Home » فلسفیانہ افکار ونظریات » الحاد ودہریت، سائنس اور علم کے پردے میں
فلسفیانہ افکار ونظریات وصی میاں خان

الحاد ودہریت، سائنس اور علم کے پردے میں

وصی میاں خان رازی

سیدھے مقابلے میں مذہب سے  شکست کھانے کے بعد دہریت اور   الحاد    ا  آج کل سائنس اور علم وتحقیق کےپردےمیں چھپ کر    آرہے ہیں۔ اور بدقسمتی سے ان کو اب عالم اسلام میں جھنڈا اٹھانے والے مل گئے ہیں، جہاں خاص تاریخی ، سیاسی، سماجی، اور فکری وتہذیبی اسباب  کے تحت اس طرح کی افکار  کے لئےکسی حد تک مناسب زمین تیار ہو گئی ہے،ایسے ہی رجحانات حالیہ عرصے میں پڑوس کے ملک سے دیکھنے میں آرہے ہیں، یوں تو متعدد تحریریں آتی رہتی ہیں  لیکن کچھ کا اثر زیادہ ہی ہوتا ہے، لہذابھی ایک صاحب کی دہریت والحاد کو آخری منزل ماننے کے تعلق سے ایک تحریر سامنے       آئی تو جواب دینا مناسب معلوم ہوا۔  

   جس انسان کو اپنی ابتدا اور انتہا یعنی اس دنیا میں آنے یا جانے تک کا اختیار نہیں ہے، جس کا وجود مانگے کا ہے، عطائی ہے، اور دو عدم کے درمیان تھوڑی سی مدت کے لئے امکانی حیثیت سے ظہور میں آتا ہے اسے اپنی عقل اور اس کے “علوم” پر یہ ناز کہ وجود عطا کرنے والی ہستی اور موت دینے والی ہستی خدا کے وجود انکار کرنے کی جرات کرے؟

اور پھر یہ سب علم کن چیزوں کا ہے؟ خدا کی بنائی کائنات میں کام کر کر رہے چند قوانین کا ادھورا علم جس کی افادیت اتنی ہی تو ہے کہ کھانے پینے رہنے سہنے کے طریقوں میں کچھ  تنوع       آگیا، لڑنے بھڑنے کے لئے ہتیھاروں میں پینا پن آگیا اور بس۔

کیا انسان کی معراج یہی ہے؟ یہی اس کی کامیابی، اس کی ترقی کی انتہائی منزل اور اس کے ہونے کا مقصود ہے؟ کیا کوئی انسانی علم آج تک “کیا ہے” سے آگے  بڑھ کر ‘کیوں’ ہے کا جواب ڈھونڈ پایا ہے؟ اور کیا کوئی سائنسی ایجاد ایسی ہوئی ہے جس میں اس خدائی کائنات کے عناصر اور مواد سے باہر جاکر کوئی انسانی تخلیق کردہ مواد استعمال کر لیا گیا ہو؟

اور پھر یہ سب سوچنے والی عقل، اس سب کو سمجھنے والا شعور، اور اس سے دنیا میں فائدہ اٹھانے کی تمیز بھی تو خود انسان کی اپنی تخلیق کردہ نہیں ہے بلکہ اسی خدا کی عطا کردہ ہے جس کا انکار کرکے فرعون بن بیٹھا ہے۔

