع میں واقع ایک مردم خیز بستی چندرسین پور ہے،گاؤں میں ایک قدیم زمانے سے دینی تعلیم کا عمومی ماحول تھا، اسلئے یہ ہمیشہ اہل علم کا مسکن اور مشاہیر علما کی بستی رہی ہے،ولی کامل مولانا بشارت کریم گڑہولوی رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز مولانا عبد الحفیظ صاحب، مولانا سعید
صاحب، مولانا عتیق الرحمن صاحب، مولانا امیر حسن صاحب، مولانا زبیر احمد صاحب و مولانا اہل اللہ صاحب رحمہم اللہ کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ اس گاؤں نے علوم دینیہ کے انمول شہ پاروں کو جنم دیا ہے۔
مفتی اعجاز ارشد رحمۃ اللہ علیہ بچپن سے ہی انتہائی ذہین و فطین تھے، یہ دیکھ کر والدین نے نو عمری میں ہی مدرسہ بشارت ہم العلوم دربھنگہ میں داخل کردیا، جہاں بہت جلد اپنی ذہانت اور حصول علم کے ذوق و شوق کی بنا پر اساتذہ کے منظور نظر بن گئے، ہر درجہ میں اعلی نمبرات حاصل کرتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے رہے، ابتدائی عمر سے ہی لکھنے پڑھنے کے شوق نے گویا فطرت کی شکل اختیار کرلی تھی، بنا بریں اپنے مخلص اساتذہ کے مشورے سے مدرسہ میں پہلی مرتبہ اپنے استاذ مولانا سیف الاسلام صاحب قاسمی، کی نگرانی میں “البشارت” کے نام سے دیواری پرچہ نکالنا شروع کیا، اپنے درجہ میں تمام ساتھیوں میں سب سے کم عمر؛ لیکن تعلیمی مشاغل میں سب پر فائق تھے، عربی پنجم تک بشارت العلوم میں رہے، پھر آنکھوں میں علوم دینیہ کے ہر متلاشی کی آخری تلاش، “دارالعلوم” میں داخلے کا سپنا سجائے دیوبند کا رخ کیا، پہلی کوشش میں کامیابی ملی، یہاں بھی مفتی صاحب بہت کم عرصے میں کبار اساتذہ کی نظر اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیاب ہو گئے، خوب تر کی تلاش کے جذبے سے سرشار ایک نوجوان مدرسہ کے روایتی ماحول میں، اپنے جیسے ہزاروں نوجوانوں کے بیچ پلتا رہا، بڑھتا رہا؛ ماہر غواص اساتذہ کی نظر اس در نایاب پر پڑی تو اس کی خوابیدہ صلاحتیں کسی سے پوشیدہ نہ رہ سکیں، تجربہ کار جوہری کی نظروں نے اس میں موجود تابناکی کی مخفی صلاحیت کوبھانپ لیا، اساتذہ نے ہر ممکن رہنمائی کی، ماہر سنگ تراش اس کی مناسب تراش خراش میں جٹے رہے ، 1996 میں دورہ حدیث سے فراغت کے بعداپنے اندر موجود حصول علم کے جذبۂ فراواں کی تسکین کیلئے، دارالافتا میں داخلہ لیا، پھر اپنی صحافتی تشنگی بجھانے کیلئے اور روایت سے ہٹ کر اپنے اندر موجود نئی اور تعمیری سوچ کو تجربہ کار اور ماہر رجال ساز کے ہاتھوں کندن بنانے کیلئے ”شیخ الہنداکیڈمی” میں داخل ہوئے، جہاں مولانا کفیل احمد علوی رحمہ اللہ کی تربیت نے ان کے قلم کو چار چاند لگا دیا، مولانا نے اس نوخیز گلاب کے پودے کو سجایا،سنوارا، جس کی عطر بیز کلیاں، مستقبل قریب میں گلشن کو لالہ زار، اور ماحول کو معطر کرنے کیلئے بے قرار تھیں، سیپ سے نکلے ہوئے اس موتی کو در آبدار بنایا، جو عنقریب صحافت کی دنیا میں اپنی موجودگی سے روشنی بکھیرنے کو مچل رہا تھا،
