Home » مذہبی افکار ونظریات » عیسائی مذہب : عقائد و عبادات، ایک نظر: وصی میاں خان رازی
مذہبی افکار ونظریات وصی میاں خان

عیسائی مذہب : عقائد و عبادات، ایک نظر: وصی میاں خان رازی

:عیسائیت کی تعریف

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں عیسائیت کی یہ تعریف کی گئی ہےکہ” عیسائیت وہ مذہب ہے جو اپنی اصلیت کو “ناصرہ” کے باشندے یسوع کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اسے خدا کا چنا ہوا (مسیح) مانتے ہیں”۔

:عیسائیت میں خدا کا تصور

خدا کے بارے میں عموما عیسائیت کا نظریہ وہی ہے جو دوسرے مذہبوں میں ہے، یعنی زندہ وجود جس میں ہر کمال پایا جاتا ہے،اور جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا۔وہ انسان کے ذہن سے بہت اوپر ہے۔
لیکن اس کے بعد معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے، کیونکہ خداکے بارے  جو عجیب وغریب تفصیلات ان کے یہاں ملتی  ہیں کہ ان کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔
ان کے یہاں تثلیث یعنی تین خداؤں کا عقیدہ ہے، جس کی تفسیر اور مطلب بیان کرنے میں مختلف قسم کی باتیں عیسائی علماء کرتے ہیں۔ یوں تو ان تین میں بھی اختلاف ہے کہ تین کون ہیں، کچھ کہتے ہیں “باپ، بیٹا اور کنواری مریم” ان تین سے مل کر خدا ہے، لیکن اکثر یہ کہتے ہیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس یہ تین مل کر خدا ہیں۔
لیکن یہ تین مل کر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تین خدا ہیں بلکہ خدا ایک ہی ہے، اور یہ تینوں بھی مستقل خدا ہیں، تین کو ایک اور ایک کو تین بنانے کا یہ نظریہ کیتھولک چرچ کا ہے۔

تین سے کیا مراد ہے؟

:باپ(Father) 

اس کا مطلب خدا کی تنہا اکیلی ذات ہےجو بیٹے کے لئے اصول کا درجہ رکھتی ہے،لیکن باپ کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے بیٹا پیدا ہوا ہے یا وہ بیٹے سے پہلے تھا، بلکہ باپ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جس طرح بچے باپ کے محتاج ہوتے ہیں اسی طرح مخلوق خدا کی محتاج ہوتی ہے۔اور باپ بچوں پر مہربان ہوتا ہے اسی طرح خدا مخلوق پر مہربان ہے۔

:بیٹا(Son )

اس کا مطلب عیسائیوں کے یہاں خدا کی کلامی صفت ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک خدا کو جس قدر معلومات ہوتی ہے اسی کے ذریعے ہوتی ہے،اور اسی کے واسطے سے ساری چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔خدا کی یہی صفت یسوع مسیح کی انسانی شخصیت کے اندر حلول کر گئی۔

:روح القدس (Holy spirit)

اس کا مطلب عیسائیوں کے نزدیک باپ اور بیٹے کی محبت والی اور حیات( زندگی) والی صفت ہے،یعنی اسی کے واسطے سے خدا ( باپ) اپنی کلامی صفت( بیٹا) سے محبت کرتا ہے، اور بیٹا باپ سے اسی کے ذریعے محبت کرتا ہے، عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو جب بپتسمہ دیا جا رہا تھا تو روح القدس ایک کبوتر کے جسم داخل ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اتری تھی۔

یہ عقیدہ سمجھ سے پرے ہے کیونکہ تین ایک ہیں اور ایک تین۔اور آج تک اس کو کوئی کلیئر نہیں سمجھاسکا، جبکہ اسی   کے اوپر عیسائیت کی بنیاد ہے

کیا تثلیث کا معاملہ قرآن کے متشابہات کی طرح ہے؟

قرآن کے متشابہات مثلا حروف مقطعات، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ، پیر، چہرہ اور عرش پر بیٹھنا ان سب سے تثلیث  کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ قرآن میں ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے مسلمان صاف کہتے ہیں کہ یہ ہماری عقل سے اوپر ہے اور پھر متشابہ آیتوں میں جو کچھ ہے اس کا کوئی تعلق اسلام کے بنیادی عقیدے یعنی توحید، رسالت اور آخرت سے نہیں ہے،یعنی ان کا مطلب اللہ تعالیٰ نہیں پوچھے گا، نہ ہی ان کے نہ جاننے سے اسلام پر فرق پڑتا ہے، جبکہ تثلیت کاعقیدہ سب سے بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے جس کو مانے بغیر کوئی عیسائی نہیں بن سکتا، اور یہی بنیادی عقیدہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا ہے۔

