Home » آج کا تجربہ » ہالووین اور مسلمان: ام خالد
آج کا تجربہ عقائد محمد اللہ قیصر

ہالووین اور مسلمان: ام خالد

ترجمہ: محمد اللہ قیصر

چند ہفتے قبل میں اپنے بچے اور سسرالی رشتہ دار(بچوں کے دادا دادی جن کا تعلق ایران سے ہے) ان کے ہمراہ پڑوس میں چہل قدمی کر رہی تھی، اکتوبر کا آغاز تھا، پھر بھی چند مکانات کے اگلے حصہ میں انتہائی مرتب “ہالووین ڈیکوریشن” کے “سیٹ اپ” لگ چکے تھے۔
ایک گھر سے ہمارا گذر ہوا، جو شیطان اور دیگر چیزوں کی قد آور شکلوں سے سجا تھا۔
بچے اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، اسی وقت آندھی چلی، اس سے ساری سجاوٹ اکھڑ گئی، سب کچھ بگڑ گیا۔

میرے سات سالہ بچے نے کہا، امی! دیکھئے، یہ آندھی مسلم ہے ، یہ اس ہالووین کو زمین پر گرا رہی ہے، یہ ایسا ہے جیسا سورۃ مدثر کی اس آیت میں فرمایا گیا۔
وما يعلم جنود ربك إلا هو
اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے (المدثر 31)
مجھے ہنسی آگئی، اس کا قیاس میں نے تسلیم کیا۔
اس رات جب ہم ان بچوں کے دادا کے یہاں سے اپنے گھر لوٹ آئے، تو ہالووین کے ملحدانہ آغاز پر ایک زوردار بحث ہوئی۔
“امی! ہم اس موضوع پر پہلے گفتگو کر چکے ہیں، لیکن یہ ہالووین دوبارہ کہاں سے اگیا؟” میرے ایک بچے نے پوچھا۔
“یہ آئر لینڈ نامی ملک کے مشرکین کا قدیم تہوار تھا، وہ مشرکین تھے، بڑے گندے اور احمقانہ توہمات پر ایمان رکھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ اکتوبر کے آخری دن مردہ دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں، اور زندوں کو ڈراتے ہیں”
“ہاں، اسی لئے ہم نے ایک گھر کے سامنے دیکھا کہ ایک انسانی ڈھانچہ زمین سے باہر آرہا ہے”، میرے ایک بچہ نے کہا۔
ہاں! لیکن کیا یہ عقیدہ درست ہے؟ میں نے ان سے پوچھا۔
نہیں!” بچوں نے جواب دیا، “قطعا نہیں” ہم سب قیامت کے دن بعث بعد الموت کے دوران زمین سے باہر آئیں گے،
“اور اس کا وقوقع کب ہوگا؟” میں نے زور دے کر سوال کیا۔
صرف اللہ کو علم ہے.نو سالہ بچے نے جواب دیا، لیکن یہ ہر سال اکتوبر کے اخیر میں (مردوں کے ارواح کی آمد ) تو بالکل بھی نہیں ہوتی، یہ تو قیامت کے دن ہوگا، جب دنیا ختم ہو جائے گی۔ تو اس وقت سب اپنی اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ پاک نے سورہ معراج میں فرمایا ہے۔
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍۢ يُوفِضُونَ

جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے، جیسے کہ وہ مقرر نشانیوں کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔
(المعارج 43)

“بہتر”، میں نے تصدیق کی، ان قدیم ملحدین کا ایک دوسرا غلط عقیدہ یہ تھا کہ اس دن مردے اور زندوں کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے، اور زندہ انسان پیشین گوئی کیلئے یا مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات سے آگاہ ہونے کیلئے مردوں کی قوت کا استعمال کر سکتا ہے۔
“پھر غلط” چھ سالہ بچہ جوش میں اچھل پڑا، صرف اللہ کو مستقبل کا علم ہے،
ہاں! اللہ کے علاؤہ کسی کو غیب کا علم نہیں،حتی کہ سورۃ قیامہ میں اللہ رب العزت نے فرمایا
أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں (القلم 47)
“بالکل درست” میں نے کہا. ” ان کے تمام عقائد غلط اصول پر مبنی تھے، انہوں نے علم و ہدایت سے ہٹ کر بہت کچھ گڑھ لیا تھا، یہ بالکل درست ہے کہ زمین زندہ اور مردہ چیزوں سے بھری پڑی ہے، لیکن وہ آپس میں ملتے نہیں، نہ دوسروں کو مستقل کا پتہ دیتے ہیں،قران میں اللہ پاک کا ارشاد ہے۔
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا. أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا…
کیا ہم نے زمین کو نہیں بنا دیا سمیٹ لینے والی، زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی (المرسلات 25-26)

اسلام اور خالق کائنات کی ہدایت کے بغیر، انسان زندگی اور موت سے متعلق طرح طرح کے طلسماتی عقائد گڑھ لیتا ہے۔ وہ اپنے شخصی بت تراش لیتے ہیں، اس کی پوجا کر تے ہیں، ان معبودان باطل کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بدترین حالت ہے.
ہم مسلمانوں کو معلوم ہے کہ یہ سب غلط ہے، اسلئے خود ساختہ تہوار نہیں مناتے، دوسری جماعتیں جیسے عیسائی اور دیگر بہت پہلے، ہالووین کا جشن منانے لگے، دوسرے مشرکانہ رسوم ادا کر نے لگے، ان کے مذہب میں شرک ہے ہی تو مزید ایک چھوٹے سے شرک کے اضافہ میں کیا حرج ہے؟ ان لوگوں کیلئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔
لیکن مسلمان شرک سے نفرت کرتے ہیں، ہم کبھی کسی کی نقل یا ان کے شرک کی پیروی نہیں کرتے، یہاں تک کہ ہر شخص شرک میں ملوث ہو جائے تب بھی ، ہم نہیں کرسکتے۔ہمارے اپنے تہوار ہیں، “عید الاضحیٰ” اور “عید الفطر” ہمیں مشرکین سے اضافی اور “جعلی” تہوار ادھار لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مسلم والدین، آس پاس جو کچھ دیکھیں اسے بچوں سے بیان کریں۔
آج 31 اکتوبر کو ہالووین ہے () آپ کے بچے ہیلووین کی آرائش، دیکھیں گے، (ہالووین) پوشاک میں لوگوں کو دیکھیں گے، انہیں کرتب یا عجیب و غریب سلوک کرتے دیکھیں گے۔
آج کے دن امریکی عوام تقریبا 6 بیلین ڈالر ہر سال خرچ کرتے ہیں، جس سے یہ ہالووین “کرسمس” کے بعد دوسرا سب سے بڑا کمرشیل تہوار بن جاتا ہے۔
دباؤ ہر گز نہ قبول کریں، شرک کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں، بچوں کو تفصیل سے بتائیں کہ یہ کیوں غلط ہے، اسلام اور خدا کی عطا کردہ سچی ہدایت کے خلاف ہے۔
ہمیں مسجدوں میں ہالووین یا ڈراؤنی فلموں والی رات منانے کی ضرورت نہیں ہے، ان تہواروں میں شرکت کو مسلمانوں کیلئے “جائز بنانے ” کے مقصد سے مشرکین کے تہوار لے کر، ان پر اسلامی لیبل لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اپنے بچوں کو سکھائیں کہ ثابت قدم رہیں اور حق و باطل میں امتیاز کریں۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...