Home » قارام » اسلام مذہب حق کیوں ہے؟ دوسری قسط: وصی میاں خان رازی
اسلامیات قارام نقطۂ نظر وصی میاں خان

اسلام مذہب حق کیوں ہے؟ دوسری قسط: وصی میاں خان رازی

 

اسلام مذہب حق کیوں : قسط ٢
           

اسلام کے واحد مذہب حق ہونے کے سلسلے میں  قسط وارمضامین کاسلسلہ گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا ، پہلی قسط میں چھ اہم اور بنیادی نکات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی        ، جن میں اسلام کو فطرت سے قریب ، انسانی مزاج کے موافق اور ترقی کے اصولوں سے ہم آہنگ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی       ، اس قسط میں  دوسرےکچھ  مزید پہلؤوں پر اجمالی نظر ڈالی ہے       ،  لیکن موجودہ دور کے لحاظ سے ایک خاص پہلو یعنی علم کی ترقی  پر اس کی اہمیت کے باعث قدرے تفصیل سے لکھا گیا ہے ۔

٧)بے انتہا علمی ترقی:

انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کے لئے علمی ترقی کی کوئی حدمقرر نہ ہو ،      ،بے انتہا ترقی       ، عقل و حواس اور دیگر ذرائع علم کا بھرپور استعمال کرنے کی اس کو چھوٹ دی جائے       ، اس کو اس سلسلے میں ڈکٹیٹر شپ       ، قیود  پسند نہیں آتی۔یورپ کی علمی ترقی کے ساتھ جو عیسائیت کا جنازہ اٹھا اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کا مذہب عقل و علم کے راستے میں پہرے بیٹھاتا     ، علماء کی ترقیات سے خوف زدہ اور اپنی کمزور بنیادوں والی سلطنت  کے ہل جانے کے اندیشے سے لرزہ بر اندام تھا ۔      کوپرنیکس       ، گیلیلیو اپنی چرچ مخالف علمی ایجاد کی وجہ سے قربان ہو گئے      ، نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کے علمی طبقہ میں مذہب سے نفرت کی حد تک بیزاری     ، رات دن مذہب کے بطلان اس کے مخالف علمی نظریات کےفروغ کی ہوا چل پڑی جس نے یورپ کے غلبہ کے باعث پوری دنیا میں یہ تاثر  دیا کہ مذہب اور علم میں تضاد ہے     ، اور مذہب  علم کی راہ میں حائل ہے       ، حالانکہ وہ مسخ شدہ ، محرف مسیحی مذہب تھا جو علم کی یلغار کے سامنے سرینڈر ہو گیا      ، اسلام نے تو روز اول سے علم کی اہمیت ، اس کی ضرورت کو تسلیم کرکے اسے فرض قرار دیا       ، اس کی ترقی کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کو یہ دعا سکھائی گئی “قل ربی زدني علما”

تاریخ گواہ ہے اسلام جہاں گیا علم کی روشنیاں اس نے بکھیر دیں      ، عرب کے بڑے بڑے شعراء لکھنے پڑھنے کو عار سمجھتے تھے       ،ایک عرب شاعر کو جب لکھنے کی ضرورت پیش آئی تو اس نے حاضرین سے التجا کی کہ کسی کو اس بارے میں نہ بتائیں ورنہ اس کی بدنامی ہوگی ۔

یہی عرب جب اسلام میں داخل ہوئے تو علم و فن میں مرجع خلائق بن گئے      ، امام مالک ، امام شافعی     ،امام زہری رحمہم اللہ جیسے مجتہدین ، فقہاء       ، محدثین      ،مفسرین     ، بلاغیین       ، اسماء رجال کے امام     ،ماہر اقتصادیات ، سیاست و معیشت کے امام      ، فلسفہ ، کیمیاء      ،طبیعیات      ، جغرافیہ تمدن و تہذیب کے مقتدا بن گئے     ، اور جہاں جہاں گئے         ، وہاں وہاں علم و حکمت کو پھیلاتے چلے گئے ، ترک         ، ایران     ،مغرب        ،تونس       ،اسپین         ، ہندوستان ہر جگہ دیکھ لیجئے اسلام سے پہلے کیا حالت اور اسلام کے بعد کیا ہو گئی ۔