عیسائیوں کے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں      عقائداس طرح ہیں 

حلول : incarnation
مصلوبیت: crucifixion
حیات ثانیہ: Resurrection
کفارہ: Atonement  or  Redemption

حلول: (Incarnation)

اس کا مطلب ہے کہ خدا خود عیسی مسیح علیہ السلام کی انسانی شخصیت میں پیوست ہو گیا گھس گیا، لیکن باپ یعنی خدا نے اپنی خدائی کو ختم کرکے بیٹے کا روپ نہیں دھرا بلکہ خدا رہ کر ( نعوذباللہ) انسان بنا۔ لیکن اس کی انسانیت مکمل تھی کیونکہ اس کے اندر بقول عیسائی حضرات انسانیت کا عنصر آدم علیہ السلام سے ہی تھا ۔ مسیح علیہ السلام اپنی انسانی شکل خود اپنے آپ سے کمتر ہیں اور خدائی شکل میں خود اپنے آپ سے افضل ہیں۔ کا عقیدہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے، کچھ لوگوں نے آئینہ اور انسان اور انگوٹھی اور تحریر سے سمجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔کچھ فرقوں نے انکار کیا۔ تو بدعتی کہلائے۔

مصلوبیت: (crucifixion)

پنطس پیلاطیس نے حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائی عقیدے کے مطابق سولی دی جس کے بعد وہ تین دن قبر میں رہ کر زندہ ہوکر آئے، اور اب جنت میں خدا کے برابر بیٹھے ہیں(نعوذ باللہ) یہ عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے، قرآن کے مطابق سولی نہیں دی گئی، عیسائی کہتے ہیں کہ سولی کے وقت خدا ان کے اندر سے نکل گیا تھا۔

مقدس صلیب: (Sacred cross)

چوتھی صدی تک اس کا کہیں پتا نہیں تھا لیکن شاہ قسطنطین کوخواب میں 312 عیسوی کے اندر آسمان پر نشان دیکھا اور اس کی ماں نے 326 میں ایک صلیب پائی۔اس کے بعد سے صلیب یعنی کراس کے نشان کو مقدس سمجھ کر عیسائی پہننے لگے۔

:حیات ثانیہ ،دوسری زندگی (Resurrection

دوبارہ زندہ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے گفتگو کی۔ اور انہیں ہدایات دیں۔*

کفارہ: Resumption  or  Atonement

سب سے اہم یہی عقیدہ ہے۔
اس سے مراد وہ قربانی ہے جسکے ذریعے ایک گناہ گار انسان ایک دم خداکی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے۔آدم علیہ السلام کے گناہ (نعوذ باللہ) یعنی جنت کے درخت کو کھا لینے کی وجہ سے کے سبب انسان خدا کی رحمت سے دور ہوا۔ جس کی وجہ سے ہر بچہ آدم علیہ السلام کے گناہ کا اثر لیکر گناہگار ہی پیدا ہوتا تھا، وہ اچھائی یا برائی کرنے کی آزادی  سے محروم تھا، خدا نے جب یہ دیکھا تو اس گناہ سے انسان کو بچانے کے دو ہی طریقے تھے، یا تو خدا معاف کر دیتا، لیکن عیسائیوں کی نظر میں یہ انصاف نہیں تھا کہ خدا خود اپنا فیصلہ بدلے، دوسرا طریقہ یہ تھا کہ خدا خود اس گناہ کا کفارہ ادا کرے، خدا نے عیسائیت کی نظر میں یہی کیا اور مسیح علیہ السلام کے انسانی جسم میں پیدا ہوکر سب انسانوں کی طرف سے کفارے کے طور پر پھانسی پر چڑھ گیا( نعوذباللہ) ، اب اگر کسی کو آخرت میں نجات چاہئے تو اسے عیسی مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننا ضروری ہے اور کفارہ کے لئے بپتسمہ لینا ضروریہ ہے، ورنہ وہ ہمیشہ گناہ ہی میں مبتلا رہے گا۔

 

 

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...