Home » کتابوں پر تبصرے » ڈارونس بلیک باکس(ڈارون کا سیاہ بکسہ): ڈاکٹر مائیکل بیھی: محمد عمیر
کتابوں پر تبصرے

ڈارونس بلیک باکس(ڈارون کا سیاہ بکسہ): ڈاکٹر مائیکل بیھی: محمد عمیر

 ڈارونس بلیک باکس: ڈاکٹر مائیکل بیھی

Darwin’s    black box: by Dr.Michael Behe

صفحات:٣٥٢

قیمت : ٣٩٩ 

اس کتاب کا عنوان بہت معنی خیز ہے۔ بلیک باکس یا سیاہ بکسہ ایک ایسے طلسمائی بکسے کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سرزد ہونے والے مبہوت العقل کارنامے نظر تو آتے ہیں لیکن اسکے مشمولات اور اسکے کام کرنے کے طریقے کا علم نہیں ہوتا۔ اسی لیے ریڈیو، رڈار، کمپیوٹر، ٹیلیویژن وغیرہ کو بلیک باکس کہا گیا چونکہ اکثریت بس اسے استعمال کرنا یعنی انپٹ (اندراج کرنا) دینا اور آؤٹپٹ (نتیجہ) نکالنا جانتی ہے، اسی لئے ہوائی جہاز میں موجود الیکٹرانک ڈوائس کو بھی بلیک باکس کہا جاتا ہے یہاں تک کہ انسانی دماغ کے لئے بھی بلیک باکس کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ 

اس عنوان کو قائم کر کے مصنف یہی تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ڈارون کے لیے یہ زندہ اجسام اور ان کے خلیات بھی سیاہ بکسے کی طرح تھے۔ ڈارون سیل (خلیہ) کے بارے میں جانتا ہی کیا تھا، اس وقت تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ سیل میں جیلی کی طرح ایک لبلبہ مادہ ہے جس سے یہ زندگی کا کاروبار رواں دواں ہے، اور اس کے ہی پھیلنے اور سکڑنے سے یا کسی اور قسم کے تغیر سے کسی جاندار میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور اسی تدریجی تبدیلی کے سبب اور ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور اس کے شواہد کے طور پر بہت بنیادی قسم کی تبدیلیاں اس نے پیش کی مثلاً پرندوں کی چونچ میں پیدا ہونے والی تبدیلی۔ 

مائکل بیھی دراصل مائکل جون ڈینٹن کے شاگرد ہیں جنہوں نے ۱۹۸۵ ء میں “اوولیشن: اے تھیوری ان کرائسز” لکھ کر ڈارون کی تھیوری کو ٹھوس سائنسی بنیادوں پر چیلنج کیا تھا، انکی کتاب کو اس لیے بھی سنجیدہ لیا گیا کیونکہ وہ خود حیاتی کیمیا یعنی بایوکیمسٹری ( زندہ اجسام میں کیمیائی یا طبعی و کیمیائی عمل کا مطالعہ) کے ماہر ہیں۔ انہوں نے انٹیلجنٹ ڈیزائن (ذی عقل صناعی) کی تھیوری کو پیش کیا اور اسی نظریے کو مائکل بیھی نے ۱۹۹۵ ء میں اس کڑی کی اپنی پہلی کتاب بلیک باکس لکھ کر آگے بڑھایا۔ مائکل بیھی خود بھی بایوکیمسٹری کے پروفیسر ہیں۔

نظریہ انٹیلجنٹ ڈزائن کی رو سے اس پورے کارخانہ حیات کی صنعت گری میں کسی ذی عقل و علیم و حکیم ہستی کا ہاتھ ہے وہ اسے اندھی طاقتوں اور رینڈم میوٹیشن ( اتفاقی تغیر جینز کے ذریعے انقلاب نوع) کا نتیجہ نہیں مانتے، البتہ وہ مائیکرو اوولیشن ( جزوی یا کم مقداری ارتقاء) کو تسلیم کرتے ہیں لیکن میکرو اوولیشن ( کلی یا اعلی سطحی ارتقاء) یعنی مکمل انقلاب نوع یا کسی پیچیدہ اعضاء بدن میں کسی قسم کے ارتقا کو تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ بہت سے اعضاء بدن یا نظام بدن ایسے ہیں کہ وہ اپنی کلی شکل میں ہی کارگر ہیں، اس کا ایک جزو اگر متروک ہو جائے یا تبدیل ہو جائے تو سارا نظام گڑبڑ ہو جاتا ہے، جبکہ ڈارون کے یہاں تدریجی تبدیلی کے ذریعے ادنی سے اعلی نوع کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ 

مائیکل بیھی صاحب ایک مذہبی عیسائی ہیں، انکے نو بچے ہیں اور تمام‌کے تمام گھر پر ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں چونکہ جدید سکول اور کالج الحاد پرستی کے گڑھ بن چکے ہیں، لیکن ایک بات واضح رہے کہ وہ “کرییشنست” نہیں ہے۔

اصل میں یہ مشکل بھی عیسائیوں کی پیدا کی ہوئی ہے، انہوں نے خدا کی کتاب میں ترمیم کی اور اپنے علم کے مطابق اس دنیا کو ایک خالق کی خلقت ماننے کے ساتھ ساتھ اسکی عمر بھی آٹھ سال متعین کر دی۔ اب یہ آٹھ سال والی تھیوری کسی کے بھی گلے سے اترنے والی نہیں ہے، اس لیے بہت سے سنجیدہ قسم‌ کے لوگ جو ملحد نہیں ہے اور نظریہ ارتقاء کو بھی تسلیم نہیں کرتے اسکے باوجود بھی خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ انٹیلجنٹ ڈیزائن کو مانیں گے لیکن اس کے پیچھے کسی خدا کی خدائی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں بھی باقی ماندہ کرییشنست کے گروہ میں سے سمجھا جائے، ایک دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر با اختیار اور نگہبان خدا کے وجود کو تسلیم کر لیا تو کچھ حدود و قیود کا پابند بھی ہونا پڑے گا خدا کے احکامات کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ 

اس کتاب میں بیھی صاحب نے بہت سے شواہد پیش کیے ہیں جس کے ذریعے ڈارون کے نظریہ ارتقاء پر زد پڑتی ہے۔ جدید علم حیاتیات کی روشنی میں انہوں نے ڈارون‌ کی خام خیالی کو ثابت کیا ہے، انہوں نے دکھایا ہے کہ اب اس دور میں ڈارون کے عدم علم کی بنیاد پر تیار ہوئے اس غیر معقول نظریے کو نہیں ڈھو سکتے۔ اب دنیا مولیکیول( سالمات) اور ڈی این اے کے بارے میں جانتی ہے جو کہ ڈارون کے لبلبے مادے سے بہت پیچیدہ اور آگے کی چیزیں ہیں، خود ڈارون اگر ان اشیاء کو جانتا ہوتا تو کبھی اپنے نظریے کو پیش کرنے کی جسارت نہ کرتا۔

ایک ماہر فن کے قلم سے نکلی ہوئی ایسی کتاب کا مطالعہ کافی مفید رہے گا جو نظریہ ارتقاء کو کسی بھی درجے میں چیلنج کرتی ہو۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...