اور سائنس کو الحاد سے کیا نسبت؟ ملحدین کے پاس دنیا کے لئے انسانیت کے لئے کوئی مکمل سوفسٹیکیٹڈ نظام اور فکر تو ہے نہیں، اس لئے وہ سائنس کے پردے میں چھپ کراس کا سہارا لیکر خود کے غیر معقول افکار وخیالات کو جسٹی فائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مذہب نے اپنا بیانیہ کبھی نہیں بدلا، ہاں الحاد ہر دن اپنا قبلہ بدلتا ہے، پہلے وہ عالم کے قدیم ہونے کا قائل تھا، اور “ایتھر” کے وجود پر ایمان کو عین عقل مانتا تھا، اس سے پہلے فلاسفہ یونان کے اثر سے وہ نو افلاک، عقول عشرہ اور علت اولی یا مبدا اول کا قائل تھا، لیکن اس کے قبلہ بدلتے گئے، بگ بینگ کے بعد اس کو ماننا پڑا کہ عالم وکائنات کی ایک ابتدا ہے، لیکن اب بھی عقل نہیں آئی، بگ بینگ کے حادثے کو “رینڈم” “اتفاقی” اور “بغیر کسی کوز وعلت” کے ماننے لگا، مطلب اس کائنات کا وجود عدم سے آیا؟ زندہ مخلوقات خود وجود میں آگئیں؟

ذرا کسی لیب میں تجربات کرکے دکھا دو دیجے       کہ  عدم سے  بھی  کہیں وجود  تخلیق پا جاتا ہے؟

الحاد ایک فرسودہ، بے عقل اور گھٹیا تھیوری ہے، جس کے پیچھے صرف یا تو اہل ہوا، حیوانیت زدہ خواہش کے بندے بھاگتے ہیں یا کمزور مطالعے، احساس کمتری کے شکار کچے اذہان۔ الحاد کا ورلڈ ویو نہایت یاس کن، مایوس کن اور ناامیدی سے بھرپور ہے، انسان کے اصل جوہر اس کی شعوری، روحانی، اخلاقی پریشانیوں، مسائل اور چیلینجز کے لئے اس کے پاس کوئی بھی اطمینان بخش تھیوری یا جواب نہیں ہے، اس لئے ملحد سائنس کی         آڑ   میں صرف مشینی     ترقی، مادے کی حرکت اور زرق برق پروپیگنڈا سے آنکھوں کو خیرا کرکے اس کو ہی انسان کی ترقی اور اس کے انتہائی مقصود کے طور پر پیش کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت، اس کی شعوری کیفیت، روحانی تقاضوں،اخلاقی میلانات جو بطور انسان اس سے خود بہ خود صادر ہوتے ہیں ان کو دباکر، نظر انداز کرکے صرف حیوانی پہلو پر سارا فوکس اس لئے کرنا چاہتا ہے کہ اسی سے تو اس کے مذموم اغراض کی تکمیل ہوتی ہے۔

ملحد کے پاس کائنات اور اس میں زندگی کے حصول کے بارے میں کوئی قابل توجہ نظریہ نہیں ہے، کیونکہ عقلا تین ہی احتمالات ہیں، کائنات عدم سے   بلا کسی سبب وعلت کے وجود میں آگئی، یا پھر خود ہی اس نے اپنے آپ کو وجود بخشا، یا کسی باہری خارجی قوت نے وجود بخشا،پہلے دونوں احتمال باطل ہیں، کیونکہ عدم سے وجود عقلا محال ہے، پھر جس کے اندر خود پہلے سے حیات وزندگی نہ ہو وہ دوسرے کو کیسے وہ چیز بخش سکتا ہے؟ یہ ایک عام عقلی قاعدہ ہے، اب تیسرا احتمال متعین ہے کہ وجود کائنات کسی ایسی خارجی قوت کا مرہون منت ہے جو “حی” ہے یعنی زندگی سے بھرپور ہے، تب ہی تو وہ دوسروں کو زندگی عطا کرتا ہے، “علیم” ہے کیونکہ علم کے بغیر اس قدر وسیع کائنات کا وجود محال ہے، “حکیم” ہے اس نے ایک خاص مقصد وحکمت کے تحت اس کو وجود عطا کیا ہے۔ “مدبر” ہے کیونکہ اگر بگ بینگ کو ہی مانا جائے تو پھر سائنسی وعقلی قاعدہ ہے کہ کسی بھی تعمیر(کنسٹرکشن) میں انکسار وکسر کا نتیجہ تخریب (ڈیسٹرکشن)  ہی ہوتا ہے نہ کہ دوبارہ تعمیر ہے۔ میتھ میٹکل فزیسٹ “پال ڈیوس” کے مطابق اگر  کائنات کے  پھیلاو  میں10^-18(کوئنٹلی اوتھ  ) کا ایک سیکنڈ کا فرق بھی        آجاتا     تو کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا، سائنس کے نزدیک بھی کائنات کے وجود کا امکان بگ بینگ تھیوری کو صحیح مانتے ہوئے نہین ہو سکتا تھا، برطانوی ریاضی دان “روجر پینروس” کے بقول کائنات کا وجود کا امکان 10^123 میں ایک ہے یعنی ایک کے آگے 123 زیرو، یہ تعداد کاینات میں موجود کل ایٹمی ذرات سے زائد ہے، جبکہ سائنس کے مطابق 50^10 تک کا امکان ہی امکان کے درجے میں آتا ہے اس کے بعد محال شروع ہو جاتا ہے۔