ابھی طالب علمی کا دور تھا کہ صحافت کے میدان میں ان کی شہرت دارالعلوم کی چہار دیواری سے نکل کر علم و فن کے قدردان، دانشوران، میدان صحافت کے شہسواروں اور مردم شناس، نباض اور تجرکار اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگی، گویا میدان عمل میں آنے سے قبل ہی ان کی شہرت علم و فن کے میکدوں کے دروبام کا طواف کر رہی تھی، یہی وہ زمانہ تھا، جب ان کے فکر اخاذ اور زوردار و آبدار قلم سے میدان صحافت کے شہسواروں کی آنکھوں کو خیرہ کردینے والی کتاب” من شاہ جہانم” منظر عام پر آئی، فارغین مدارس پر الزام تھا کہ وہ صحافت کے گلیاروں سے گریزاں رہتے، بلکہ بھاگتے ہیں، یہ کتاب اردو میں فن صحافت کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے والی ایسی کتاب تھی، جو صاحب کتاب میں موجود “خوب تر” کی متلاشی فطرت کی عکاس تھی، جس کا ملک کے چوٹی کے صحافی اور اہل قلم حضرات نے دل کھول کے اعتراف کیا، ساتھ ہی نوعمر صاحبِ کتاب کے ذہنِ رسا کو بھی خوب داد و تحسین سے نوازا۔
دنیا میں جب “دہشت گردی” کا بھوت دکھا کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش رچی گئی، اور اس کی آڑ میں مسلم ممالک کو تاراج کرنے کا سلسلہ شروع ہوا،تو اس بین الاقوامی سازش اور شیطانی جال کی لپیٹ سے ہندستانی مسلمان کیسے محفوظ رہ سکتے تھے، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ تقسیم ہند کے بعد ایک بار پھر امن و آشتی کے گہوارہ ہندستان میں مسلمانوں کے گردگھیرا تنگ کرنے کے مقصد سے دہشت گردی کا ”بھوت” مغربی دنیا سے درآمد کیا گیا، ابتدائی ایام تھے، ہر کوئی اسلام اور مسلمانوں کی سنگدلی کی کہانیاں بیچ رہا تھا ،اخبارات و رسائل اس شد و مد کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر حملہ آور تھے کے مسلم لیڈران،علما و دانشورانِ قوم، حواس باختہ ہوکر دفاعی پوزیشن میں آگئے ، اہل قلم کے ہاتھ اور خطیب کی زبان پر اس شدت سے لرزہ طاری تھا، کہ دفاع کرتے کرتے مسلماتِ دین کا انکار روز مرہ کا واقعہ بن گیا، کوئی سرے سے جہاد کا انکار کر رہا تھا، کوئی الٹی سیدھی تاویل کرکے اہل وطن کو مطمئن کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آ رہا تھا،دہشت گردی کی مذمت اس انداز میں کی جارہی تھی گویا اس کے مرتکبین مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور نہیں، اور اس کا منبع اسلامی تعلیمات ہیں ،جس پر وہ شرمندہ ہیں اور ان تعلیمات میں تبدیلی یا ان کی ”تجدید” وقت کی شدید ترین ضرورت ہے، ان کا “دفاع” اسلام اور مسلمانوں سے دہشت گردی کا داغ دھونے کی بجائے پورے عالمِ اسلام کو کٹہرے میں کھڑا کر رہا تھا، بہت چنندہ لوگ تھے ،جو پوری قوت، بھرپور اعتماد اور ایمان کامل سے لبریز ہوکر اسلام کے صحیح موقف کو اسی صورت میں پیش کر رہے تھے ،جیسا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا، اس موقع پر پھر