پھر ان بڑے بڑے ائمہ فن اور عباقرہ زمانہ پر ہی کیا منحصر ہے ، اسلام نے تو علم کی اشاعت اور اس کی تبلیغ میں عوام کا بھی خاص لحاظ رکھا ہے      ، جتنا علم ایک انسان کے لئے اسلامی زندگی  گزارنے کے لئے ضروری ہے اتنا سب پر فرض کیا گیا  ” طلب العلم فریضة على كل مسلم “
پھر ہر جاننے والے کی ذمے داری طے کئی گئی کہ وہ علم کی اشاعت و تبلیغ میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کرے ، “لبيلغ الشاهد الغائب “
مجالس علم میں موجود شخص غیر حاضروں تک علم کی بات پہونچا دے      ، کتمانِ   علم کو حرام اور اشاعت علم کو فریضہ قرار دیا گیا        ، یہ احساس  دلوں میں پیوست کیا گیا کہ علم چھپانے سے ضائع نہیں ہوتا ہے ( دیکھئے صحیح بخاری کتاب العلم باب كيف يقبض العلم )

علم کے سلسلے میں اس تاکید اور ہدایت کا اثر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں میں جس قدر مصنفین      ، اہل قلم     ، مفکرین      ، خطباء پیدا ہوئے دوسری قومیں اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کر سکیں     ، پھر علم کی اشاعت      ، اس کی تبلیغ کے لئے جس قدر صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود علماء اسلام نے اس کی کوئی قیمت ، کوئی عوض لوگوں سے نہیں مانگا     ، صرف اللہ سےامید رکھی     ، یہی وجہ ہے کہ آج عربی اور دیگر زبانوں میں اسلامی علوم کی ہزاروں لائبریریاں موجود ہیں کہ جن میں اکثر کا کوئی کاپی رائٹ ہی نہیں        ، نیز  مفت آن لائن علمی مواد بھی اسلامی علوم کی شکل میں کہیں زیادہ ہے       ،آپ اردو    ، عربی کے پورے پورے مکتبات اپلوڈ کرنے والے کو ایک روپیہ صرف کئے بغیر حاصل کر سکتے ہیں        ، جبکہ دنیاوی علوم خصوصاً یورپ ، امریکا کے مصنفین کی قدیم کتابیں بھی جو خالص فلسفیانہ نوعیت کی ہیں وہ بھی مفت میں نہیں ملتی           ، سائنسی علوم پر مشتمل کتابوں کے آن لائن نسخوں کی تو بات ہی چھوڑ دیجئے ۔

مسلمان مصنفین کی اس کثرت تصانیف اور شدت تبلیغ میں اگر خوف خدا       ، عالم آخرت کی حاضری کا تصور کار فرما نہ ہوتا تو شاید وہ بھی اپنے قلب و دماغ پر وارد ہونے والے علمی افکار و نظریات کو مخلوق خدا کے سامنے پیش کرنے میں بخل سے کام لیتے ، جیسا کہ دیگر علماء و مفکرین کی روش رہی ہے کہ وہ اپنے تمام نظریات ، مکمل ذہنی قوتوں کو یا تو بیک وقت کام میں لاتے ہی نہیں کہ خلق خدا اس سے مستفید ہو سکے      ،یا اگر لاتے ہیں تو وہ اس کی بھرپور قیمت رائلٹی کی شکل میں وصولتے ہیں       ، اور اس کتاب و فکر علمی کی قیمت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ محدود چند لوگوں کے سوا اس تک عام قارئین وشایقین علم کی رسائی ناممکن ہو جاتی ہے       ،اس صورت میں ظاہر ہے حصول علم کی قیمت محنت اور شوق سے زیادہ مال و ثروت کی زیادتی ہو جاتی ہے           ، آپ ذرا دیکھئے کہ خشونت سنگھ جیسے نامور مصنف نے (جس کی عمر 99 سال ہوئی ہے ) 70 سال سے زائد کے عرصے پر محیط اپنے علمی سفر میں صرف 23 کے قریب کتابیں لکھیں  جبکہ وہ اوسطا ایک سال میں 50 یازائد کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے اس طرح ستر سال میں تقریبا 3500 کتابیں انہوں نے پڑھیں  ہیں     ، اس کے مقابلے میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تصانیف کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق 500 سے متجاوز ہے ۔

یہ حال تو کتابوں اور پڑھے لکھے لوگوں کا ہے ،  اسلام میں عوام کے درمیان اشاعت علم کی غرض سے دارالافتاء      ، مدارس      ،مساجد      ، اور اسلامی سینٹرز کی بھرمار ہے       ، سوشل میڈیا پر فقہی گروپ ، پیجز کی تعداد  کا تو کوئی شمار ہی نہیں       ، جہاں کوئی بھی عام آدمی کسی بھی مسئلہ پر قانونی رائے بالکل مفت لے سکتا ہے       ،اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جس مسئلہ پر وہ رہنمائی چاہتا ہے وہ واقعی پیش بھی آگیا ہو ، بلکہ خالصتا فرضی واقعات کے بارے میں بھی قانونی رائے لی جا سکتی ہے         ، اس سے ہر شخص کے لئے دین کی سمجھ بڑھانے کے مواقع ہاتھ آتے ہیں ، قانون کی سمجھ ، مسئلہ کی صورت چند خاص لوگوں کی جاگیر بن کر نہیں رہ جاتی ۔

