Home » اسلامیات » اسلام مذہب حق کیوں؟(پہلی قسط)وصی میاں خان رازی
اسلامیات نقطۂ نظر وصی میاں خان

اسلام مذہب حق کیوں؟(پہلی قسط)وصی میاں خان رازی

اسلام مذہب حق کیوں  : پہلی قسط
                      

آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کے تئیں تعصب اور غلط فہمی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی بات کے اسلام یا مسلمانوں سے جڑا ہونے کا مطلب اس کی مصداقیت ، اس کی ثقاہت کا خاتمہ ہے ، غیر مسلم تو چھوڑ ہی دیجئے اس نرغے میں مسلمانوں اور ان میں بھی خصوصاً ” ایلیٹ کلاس ” مسلمانوں کی ٹھیک ٹھاک تعداد کی  ذہنی تطہیر اس حد تک ہو چکی ہے کہ اسلام سے انتساب ان کے لئے ایک عار ، شرم اور حیا کا باعث ہے ، وہ بڑے ہی بجھے دل سے  بالکل آخری حد پر جاکر اسلام کے حوالے سے اپنی شناخت کو (وہ بھی مجبوری میں) قبول کرتے ہیں ۔ ان کے لئے یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے کہ انہیں اسلام کے حوالے سے پہچانا جائے ، دوسرے مذہب کے متبعین سے الگ کوئی الگ    مستقل      پہچان  دی جائے ۔

ابھی حال ہی میں مشہور کالم نگار اور سول و سوشل ایکٹوسٹ ” نازیہ ارم ” نے “Mothering a Muslim “( ایک مسلمان کی ماں ہونا ) کے نام سے ایک کتاب لکھی ، ( اس کتاب مفصل رویو qaram.in میں شائع ہو چکا ہے)جس میں انہوں نے  اپنے خیال میں مسلم معاشرے کے معاشی اعتبار سے اعلی ترین ، روشن خیال سمجھے جانے والی ” آتھینٹک مسلم ویمن ” ( مستند مسلم خواتین ) کے تجربات بھی شیئر کئے ہیں ، نازیہ اور ان دیگر خواتین کا وریہ بڑا ہی عجیب ہے ، یہ اپنے بچوں کے لئے ایسے ناموں کا انتخاب کرتی ہیں جن سے مسلمان ہونے کی ” بو ” بھی نہ آئے ، انہیں رنج اس بات کا ہے کہ ان کے بچوں کو ” مسلمان” کیوں سمجھا جاتا ہے ، ایک ایسی ہی خاتوں کی بچی کار میں جمعہ پڑھتے مسلمانوں کو دیکھ کر سیٹ کے نیچے اس لئے چھپ جاتی ہے کہ مسلمان ہمیں مار ڈالیں گے ، ایک دوسری روشن خیال خاتون کا لڑکا جب ایک ہائی پروفائل عصری ادارے میں جاتا ہے اور وہاں چند دوستوں کے ساتھ روزہ رکھ لیتا ہے تو ماں کو ڈر لگتا ہے کہ ضرور اس کے دوست دہشت گرد یا کم از کم مشتبہ بیک گراؤنڈ کے تو ہوں گے ہی ، وہ اسے ایسے لوگوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتی ہے جو اتنے عظیم ، ماڈرن عصری ادارے میں بھی مذہبی چیزوں کو گھسا رہے ہیں ۔ محترمہ نازیہ جب اپنی کلیگ کے 13 سالہ لڑکے کے بارے میں سنتی ہیں کہ وہ صبح 5 بجے اٹھ کر فجر کی نماز پڑھنے جاتا ہے تو وہ خوف زدہ ہو جاتی ہیں ۔

یہ مسلمانوں کا وہ الیٹ طبقہ ہے کہ جس کو اسلام صرف  عید بقر عید منانے کے لئے پسند ہے ، کیونکہ بہرحال یہ ان کے ” کلچر ” کا حصہ ہے ، وہ بڑی سہولت سے اپنی بیٹیوں کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک بڑی بزنس وومن ہونے کا تذکرہ کرکے اس کو عورتوں کے لئے بزنس کرنے ، آزادی اور خود مختاری کے لئے مشعل راہ تو بتاتی ہیں لیکن ام المومنین کے باپردہ ، باحیا ہونے کا ذکر گول کر جاتی ہیں کیونکہ یہ ان کے موافق نہیں ہے ۔

تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ متمول اعلی عصری تعلیم یافتہ  طبقہ اسلام کی تمام حقانیت ، صداقت ، سادہ تعلیمات کے باوجود اس کا نیا ” معتدل ورژن” لانچ کرنے کے در پے ہے ، اور اس کے حوالے سے غیروں کو چبھنے والی ہر ” کٹر پہچان ” کو جدیدیت کے نام پر مٹا دینے کی وکالت کر رہے ہیں ،  وہیں دوسری طرف جن لوگوں کے پاس نہ کوئی سنہری تاریخ ہے ، نہ یادگار ماضی ہے ، نہ ہی کسی دور میں انسانیت کے لئے قابل قبول اصول ہیں ، نہ کوئی فکری عقلی سطح پر مضبوط آئیڈیالوجی ، نظریہ  یا بہتر فلسفہ ہے ، نہ ان کے پاس انسان کی مختلف زندگی کے میدانوں میں پیش آمدہ مسائل و مشکلات کے حل کرنے ، ان سے ہم آہنگ ہونے کا کوئی وژن ہے ، ان کے رویے نہایت مضحکہ خیز ،   فکر و خیال بے حد تنگ ،  ذہنی پرواز محدود ہے ، ان سب کے باوجود وہ اپنے فرسودہ افکار و خیالات پر نہ صرف یہ کہ فخر کرتے ہیں بلکہ اس کے نفاذ ، اس کی عملی دعوت بلکہ دوسروں کو بزور قوت اس کے اعتراف پر آمادہ کرنے کے لئے مصر ہیں ، تقریبا ایک سال پہلے حکومت کی طرف سے تاریخ کا ” نئے زاویہ سے مطالعہ و ریسرچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو  دیومالائی کہانیوں ، شخصیات و واقعات ، مبالغہ آراء قصوں و حکایتوں کو جو پرانوں ، اپنیشدوں ، رامائن ، مہابھارت ، شاستروں یا ویدوں میں مذکور ہیں ، ان سب کو ” سائنسی نظر و فکر کے موافق ”  پیش کرکے ان کو داخل نصاب کرنے کی سفارش کرے گی ، یہ کام دو تین سال کے اندر ہو جائے گا ، پھر مسلمانوں کے بچے جو پہلے ہی مغرب زدہ ، بھگوا رنگ میں لپٹی ہوئی تاریخ کو پڑھ کر ذہنی طور پر اسلام سے پہلے ہی کافی دور ہو چکے ہیں ، ان کے لئے بقیہ اسلام پر استقامت بھی ایک دشوار ترین ہو جائے گی ۔ مسلمانوں کے حوالے سے تاریخ کو تو ہندوستانی تعلیمی نظام میں پہلے ہی مسخ کیا جا چکا تھا ، تھوڑی بہت کسر جو رہ گئی ہے وہ اب پوری کی جا رہی ہے ۔

بہرحال بات یہاں اسلام کی حقانیت کے حوالے سے کرنی ہے ، حالیہ دنوں میں نئے عالمی نظام ، اور بین الاقوامی سطح پر بدلتی صورت حال سے یہ نیا طرز دیکھنے کو ملا ہے کہ دوسرے تمام مذاہبِ تو اپنے اندر کوئی کشش نہ رکھنے کے باوجود بڑے ہی طمطراق کے ساتھ اپنے مذہب کی دعوت دیتے اور اس سے انتساب پر فخر کرتے ہیں  ، مسلمانوں میں اکثر لوگ ایسے ہی ہیں ، لیکن ہر دن پڑھے لکھے مسلمانوں کی  ایک تعداد اپنے دین سے وابستگی پر کچھ خفت محسوس کرتی ، دفاعی پوزیشن میں آکر غیروں کے عطا کردہ معیارات کی روشنی میں صلح صفائی دیتی نظر آتی ہے ۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اسلام کے اندر انسان کی فطرت سے ہم آہنگ وہ خصوصیات ہیں جو اسے دیگر مذاہبِ سے نہ صرف ممتاز کرتی ہیں بلکہ اس کے سامنے ان کا سکہ چل ہی نہیں پاتا ، ذیل میں ہم اجمالا انہیں چند خصوصیات کا ذکر کریں گے ۔