ایک پچیس سالہ نوجوان قلم اٹھاتا ہے، عنوان ہے”جہاد اور دہشت گردی” کتاب مکمل ہوتی ہے،دارالعلوم کے کبار اساتذہ ایک ایک حرف پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہیں، ہر پہلو سے جائزہ لیتے ہیں، خدشہ ہے کہ کہیں نوجوان نے جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی ایسی بات نہ لکھ دی ہو، جو اسلام کے منافی ہو یا ایسا انداز نہ اختیار کیا ہو، جس سے غیروں کو اسلامی تعلیمات پر چھینٹا کشی کا مزید موقع مل جائے؛ لیکن آخری حرف تک پہنچتے پہنچتے ہر کسی کی زبان اس نوجوان کیلئے دعائیہ کلمات سے لبریز ہوگئی، اساتذہ اپنے ہونہار شاگر کیلئے، داد و تحسین کے وہ کلمات استعمال کرنے لگے ،جو علم کی دنیا میں بہت کم شاگردوں کو نصیب ہوئے، اور اساتذہ کی ایسی حوصلہ افزائی پر شاگرد کو حق ہے کہ وہ فرحت و مسرت کی جس بلندی پر چاہے، جاکر فخر کا اظہار کرے۔
مفتی اعجاز ارشد صاحب کو انہی گوناگوں خوبیوں کی بنا پر دارالعلوم میں “شعبۂ انٹرنیٹ” کا ذمہ دار اور “میڈیا سیل” کا انجارچ بنایا گیا، دارالعلوم سے علاحدہ ہونے تک وہ انہیں شعبوں سے منسلک رہے،
“من شاہ جہانم” اور “جہاد اور دہشت گردی” کے علاؤہ متعدد تصنیفی و تالیفی کام کئے،
فتاوی نویسی
فضلائے دارالعلوم دیوبند اور اردو شاعری
سر سید اور نثری اسلوب
جنگ آزادی اور 1857 کا مختصر جائزہ
کانگریس اور ہندوستانی مسلمان
اسامہ بن لادن ؒ اور طالبانی حکومت کا عدل و انصاف۔
انکے علاوہ مخلتف موضوعات پر بہت سارے مضامین اور مقالات وغیرہ ہیں، جو ملک کے معتبر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں،
اس میں کوئی شک نہیں کہ قلم و قرطاس ہی ان کے تعارف کا ذریعہ بنے، لیکن ان کی نئی فکر نے بھی انہیں “در نایاب” کی شکل میں پیش کیا، ان کی تحریر پڑھنے والے ابتدائی دنوں میں ہی سمجھ گئے کہ ” فکر کی نئی روشنی والا نیا ستارہ طلوع ہورہا ہے” یا کہہ لیں کہ وہ “نئی دنیا کے مسافر تھے” ان کا امتیاز تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں نئی جہت ڈھونڈنے کی کوشش کرتے، کسی بھی معاملے کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر دیکھنا، اور نئے زاویے سے سوچنا ان کی خوبی تھی، علمی ہو یا سیاسی کسی بھی میدان میں، “روایتی افکار کے ڈھیر میں اضافہ” کے بجائے نئی فکر پیش کرنے کی سعی کرتے، اسلئے اکثر محفل میں وہ “نمایاں” نظر آتے، “آن لائن فتویٰ سینٹر” ان کے نئے امنگ، نئی سوچ، اور نئی راہ کی جستجو کا ہی نتیجہ تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے بدلتے منظرنامے کو کھلی آنکھوں دیکھ رہی تھیں، وہ محسوس کر رہے تھے، کہ ہماری نوجوان نسل انٹر نیٹ پر منتقل ہورہی یے، اور مستقبل قریب میں اکثریت کی جولان گاہ انٹرنیٹ ہی ہوگا، وہ اپنی ہر ضرورت انٹرنیٹ پر تلاش رہے ہیں، وہیں اس کی تکمیل کے خواہش مند ہیں، روز مرہ کے سامان سے لیکر مطالعہ کے مواد بھی اپنے کمپیوٹر اور موبائل کی