اب ذرا دنیا بھر کے موجودہ نظام عدل و قانون سے اس کا موازنہ کرکے دیکھئے ، آپ کے سامنے ہر شعبہ میں اسلامی نظام تعلیم کی خوبیاں عیاں ہو جائیں گی       ،ایک عام شہری کو بہت بنیادی  قسم کے دستوری حقوق             ، فرائض کا علم عموماً نہیں ہوتا ہے        ، اور اگر ہو بھی جائے تو وکیل کے بغیر کورٹ میں کھڑا ہونے کامجاز نہیں        ، جبکہ وکیل چھوٹی چھوٹی قانونی رہنمائی کے لئے اس کی کھال کھینچ لیتا ہے         ، اور معمولی معمولی مسائل پر فیصلہ آنے میں عرصہ لگ جاتا ہے       ، جس سے انسان مالی اور ذہنی طور پر قلاش ہوکر رہ جاتا ہے ۔

قانون کی اسی پیچیدگی سے سیاست داں فائدہ اٹھاکر قومی خزانہ پر ڈکیتی ڈال کر ملک و قوم کو کنگال کرتے رہتے ہیں       ، رفائیل کی مثال آپ کے سامنے ہے       ، عوام  کو تو پتا ہی نہیں لگتا کہ  کیا کچھ اس دستور کی رو سے ” حلال اور طیب”  ہے اور کیا کچھ حرام اور خبیث ہے ۔

اسلام نے بوجہ دین فطرت ہونے کے مقاصد کے اعتبار سے حدود بھی مقرر کئے ہیں          ، علم سمیت تمام ہی چیزوں میں مقصد صالح ، نیک         ، انسانیت کی فلاح و بہبود ہونا چاہئے         ، ظلم   ، بگاڑ         ، فساد ، تخریب کاری کے لئے علم کا استعمال           ، عقل کا استعمال اسلام میں سراسر غلط ہے       ،آج کی دنیا علم کو صرف برائے علم دیکھتی ہے         ، اس کی ایجادات پر خواہ وہ کسی بھی حد تک مہلک ہوں پھولے نہیں سماتی ، اسلام نہ ترقی کو ممنوع قرار دیتا ہے اور نہ ہی ترقی کے عنوان سے فساد کی اجازت دیتا ہے  ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس .

٨)مشاورت :

ترقی کا اہم فطری اصول ہے کہ جماعت و سوسائٹی کے معاملات قوم کے مقتدر         ، ذہین       ، متقی لوگوں کے  آپسی مشورے سے طےہوں جس کو جمہوریت کا نام دیا جا سکتا ہے لیکن یہ جمہوریت آجکل کی طرح نہیں کہ ہر شخص پیسا اور طاقت کے دم پر اقتدار کی کرسی پر وراجمان ہو جائے وشاورهم في الأمر ، وأمرهم شورى بينهم ، اس میں حاکم و لیڈر اتنا بردبار      ، حلیم        ،مدبر       ،صاحب بصیرت       ، خشیت کا پیکر ہو کہ آراء کے درمیان ترجیح       ،بہتر رائے کا انتخاب ، اور تمام آراء کے برعکس قوی ترین رائے کے ذریعے آخری فیصلہ کرنے کی اس میں استطاعت ہو ، فإذا عزمت فتوكل على الله .

٩)تقسیم عمل :

ترقی کا بہترین فطری اصول تقسیم کار ہے       ، لوگوں کو ان کے مراتب      ، صلاحیتوں اور خصوصیات کی بنا پر الگ الگ کام مشغول کیا جائے     ، یورپ میں اب جاکر یہ اصول کارفرما ہوا ہے کہ ہر فیلڈ کے لئے اس کے ماہرین اور اسپیشلسٹ لوگوں کی جماعت ہے       ، اسلام نے اس اصول کی طرف اشارہ کیا ” ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير يامرون بالمعروف وينهبون عن المنكر .
وما كان المؤمنون لينفروا كافة ، فلو لا نفر من كل فرقة منهم ، ليتفقهو في الدين .

١٠) انسان کی برتری :

انسان کی فطرت اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے تمام مخلوقات پر فوقیت دی جائے ، کائنات میں جو کچھ ہے وہ انسان کے لئے ہو ، نام نہاد مہذب دنیا اب جاکر پچھلے 100 سالوں میں کسی حد تک اس اصول کو تسلیم کر پائی ہے     ،( اگرچہ دوبارہ سے انسانی مقام کو گراکر پھر اسی جاہلیت کے قوانین کی طرف بھی کسی حد تک چل پڑی ہے  پیٹا جیسی غیر معقول تنظیمیں اس کی غماز ہیں)  جبکہ ماضی میں تو کسی بھی مذہب میں انسان کو یہ شرف حاصل نہیں تھا کہ وہ کائنات میں خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے تصرف کر سکے      ، شجر و حجر ، بحر وبر     ،چاند سورج      ، آگ اور ہوا سب اس سے افضل تھے اور وہ ان کی غلامی کرنے     ، عبادت کرنے    ،پر مجبور کیا جاتا تھا ، اسلام نے کہا :
لقد خلقنا الإنسان في أحسن تقويم
سخر لكم ما في الأرض جميعا.

١١)  انسان کا اختیار :

انسان کی فطرت تقاضہ کرتی ہے کہ اپنے خیر و شر ، زوال و عروج ، ترقی وتنزلی  سعادت و شقاوت کا وہ خود ذمے دار ہو ، یہ نہیں کہ کرے کوئی بھرے کوئی       ،جیسا عیسائیت کا نظریہ کفارہ ہے کہ عیسی علیہ السلام ( نعوذ باللہ) تمام انسانوں کے کفارہ کے لئے دوزخ میں رہے     ، اور جیسا کہ آواگون کا ہندو نظریہ ہے کہ کرم اس جنم میں کوئی اور کرے اور دوسرے جنم میں کوئی بھرے      ، اب اسلام کی تعلیم دیکھئے  :ليس للإنسان إلا ما سعى، لا تزر وازة وزر أخرى،لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت،لا تكسب كل نفس إلا عليها،ما أصابكم من مصيبة فبماكسبت أيديكم، أولا أصابتكم مصيبة قدأصبتم مثليها قلتم أنى هذا قل هو من عند أنفسكم،  ووجدوا ما عملوا حاضرا،إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات يهديهم ربهم بإيمانهم،ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس،إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم،إن الذين لا يؤمنون بآيت لا يهديهم الله،يآبها الذين آمنوا إن تنصرو الله ينصركم ويثبت أقدامكم،فلما زاغوا أزاغ الله قلوبهم.


١٢)احکام کی نرمی :

فطرت یہ تقاضہ کرتی ہے کہ انسان کے لئے احکام وقوانیج ایسے ہوں کہ اس کے لئے عمل آسان ہو ، اس کو اپنی قوت سے بڑھ کر ، فطرت کو مارکر اس پر عمل نہ کرنا پڑے     ، دیگر مذاہب میں اصل رہبانیت اور ترک دنیا ہے جیسا کہ گزرا ، پھر  ان مذاہب میں انسان عبادت خود نہیں کر سکتا ، ہندؤں کو پنڈت کی ، عیسائیوں کو پادری کی      ، یہودیوں کو احبار کی ضرورت ہوتی ہے       ، لیکن مسلمان اپنا پادری     ،پنڈت سب کچھ خود ہے     ، وہ رب کی عبادت میں کسی کا محتاج نہیں ہے ۔

اسلام میں فرائض تعداد بے حد کم ہے     ، نماز    ، روزہ حج زکاۃ میں سے حج  وزکاۃ تو دولت مندوں کے لئے ہیں      ، روزہ سال بھر میں ایک مہینہ کے لئے ہے  اس میں بھی مسافر ، مریض اور کمزور کے  لئے رخصتیں ہیں      ،صرف نماز ہی  روزانہ کا فرض ہے     ،اس میں بہت تھوڑا سا وقت صرف ہوتا ہے    ، اس کی شرائط نہایت آسان     ،سادہ اور انسان کی فطرت سے قریب ہیں     ،مسافر کے لئے قصر.  ، مریض کے لئے حسب ضرورت وضو ، جہت قبلہ     ، قیام        ، رکوع         ، سجدہ ہر چیز میں چھوٹ۔ حج زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے وہ بھی راستے کے محفوظ ہونے، آنے جانے کا خرچ، اہل خانہ جو اس پر ڈپینڈ ہوں ان کے خرچ کے انتظام کے ساتھ ہے۔ 
جاری۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...