١) تاریخی ثبوت :

اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کے مقتدا ، جس کے قائد کی زندگی تاریخ انسانی کا ایک درخشہ باب ہے ، اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے بانیین ، مقتدا ، کسی کا کوئی مستند تاریخی ثبوت نہیں ہے ، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم عیسی علیہ السلام ، موسی علیہ السلام و دیگر انبیاء کو اس لئے مانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ان کا ذکر آیا ہے ، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حق بتایا ہے ، ان پر ایمان لانے کی ترغیب دی ہے ، اس وجہ سے نہیں مانتے کہ یہودی یا عیسائی مذہب میں ان کا کوئی تاریخی ثبوت ہے ، دنیا کی معلوم مستند تاریخ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود سے ہی  ہوئی ہے ، (آدم علیہ السلام سے لیکر نبی آخر الزماں تک دین صرف اسلام ہی رہا ہے لیکن یہاں میں نے مشہور اور عام رائج معنی کا استعمال کیا ہے )دنیا میں کوئی شخص کتنا ہی متعصب ہو ، اسلام سے خواہ کتنی ہی عداوت رکھتا ہو لیکن اسے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ ١٤٠٠ سال پہلے اس دھرتی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نام کی ایک شخصیت عرب میں ظاہر ہوئی اور اس کے طریقے کو کروڑوں انسان اس وقت سے مسلسل فالو کر رہے ہیں ، یہی بات دیگر پیشوایان ادیان کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی ، گوتم بدھ ، مہاویر ، رام ، کرشن ، زرتشت وغیرہ کسی کی بھی پیدائش ، وفات  ، عہد کی تاریخ کا علمی ثبوت نہیں ملتا ، ہر کسی کی رائے ، ہر کسی مورخ ، مذہبی قائد ورہنما کا نظریہ جدا ہے ، کوئی ہزاروں سال ، کوئی لاکھوں سال کی بات کرتا ہے ، غرض اسلام واحد مذہب ہے جس کا تاریخی ثبوت ملتا ہے ۔

٢)توحید باری :