اسکرین پر چاہتے ہیں، جو کچھ وہاں ملتا ہے اٹھا لیتے ہیں، اور اگر کوئی چیز وہاں دستیاب نہ ہو تو اسے نظر انداز کر، آگے بڑھ جاتے ہیں، بلکہ ذہن سے اسے مٹا دیتے ہیں، تو فطری طور پر اپنی “دینی و روحانی ضروریات” کی تکمیل کیلئے بھی وہ انٹرنیٹ کو ہی ذریعہ بنائیں گے، اگر وہاں ضرورت پوری ہوئی تو ٹھیک، ورنہ کہیں اور سے، دینی معلومات کے حصول کی مزید کوشش کے لئے تیار نہیں، نیز ایک بڑا خطرہ یہ منڈلا رہا تھا کہ نوجوانوں کو جو رطب و یابس ملتا ہے ،وہ اٹھا لیتے ہیں، لہذا بہتر ہے کہ وہاں مستند مواد فراہم کردئے جائیں، تاکہ درست معلومات تک ان کی رسائی ممکن ہو، اسی فکر کے تحت انہوں نے “آن لائن فتویٰ سینٹر” قائم کیا، جس سے عصری درس گاہوں سے وابستہ افراد اور تعلیم یافتہ نسل نو کیلئے دینی معلومات کا حصول بہت آسان ہوگیا۔
درسی کتابوں پر مکمل دسترس کے باوجود انہوں نے درس و تدریس کو مشغلہ نہیں بنایا، وجہ یہ تھی کہ ابتداء سے ہی ان کا مزاج “تحریکی” تھا، اسلئے دارالعلوم میں رہتے ہوئے بھی سیاسی، سماجی اور تحریکی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے، حرکت و نشاط سے لبریز، کچھ کر گزرنے کے جذبہ سے سرشار تھے۔

ایک عرصے تک دارالعلوم میں خدمت انجام دینے کے بعد انہوں نے دہلی کو اپنا مستقر بنایا، یہیں ان کے ہاتھوں “آن لائن فتوی سینٹر” کا قیام عمل میں آیا، دہلی وقف بورڈ کے ممبر منتخب ہوئے، اور تقریبا دس سال سے زائد عرصہ تک اس سے منسلک رہے، دینی و ملی مسائل میں مفتی صاحب کے فعال کردار کو دیکھتے ہوئے، انہیں مسلم پرسنل لا کا ممبر منتخب کیا گیا، یہاں بھی ان کے نئے خون، نئے حوصلے، نئی امنگ اور جوان جذبہ کی رعنائی نے ارباب حل و عقد کی توجہ اپنی جانب مبذول کی، “وقت پر مہم کی تکمیل” کی عادت نے، اربابِ حل و عقد کو، مفتی اعجاز ارشد رحمۃ اللہ علیہ کے اندر مخفی “قیادت و انتظام” کی صلاحیت سے روشناس کرایا، یہی سب وجوہات تھیں کہ وہ امیر شریعت حضرت مولانا ولی رحمانی کے دست و بازو بن گئے، انہیں مفتی صاحب پر بڑا اعتماد تھا، دہلی میں پرسنلاء کے اکثر پروگرام کی ذمہ داری حضرت امیر شریعت رحمۃاللہ علیہ انہیں کے سپرد کرتے، چونکہ منصوبہ سازی کے ساتھ انتظام و انصرام میں بڑے چاق و چوبند تھے، اسلئے پروگرام چاہے جتنا بڑا ہو، آنا فانا بڑی خوش اسلوبی سے ترتیب دے دیتے، خاکہ بناتے، اور اس کی تکمیل میں لگ جاتے، اس دوران کوئی دوسرا کام نہیں ہوتا، کام کے دوران اپنی صحت، آرام و آسائش سب کچھ بھول جاتے، ہم نے خود مشاہدہ کیا ہے، ایسے مواقع پر اکثر و بیشتر نصف شب کے بعد گھر پہونچتے، اگر کوئی ملی کام پیش آگیا تو ذاتی کام چاہے، جتنا اہم ہو بالکل بھول جاتے، ابتداء اہل خانہ کو شکایت بھی رہی، لیکن تدریجاً سب نے ان کے اس “ملی جذبہ” کو قبول کر لیا۔