انسانی علم کا حال یہ ہے کہ انسان ننگی آنکھ سے صرف ٣٩٠ سے٧٠٠   اين ايم        تک کی وییو لینتھ کا ہی ادراک کر پاتا ہے، لیکن جدید ٹیلی سکوپ کی مدد سے انسان 2.6 بلین نوری سال تک دیکھنے کے لائق ہو سکا ہبل ٹیلی سکوپ نے اس کو دائرہ 10-15 بلین تک بڑھا دیا، لیکن یہ بھی کل کائنات کا 4 فیصد ہے۔ تو اب تک انسان کے لئے 96 فیصد کائنات بالکل مجہول ہے، اور یہ صرف ٹیلی سکوپ سے ابزرویشن کی بات ہے، ایکسپلور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے تو ہمارے سولر سسٹم کا ہی صرف ایک فیصد اب تک ایکسپلور ہو پایا ہے، بقیہ ساری مکمل کائنات کا ہمیں ذرا علم نہیں ہے۔ اس سے انسانی علم، اس کی رسائی اور اس کے حدود کا اندازہ کر لیجیے۔

الحاد اسی علم کے پیچھے چھپ کر انسان کو خدا کا باغی بنانا چاہتا ہے؟ انسان ذرا خدا کی دی ہوئی فکری قوتوں وصلاحیتوں کا استعمال تو کرکے غور کرے کہ الحاد کا انجام کیا ہے، کس قسم کا فلسفہ اور اخلاقی قدریں ہیں اس کے پاس دینے کے لئے؟ سوائے قنوطیت، مایوسی، خون خرابے، حرص، سفاکی، موقع پرستی کے؟ بلکہ الحاد کے ساتھ اخلاق کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے جو آپ کے لئے مفید یا نفع بخش ہو، یا آپ کا دل کرے اسے کر گزرو، حاصل کرو خواہ اس کے لئے دوسروں کی گردن پر پیر رکھنا پڑے، دھوکہ، خون خرابہ، کچھ بھی ہو جائے، کیونکہ آخر سب کچھ یہیں تو ختم ہو جانا ہے؟ الحاد کی نظر میں بیوی، بیٹی، بہن، ماں اور ہر عورت سے استمتاع، جنسی تعلق مباح ہے کیونکہ یہ سب حلت و حرمت تو مذہب کی جکڑنیں ہیں، ہم جنس پرستی، تبدیل جنس، شاذ جنسی اطوار، جانوروں سے جنسی سلوک، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں اس کا شاخسانہ ہے،الحاد اس کو نہ صرف جواز فراہم کرتا ہے بلکہ پرموٹ کرکے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
کیا        آپ ایسی دنیا میں جینا چاہتی ہے جس پر اس الحاد کی حکومت ہو، اس کی بالادستی ہو؟

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...