اسلام کو دوسرے مذاہب سے جو چیز ممتاز بناتی ہے وہ اس کا نظریہ توحید ہے ، اگرچہ یہودی اور عیسائی مذہب کو بھی توحید کا دعویٰ ہے ، لیکن عیسائیوں کی توحید تثلیث کے ساتھ اس طرح خلط ہو گئی کہ پتا نہیں چلتا کہ توحید اصل ہے یا تثلیث ، یہودی مذہب میں اگرچہ توحید ضرور ہے ، لیکن یہودیوں کا خدا انسانوں سے ذرا ہی اعلی بلکہ بعض اوقات انسان سے کم تر اور اس کے مقابلے شکست خوردہ نظر آتا ہے ، اس کے اندر کوئی ایسی صفات نہیں جو انسان کو اس کے آگے جھکنے ، اسے قادر مطلق ماننے پر آمادہ کر دے ، باقی مذاہب میں دکھاوے کے لئے بھی توحید نہیں ہے ۔
اسلام کا قرآن مجید اور حدیث میں پیش کردہ خدا واقعی ایسا ہے جس کے آگے  سر کو جھکانا انسان اپنے لئے باعث افتخار سمجھے ، وہ رات کی تاریکیوں اور دن کے اجالے میں ہونے والے ہر واقعہ سے باخبر ہے ، چینٹی کی چال ، مچھلیوں کی آہٹ ، دلوں میں اٹھتے خیالات ، درخت سے گرتے پتے تک کا رازداں ہے ، اس کی عظمتوں ، کرشموں ، قوتوں کی کوئی تھاہ نہیں ہے ، اس کو کوئی جہت ، کوئی مکان و زمان مقید نہیں کر سکتا ، ہر آن ہر لمحہ ہر کسی کا اس کو علم ہے ، ہر جگہ موجود ، انسان کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے ، اس کے سامنے بندہ مومن جب نیازمندی کے ساتھ ہاتھ باندھ کر نماز میں کھڑا ہوتا ہے ، اس کی صفات پر غور کرتا ، اس کی وسعتوں کو تصور میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے حواس ، اس کی عقل جواب دینے لگتی ہے ، اس کا دائرہ فکر جس آخری حد کو خیال میں لا سکتا ہے اس کے خالق کی جلوانمائیاں اس سے کہیں دور تک لامحدود زمان و مکان میں پھیلی محسوس ہوتی ہیں ، انسان جب ایسے مالک کو پکارتا ہے ، اس سے لو لگاتا ہے تو اس کے خیال میں بلندی ، فکر میں گہرائی ، تصور میں وسعت پیدا ہوتی ہے ، رب کے ماسوا دنیا کی ہر چیز  اسے حقیر ، کمتر ، انسانی حدود کے دائرے میں صاف صاف نظر آنے لگتی ہے ، مخلوق کا رعب ، اس کی حقیقت اس پر کھل کر واضح ہو جاتی ہے ، یہ احساس کہ خدا ہر جگہ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے انساں میں جس قدر قوی ہو اسی قدر وہ گناہوں سے ، مخلوق کی ایذا رسانی سے باز رہتا ہے ۔
اس کے مقابلہ آپ ذرا ایک مورت کے سامنے کھڑے انسان کی ذہنی و عملی کیفیت دیکھئے ،  یہ مورت اس کے خیال وفکر کو نہایت محدود ، اس کے نفس میں پستی ، اس کے لاشعور میں غیر محسوس طریقے پر مخلوق کا رعب ،اور اس سے لالچ  پیدا کرتی ہے ، انسان کے ذہن میں یہ خیال کہیں اندر تک گھر کر جاتا ہے کہ یہ (نام نہاد) خدا تو صرف اس عبادت گاہ تک محدود ہے ، خارجی دنیا میں میرے اعمال کی نگرانی کوئی نہیں کر رہا ہے ، ایسے شخص کے دل سے خوف خدا یقینا ختم ہو جائے جو خدا کے وجود کو ایک خاص مقام تک محدود سمجھے ، مندر کے سامنے سے گزرے تو اس خیال سے سر جھکا لے یا سر پر آنچل ڈال لے کہ چلو خدا نظر آگیا ، اس کے ادب کا تقاضہ یہی ہے ۔

مورتی کو پوجنے سے انسان کی دماغی قوتوں میں  جلا پیدا نہیں ہو سکتا ، اس کے تصور کی پرواز نہایت محدود ہوکر رہ جاتی ہے ، خدا کی امیج اس کی نظروں میں مخلوق سے بھی کمتر ہو جاتی ہے ، جو ظاہر ہے اسے کسی گناہ سے روکنے میں ہرگز مؤثر نہیں ہو سکتی ۔

اسلام کا خدا بغیر کسی واسطہ کے انسان سے روبرو ہوتا ہے ، براہ راست  اس کی التجا ، اس کی پکار کو سنتا ہے ، کسی پادری ، کسی پنڈت ، کسی ربی کا واسطہ اس کے اور بندے کے درمیان نہیں ہوتا ، یہ احساس انسان کو عجیب قسم کی عزت بخشتا ہے کہ اس کے اور خالق کے مابین کوئی واسطہ نہیں ، وإذا سألت عبادي عني فإني قريب ، أجيب دعوة الداع إذا دعاني ۔ ہم جو انبیاء یا بزرگوں کے ذریعے دعا کرلیتے ہیں تو اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ بندہ مومن انکو خدا کی مقرب ہستیاں سمجھ کر ان کے ذریعے اپنی سفارش کراتا ہے ، مانگتا خدا سے ہی ہے ، حاجت روا وہی ہے مختار کل ، رازق وہی ہے یہ صرف سفارشی ہیں ۔

٣)نبوت :