ان کی ایک اہم خوبی یہ تھی کہ حالات چاہے جتنے سنگین ہوں، مخالفت چاہے جتنی تیز و تند آندھی کی شکل اختیار کرلے، اپنے ایمان و اعتقاد، اقدارو روایات اور ملی مسائل پر مسلمانوں کے عمومی موقف کی تشریح و توضیح میں کبھی لاگ لپیٹ اور ایسی بے جا تاویل سے کام نہیں لیتے، جس سے فائدہ کم اور نقصان کا خطرہ دوبالا ہوجائے، ایسے مواقع پر کبھی بھی مصلحت کی چادر تان کر ایسا ڈھل مل رویہ نہیں اپناتے ،جس میں ملی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مخالف کی خوشنودی کو اولیت دی جائے، اگرچہ ان کے اس رویے نے ان کے بے شمار دشمن بھی کھڑے کر دیے اور غیر تو غیر ،اپنوں کی جانب سے نہ جانے کتنے نقصانات اٹھانے پڑے، لیکن کسی حالت میں سمجھوتہ پر راضی نہیں ہوئے، بعض مسائل کو لیکر ملی حلقوں میں ان کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی، لیکن جب بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے اپنے ملی موقف کو بے لاگ و لپیٹ اور دوٹوک پیش کیا ہے، تو “شادباش” کے نعرے بھی گونجے، ہم نے بار ہا دیکھا ہے کہ ٹی وی ڈیبیٹ میں جب بھی گئے وہاں، ملت کے عمومی موقف کو خوش اسلوبی اور مضبوطی کے ساتھ پیش کیا، اور جب ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش ہوئی جس میں انسان اخلاقی طور مجبور ہوکر، اپنے ہی موقف پر ڈھل مل رویہ اپنانے لگتا ہے، تو انہوں نے وہاں بھی فوائد و نقصانات پر نظر کئے بغیر، بے خطر اپنی رائے پیش کی۔
دارالعلوم دیوبند سے آنے کے بعد وہ کھلے طور پر سیاست میں آئے،اور ان کا دائرہ وسیع ہونے لگا، عموما سیاسی گلیاروں کے “راہ گیر” غیر شعوری طور پر “سیاسی کیچڑ” میں لتھڑتے چلے جاتے ہیں، پھر بسا اوقات انہیں اپنے ایمان و عقائد، ، اقدار و روایات، مخصوص نظریات اور اصول زندگی سے سمجھوتہ بھی کرنا پڑتا ہے، کبھی “قشقہ” لگا کر ایمان کی “بلی” دیتے ہیں، تو کبھی اردگرد والوں کو اپنے ” شدھ بھارتی” ہونے کا احساس دلانے کیلئے، “ہولی” کے “گلال” میں گلابی ہونا پڑتاہے،، اور کبھی “دیوالی کی دیا” سے دل کو “روشن” کرنا مجبوری بن جاتی ہے، البتہ جن کے ایمان میں پختگی ہوتی ہے، وہ “بت کدوں” میں بھی خدا کو یاد رکھتے ہیں، مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی سیاست کے “شارع عام” کے ساتھ اس کی “پگڈنڈیوں” پر خوب دوڑے، بھاگے، ” لیکن اتنا سنبھل کر، کہ قدم میں جنبش نہیں آئی، یہ بڑا کمال تھا ان کا، اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی، اور میرے خیال سے ان کے اندر جو ایک اہم خوبی تھی، کہ وہ ہمیشہ اپنے اساتذہ اور اکابرین امت سے مربوط رہے، اسی تعلق کو اللہ نے ان کی حفاظت کا ذریعہ بنایا، اسی خوبی نے انہیں بے شمار اخلاقی اور روحانی بیماریوں سے محفوظ رکھا۔