اسلام کی اہم خصوصیات میں سے اہم ترین اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مسعود ہے ، عرب کے صحرا میں پیدا ہونے والے اس امی نے جس نے کبھی علوم و معارف کو پڑھنا تو دور کسی سے رسمی طور پر معمولی پڑھنا لکھنا بھی نہیں سیکھا تھا ، جہاں علوم سے زیادہ شاعری اور فصاحت کا زور تھا ، اسی ذات کی زباں پر حکمت و اخلاق ، معاملات و معاشرت ، سیاست و معیشت ، وراثت و سلطنت کے وہ اصول و قوانین جاری ہوتے ہیں کہ ارسطو ، افلاطون و سقراط جس کا تصور بھی نہ کر سکے تھے ، اور یہ سب کچھ زبانی طور پر ہندو و نصیحت تک ہی محدود نہیں تھا ، یونان و روما کے عقلاء  ، فلسفیوں و دانشوروں کے برخلاف ایک ایک اصول کو عملی طور پر ٢٣ سال کی قلیل مدت میں نہ صرف نافذ کر دیا بلکہ لاکھوں لوگوں کو اس دعوت ، اس مشن ، اس طرز کا ایسا گرویدہ بناکر رکھ دیا کہ ١٤٠٠ سال سے زائد عرصہ سے آج تک کروشیا کروڈ لوگ اس طریقے کی اتباع ، اس پر کی پیروی اس کی راہ میں قربانی کو اپنے لئے سعادت و سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں ، دنیا کی تاریخ میں کسی شخصیت سے اتنی محبت ، اس کی ایک ایک ادا کی حفاظت اور اس کی تقلید ، اس کے اقوال و افعال کی ایسی عظمت و تقدس ، اس کے نام کا ایسا جلوہ و جادو کہ لوگ گھر بار ماں باپ ،مال واولاد یہاں تک کے اپنی جانیں اس کی حرمت کے لئے پیش کرنے کو اپنے کامیابی سمجھتے ہوں ، آج تک پوری تاریخ میں اس کا ہم پلّہ تو کیا اس کا عکس بھی نظر نہیں آتا ، اس سے بڑی کیا دلیل اسلام کی حقانیت کی ہو سکتی ہے ؟؟

کون سی طاقت ہے جو دلوں پر اس ذات کی حکومت کراتی ہے ، وہ ذات کہ جس کی نہ کوئی مادی تصویر ہے ، لیکن ہر مومن کے دل میں وہ بستا ہے ، جس کو ( صحابہ کی تھوڑی سی تعدادِ کےعلاوہ ) کسی مسلمان کی آنکھوں نے نہیں دیکھا ، لیکن اس پر اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار رہتا ہے ، جس سے کبھی ملاقات کا شرف نہیں ملا لیکن اس کا نام نامی دماغوں ہلچل ، روحوں میں قرار اور دلوں میں میٹھی میٹھی محبت کے جذبات جگا دیتا ہے کہ زبانیں بے قابو ہوکر ” صلی اللہ علیہ وسلم ” کی صدا لگانے لگتی ہے ، آخر اس عشق کی جس کے آگے عشق و محبت کے سارے قصے پھیکے پڑ جاتے ہیں کیا وجہ ہے ؟؟

ذرا بھی انسان کے اندر تھوڑی غیرت ، حیا اور ایمانداری بچی ہو ، تو وہ بلا ساختہ گواہی دینے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اس رب کا عطا کردہ ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا رسول بناکر بھیجا ہے ، اس کے سوا کوئی معقول تشریح ، کوئی مقبول تفسیر ہو ہی نہیں سکتی ۔

٤)آخرت :

اسلام کا نظریہ آخرت تمام مذاہبِ کے مقابلے واضح ، شفاف عقل کو اپیل کرنے والا ہے ، ہر انسان اپنے اعمال کا جواب دہ ہے ، اللہ کی قضا و قدر اور مشیت سے دنیا کا نظام چلتا ہے ، یہ احساس ، یہ عقیدہ جہاں ایک طرف دلوں میں اطمینان بھر دیتا ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا نقصان ایمان والے کی نظر میں ہیچ ہوجاتا ہے ، ہر معتقد شخص دنیاوی مصائب کو ایک قلیل عرصے کی وقتی تکالیف سمجھ کر پر امید رہتا ہے کہ اس جہاں میں نہ سہی لیکن دوسرے جہاں میں اس کے صبر ، اس کی قربانیوں ، اس کی محنتوں کا ٹھیک ٹھیک صلہ اس کو ملنے والا ہے ، یہ عقیدہ انسان کی زندگی سے نکال دیجئے ، پھر دیکھئے کیسے چاروں طرف مادیت ، ہوس و حرص ، طمع و لالچ اور دنیاوی وسائل کی جمع خوری کے لئے گلاکاٹ مقابلہ آرائی ہوتی ہے ، جیسا کہ خدا بے زار دنیا میں ہم آج بڑے پیمانے پر مشاہدہ کر ہی رہے ہیں ، میں کسی غریب کی مدد کیوں کروں جب مجھے کوئی بدلہ اس کا ملنے والا نہیں ؟

کسی ناجائز طریقے کی کمائی ، حرام کی دولت ، دوسرے کی حق تلفی سے اپنا فائدہ ، غصب ، لوٹ ، کرپشن ، بدعنوانی ، ظلم و جبر غرض کسی بھی کام سے موقع ملنے پر میں کیوں اپنے کو باز رکھوں ، اگر اس دنیا کے بعد کوئی عدالت نہیں ، کوئی قانون نہیں ، کوئی زندگی نہیں ؟ کیا صرف اس لئے ایماندار بن کر معمولی تنخواہ پر صبر کر لوں کہ چند مسکین ، دبے کچلے لوگوں کی واہ واہی مل جائے گی ؟ کیا اس لئے اپنے سینئر کو ناراض کرکے اپنی نوکری ، اپنا کیرئر داؤ پر لگا  لوں کہ کچھ بے سہارا لوگ میرے بارے میں اچھا گمان کرنے لگیں ؟؟
کوئی بھی انسان ہرگز ہرگز اس قیمت  پر یہ قربانیاں نہیں دے سکتا ہے ۔

٥) دین اور دنیا کا توازن :

مذہب کے حق و باطل ہونے کا ایک بڑا معیار دین و دنیا کا توازن ہے ، ابتدائی عالم سے آج تک اس معیار میں غلطیاں ہوتی رہی ہیں ، قدیم زمانے سے ہی زیادہ تر مذاہب نے ترک دنیا ، زہد ، حظوظ و لذات سے کنارہ کشی ، جوگ کو کمال کا معیار بنایا ، موجودہ دور میں بھی اس نے بڑے بڑے عقلاء کو حیران و پریشان کر دیا ، یورپ کے اہل نظر اور ان کے مشرقی شاگردوں نے اس کو ناممکن الحصول قرار دے دیا ، ہینری برینجیہ “رویو آف رویو” میں لکھتا ہے کہ کاش کوئی شخص تعصب کے پردوں کو چاک کرکے مذہبی خیال اور تفکر علم ( سائنس) کے درمیان مضبوط تعلق کو کھول کر رکھ دیتا جس سے مدتوں سے چلی آرہی کشمکش ختم ہو جاتی ( بحوالہ ” الکلام ” مولانا شبلی نعمانی ، ص 245)
فویر باش لکھتا ہے کہ مذہب کی فضیلت یہ ہے کہ ملکی و سیاسی زندگی تباہ کر دی جائے۔
لاروس کہتا ہے کہ زاہدوں کا مقصد یہ ہے کہ فطری خواہشوں کے اثر کو دبا دیں ۔