تحریکی کاموں سے خصوصی دلچسپی تھی، تجزیاتی ذہن ملا تھا، اسی لئے تو طالب علمی کے دور سے ہی ملی مسائل پر غور کرتے، خدشات و توقعات کا جائزہ لیتے، مسائل کو نظر انداز کرکے مواقع کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقوں پر غور کرتے، ملی اور اجتماعی امور انجام دینے کیلئے طلبہ کا ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تیار کرنے کے امکانات پر غور کرتے رہے؛ چناں چہ اپنی بے چین طبیعت کے تقاضے پر 98/99 میں مدھوبنی کے اطراف میں طلبہ دارالعلوم کی ایک جماعت بڑے زور و شور سے “تعلیمی بیداری ” مہم چلانے میں مصروف تھی، مدھوبنی سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم کے نمایاں طلبہ اس میں شریک تھے، سب کے سب متحرک، فعال اور سرگرم ، اس جماعت کو کام کرنے والے حرکت و نشاط سے لبریز افراد کی بہترین ٹیم کہہ سکتے ہیں، طلبہ مدارس میں ایسی سرگرمی بہت کم نظر آتی ہے، پتہ چلا کہ ان بکھرے ہوئے تاروں کو یکجا کرکے “خورشید مبیں” بنانے والے بھی مفتی اعجاز ارشد قاسمی ہی تھے، جنہوں نے اپنے دیرینہ رفقاء مولانا رضوان قاسمی، مولانا زاہد قاسمی،مولانا غفران ساجد قاسمی، چیف ایڈیٹر بصیرت آنلائن، مفتی مجتبی صاحب قاسمی رحمہ اللہ، مفتی ضیاء الحق صاحب، رحمہ اللہ، ڈاکٹر ابرار احمد قاسمی اجراوی اور قاری ریاست اللہ صاحب قاسمی کے ساتھ، اپنے ضلع “مدھوبنی” کے طلبہ کو جمع کرکے ”اسٹوڈنٹس اسلامک فیڈریشن” کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی، جس میں مدارس کے علاوہ عصری درسگاہوں کے طلبہ بھی شامل تھے، بہت کم عرصے میں نئے اور تعمیری و انقلابی کاموں کی وجہ سے تنظیم کی شہرت مدھوبنی کے گوشے گوشے میں پھیل گئی، اسی دوران دارالعلوم میں موجود صوبۂ بہار کے تمام طلبہ کو ساتھ لیکر، پہلی مرتبہ دارالعلوم سے باہر، مدھوبنی، میں ”آل بہار مسابقہ تحریر و تقریر” کا انعقاد کیا، جس کو بڑی شہرت ملی، اور اس مسابقہ کی خاص بات یہ رہی کہ طلبہ مدارس کے علاوہ، عصری درسگاہوں کے طلبہ میں بھی تحریر و تقریر کا شوق بڑی شد و مد سے ابھرا، ایک بڑا حلقہ ان سے، ان کی تحریر سے، ان کی چال ڈھال اور متحرک شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوا، اس عرصہ میں ابھرنے والے اکثر قلمکار، ان کے ہی خوشہ چینوں” میں سے ہیں، یا کم از کم مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ہی متاثر ہوکر انہوں نے صحافت کو اپنا میدان عمل بنایا، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کامیابی”لازم نہیں” بلا مبالغہ “متعدی” تھی۔
سنہ 2004 میں مادرعلی دارالعلوم میں ۔میرا داخلہ ہوا، والد صاحب نے میری نگرانی کی ذمہ داری اپنے اس چہیتے شاگرد کے سپرد کی، اندازہ ہوا کہ افراد سازی کی بہترین صلاحیت سے نوازے گئے تھے، حوصلہ افزائی میں تو یکتا تھے، اگر کوئی طالب علم کسی کام کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے، وہ اگر مفتی صاحب کے پاس مشورہ کیلئے پہونچ گیا، تو ان کے چند جملے ایسی اکسیر ثابت ہوتے کہ ہمت ہار چکے انسان کو وہ کام “بازیچہ اطفال” محسوس ہو نے لگتا، مشکل ترین کام کیلئے مشورہ طلب کرتے، جوابا وہ صرف اتنا کہتے” کیوں نہیں ہوگا” کرو، پھر وہ فورا ہی کام کرنے کے خطوط پیش کرتے، وہ خود اعتمادی کی نعمت سے جس طرح خود خود مالامال تھے، اسی طرح طلبہ میں بھی خود اعتمادی کا ایندھن بھرنے میں طاق تھے، کسی کا رعب اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیتے، بسا اوقات انسان کی زندگی کا کوئی ایک چھوٹا واقعہ اس کے مزاج و مذاق کا مکمل خاکہ پیش کردیتا ہے، تعلیمی بیداری مہم کے دوران مدھوبنی کے ٹاؤن ہال میں ایک جلسہ کی تاریخ طے ہوئی، کلکٹر نے اجازت دے دی، پھر اسی نے پروگرام سے دود دنوں قبل کینسل کردیا، اکثر ایسی جگہ پر انسان افسران کے سامنے منت سماجت سے کام چلانے کی کوشش کرتا ہے، اگر کوشش بار آور نہیں ہوتی تو افسران کا رعب اسے “خاموشی میں عافیت” کا سبق دیکر پسپائی پر مجبور کردیتا ہے، مفتی اعجاز ارشد قاسمی رحمہ اللہ مرعوب ہونے والوں میں سے نہیں تھے، صاحب منصب کے بے جا رعب اور اس کے احترام میں فرق کرتے تھے، چناں چہ وہ ڈٹ گئے، کلکٹر کے دفتر میں بیٹھ کر کہا، کہ جلسہ متعینہ تاریخ پر ہال کے باہر سڑک پر ہوگا، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار آپ ہوں گے، مجبورا اس نے دوبارہ اجازت دی، (یہ واقعہ سنہ 2000 ، کا ہے جبکہ ان کے سیاسی، اور سماجی وجود کی سطح صفر تھی، اس سے نوجوان کے عزم و ارادے کی پختگی کا پتہ چلتا ہے)، اور مستقبل کے واقعات نے ثابت کردیا کہ ثابت قدمی ان کی فطرت کا حصہ تھی، بارہا انہوں نے محض اپنے عزم و حوصلہ سے راہ میں حائل چٹان کو ریزہ ریزہ کردیا، ان کی زندگی میں یہ حقیقت مجسم شکل میں نظرآئی کہ انسان “عزم” کرتا ہے تو “زنجیریں” موم بن کر پگھل جاتی ہے۔
جو ہو عزم سفر پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیری

ان کا خاندانی بیک گراؤنڈ دینی و علمی حلقہ میں بہت بڑے نام والا نہیں تھا، (البتہ سماجی اعتبار سے شریف اور با اثر لوگ تھے) اسلئے علمی حلقہ میں اپنے وجود کا احساس دلانا اور خود کو اس طور پر ثابت کرنا کہ کوئی نظر انداز نہ کرسکے، جوئے شیر لانے جیسا عمل تھا، لیکن دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کی تکمیل کے بعد ہی ان کی شخصیت نے علمی اور سیاسی دونوں حلقوں میں جس انداز سے دستک دی، اس نے بلا استثناء سب کو ان کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیا، بالخصوص صحافت کی دنیا میں ان پر رشک کی نگاہیں چاروں طرف سے پڑنے لگیں، بالکل نوعمری میں “نئی دنیا”جیسے موقر اخبار کے سب ایڈیٹر بنائے گئے، متعدد ماہنامہ رسائل کے ایڈیٹر رہے، ملک کے مؤقر اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے ان کے مضامین نے انہیں ایک الگ پہچان دلائی، الغرض صحافت ان کے شہرت کی سب سے بڑی نقیب بن گئی، اکثرو بیشتر انسان کی کامیابی متعدی نہیں ہوتی، اس کا فایدہ اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے، دنیا ایسی شخصی کامیابی کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتی، کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن سے دوسروں کو اڑنے کا حوصلہ ملتا ہے، مفتی اعجاز ارشد صاحب قاسمی بھی ان میں سے ایک تھے جن سے اردگرد والوں کو روشنی ملتی رہی ہے۔