حتی کہ سقراط ، افلاطون فارابی وغیرہ فلاسفہ کی زندگی فقیرانہ تھی ، کیونکہ صرف فقر و فاقہ ، تنگی ، دنیاوی نعمتوں سے اعراض ہی کمال کی دلیل سمجھیں جاتی رہی ہے ، آج بھی آپ دیکھئے جس آدمی کے بارے میں ہم یہ سنتے ہیں کہ وہ فرش خاک پر پڑا رہتا ہے ، بہت کم خوراک لیتا ہے ، معمولی کپڑے پہنتا ہے ، ہمارے دلوں میں اس کی وقعت قائم ہو جاتی ہے چاہے اس میں اس کے علاوہ ایک بھی خوبی نہ ہو  ۔
اسلام واحد مذہب ہے جو دین و دنیا کے بارے میں واضح احکام پیش کرتا ہے ، دین کے ساتھ دنیاوی معاملات کو بھی درست رکھنے کی تاکید کرتا ہے “ولا تنس نصيبك من الدنيا ”  ترک دنیا ، رہبانیت ، سنیاس ، امور خانہ داری  ملکی ، سیاسی سماجی سرگرمیوں سے بھاگنا ان سب کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ، یہ غیر فطری ، غیر انسانی ، اور قوانین طبعی سے ہم آہنگ نہیں ہے ورهبانية ابتدعوها ما كتبنا عليهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها الخ ..  دنیا کی طیب ، پاک چیزیں ، خدا کی بیش بہا نعمتیں ، سامان زینت ، بہتر  زندگی گزارنا ، اسلام نے کسی چیز کو حرام قرار دیکر انسان کے فظری جذبات کا گلا نہیں گھونٹا ، ہاں اس کے دائرے ، قواعد و قوانین ، اور جائز حدود مقرر کر دئے ، کیونکہ فطرت کے تقاضوں کو دبایا جاتا تو وہی حال ہوتا جو آج ساری دنیا میں رہبانیت ، جوگی پن ، سنیاس کی تعلیم رکھنے والے مذاہب کر رہے ہیں ، کہ دنیا کی لذتوں ، اس کی آسائشوں نے انہیں کھینچ کر ان کو اور ان کے مذہب کو ایک مضحکہ  بناکر رکھ دیا ہے ، ” قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده والطيبات من الرزق ”  يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر .
سخر لكم ما في الأرض جميعا ، أسبغ عليكم نعمه ظاهرة وباطنة .
وما ذرألكم في الأرض مختلفا ألوانه ، ينبت لكم به الزرع والزيتون والنخيل والأعناب ومن كل الثمرات۔

  مال کو قرآن میں ٢١ جگہ خير ، ٢٥ مقامات پر  فضل ، ١٢ مواقع پر رحمت اور 12 ہی مقامات پر حسنہ کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے ، ہاں قرآن میں مال و دولت کی برائی بھی کی گئی ہے ، لیکن دیکھنے سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ وہ مال ہے جو غلط طریقے پر حاصل کیا جائے یا ناجائز اور بے جا مصارف میں خرچ کیا جائے ، اور اس کی برائی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ، ہاں کچھ حدود اور مطالبات زکاۃ ، صدقات کی شکل میں اگر کئے گئے ہیں تو وہ بھی انسان کے فائدے  کے پیش نظر ہیں .

٦) مساواۃ انسانی :

ترقی و تمدن کے فطری اصول میں سے ایک اہم اصول مساوات ہے ، یعنی انسان ہونے کی حیثیت سے تمام افراد کے حقوق برابر ہیں ، مساوات تمام اخلاق حمیدہ کی بنیاد ہے ، لیکن اسلام سے پہلے( قولا و عملا ) اور نہ ہی اسلام کے بعد ( عملا ، کیونکہ قولا تو رات دن آج کل سبھی برابری کے نعرے لگاتے ہیں ) کسی ملک و قوم میں حقیقی مساوات کا نفاذ عملی شکل میں نہ ہو سکا ،  مہذب سے مہذب قوموں کا طرز عمل تعزیرات اور سزاؤں کے سلسلے میں یہ تھا کہ مراتب اور حیثیت عرفی کے لحاظ سے سزا ملتی تھی ( آپ اپنے ملک میں اور دیگر ممالک میں آج بھی دیکھ سکتے ہیں ، کہ طاقت ور کے لئے کوئی قانون نہیں ، کمزور مظلوم کے لئے ہر قانون ہے ) فلاسفر فرینک لکھتا ہے کہ یورپ میں مساوات کی تاریخ سو سال سے زیادہ پرانی نہیں ہے ، لاروس نے رومن ایمپائر سے لیکر فرینچ ریولیوشن ( انقلاب فرانس 1789ء) تک کے مظالم اپنے انسائیکلوپیڈیا میں درج کئے ہیں ، اب نظام فطرت کے اس اصول پر دیکھے اسلام کی کیا تعلیم ہے۔

بأبها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى ، وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا ، إن أكرمكم عند الله أتقاكم


یہ صرف محض الفاظ نہیں تھے ، بلکہ جب تک اسلام صحیح معنی میں اسلام تھا ، مسلمان اس کو مکمل طریقے پر فالو کرتے تھے یہ اصول ان کی زندگیوں میں رچ بس گیا تھا ، عرب کے قبائل میں معزز و مشرف قبیلہ کا ایک فرد دوسرے قبیلوں کے کئ افراد کے برابر مانا جاتا تھا ، ایک بڑے قبیلے کے شخص کے عوض دوسرے سماجی معاشی خاندانی  لحاظ سے کمتر  قبیلے کے کئ افراد قتل کئے جاتے ، وہ قریش جو اپنی برتری کے باعث بدر میں انصار سے لڑنا اپنی عار سمجھتے تھے ، اسلام نے ان کو ایران ، حبشہ ، افریقہ کے زرخرید غلاموں کے برابر لا کھڑا کیا ، ابوسفیان جو قریش کے سردار تھے ، اسلام لانے کے بعد بلال ، و صہیب رومی رضی اللہ عنہما ( جو غلام رہ چکے تھے ) کے ہم مرتبہ ہو گئے ، عرب کا مشہور بادشاہ جبلہ ابن ایہم اسلام لایا تو اس نے ایک عام مسلمان کے مقابلہ میں بدلہ میں چاہا کہ اس سے بدلہ نہ لیا جائے ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گوارا نہ کیا اور اس کو اس عام مسلمان سے سزا دلوائی جس پر وہ عیسائیوں سے جاکر مل گیا  ،شام کے سفر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پیدل تھے اور غلام اونٹ پر سوار تھا ، جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت علی اور حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ باری باری اونٹ پر سوار ہوتے ، اور ان دونوں کے اصرار کے باوجود ان کو باری آنے پر بیٹھایا اور خود پیدل چلے ، خندق کھودنے کے موقع پر آپ علیہ السلام کے پیٹ پر دو پتھر تھے ، آپ خود کدال لیکر بنفس نفیس کھدائی میں شریک رہے ۔

ایک عام مسلمان بھری مسجد میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دو چادر اوڑھنے پر سوال کر لیتا ہے ، اور وہ باقاعدہ نرمی سے جواب دیتے ہیں ۔ صدقے کا اونٹ تیز دھوپ میں خود تلاش کرتے ہیں ، غریب عورت کے گھر روشن کی بوری کاندھے پر لاد کر لے جاتے ہیں ۔
ایسے ہزاروں واقعات ہے ، مؤرخین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں پہلا ظلم ” تنح عن الطريق ” ( راستے سے ہٹ جاؤ ) کے کہنے سے ہوا ہے ۔
کیونکہ ابتدائے اسلام میں بڑے سے بڑے آدمی کے لئے راستہ خالی نہیں کیا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے لئے صحابہ لا کھڑا ہونا گوارا نہیں فرماتے تھے ۔
لیکن انسانی مساوات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ افراد کے درمیان اختلاف مراتب کو ملحوظ نہ رکھا جائے ، اس میں بہت بڑی غلطی عموما کی جاتی ہے کہ مساوات کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے مال ، دولت ، عہدہ ، منصب کے اختلاف کو بھی ختم کر دیا جائے ، ایک وزیر اعظم ، بادشاہ کو بھی ایک چپراسی کے برابر کر دیا جائے ، یہ فطرت کے خلاف ہے ، اگر اس پر عمل کیا جائے تو تمام ترقیاں رک جائے ، کوئی دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہ کرے ، کمیونزم اور کیپٹلزم  دونوں اسی افراط تفریط کا شکار ہیں ، ایک مساوات کی خاطر فرد کی بالکلیہ نفی کرتا ہے ، دوسرا فرد کو حد درجہ آزاد کرکے جماعت و سوسائٹی کو اس کا غلام بنا دیتا ہے ،  اور دین فطرت اس کو کیسے گوارا کر سکتا ہے نحن قسمنا معيشتهم في الحياة الدنيا ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات ليتخذ بعضهم بعضا سخريا .

جاری ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...