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سیاسی زندگی بعض ناحیہ سے مختلف فیہ رہی بلکہ بنانے کی کوشش کی گئی،، مثلا بے جے پی لیڈران سے قربت، یا بدنام زمانہ “طارق فتح” کے پروگرام میں شرکت، یا ایک ٹیوی ڈیبیٹ میں ان پر ہوئے حملہ اور اس کے بعد مقدمات کا طویل سلسلہ،
ان تمام معاملات کا جواب اس سے بہتر کچھ نہیں ہوگا کہ انہوں نے کہیں بھی مسلمانوں کے عمومی موقف سے سمجھوتہ نہیں کیا، بی جے پی لیڈران کے نزدیک بھی مسلم مسائل مضبوطی کے ساتھ پیش کرتے رہے، مودی کی مجلس ہو یا راج ناتھ کی محفل، ہر جگہ مسلم کاز کی حمایت میں آواز بلند کی، تارک فتح کے پروگرام میں جس دلیری کے ساتھ اس کو کھری کھوٹی سنائی، اپنے ملک کے ساتھ مذہب سے غداری پر اسے آئینہ دکھایا، چند پیسوں اور شہرت کی لالچ میں ضمیر فروشی پر اس کا سیاہ چہرہ اس کے سامنے کردیا، وہ انکی جرأت کی بین دلیل ہے، اور ایک ٹیوی ڈیبیٹ کا تنازع جس کو فورا ہی ختم ہو جانا چاہئے تھا، جتنا طول پکڑا، وہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملہ منصوبہ بند تھا، ہاں غلطی یہ ہوئی کہ حالات کو بھانپ نہیں سکے، ان تمام معاملات میں اگر وہ مسلمانوں کے عمومی موقف اور اپنے اصول سے ذرا بھی انحراف کرتے تو، سیاسی گلیاروں میں پھرنے والے بے شمار آوارہ گردوں کی طرح وہ بھی اپنی کوٹھی بنالیتے، اور اتنا جمع کر لیتے کہ کم از کم دو نسل تو عیش کر سکے، لیکن انہوں نے اسی پر قناعت کیا جو جائز طریقے سے ان کے حصہ میں آیا، مزید کیلئے ضمیر بیچنا گوارا نہیں کیا،

مختصر عمر میں اللہ نے ان سے بڑا کام لیا، ملی مفاد میں خاموشی کے ساتھ کام کرتے رہے، سیاسی سماجی اور علمی سطح پر بڑے مفید کام انجام دئے، دہلی وقف بورڈ میں رہے تو ملی تنظیموں کے حق میں دل کھول کر کام کیا، سیاسی پلیٹ فارم پر بہرصورت ملی مفاد کو ترجیح دیتے،
زندگی کی بھاگ دوڑ میں انہوں نے اپنی تعلیمی سرگرمی کو پس پشت نہیں ڈالا، وہ تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ جاری رہی، چناں چہ دہلی آنے کے بعد ہی کے این یو سے پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔
بڑی خصوصیات کے حامل تھے، اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کیلئے مفید تھے، اور سماج کو فائدہ پہونچانے والا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہر کوئی غمناک ہو تا ہے، سب کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور ہر شخص ماتم کناں ہوتا ہے، مفتی اعجاز ارشد رحمۃ اللہ علیہ اس دنیا سے چلے گئے، ان کی خوبیاں، سماج کیلئے ان کی خدمات سب یاد رہیں گی، اللہ انہیں بہترین بدلہ دے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔

Add Comment

Click here to post a comment