Home » اسلامیات » بچوں کی تفریح اور جدید ٹکنالوجی: ام خالد، ترجمہ: مفتی محمد اللہ قیصر
اسلامیات تعلیم وترتبیت محمد اللہ قیصر

بچوں کی تفریح اور جدید ٹکنالوجی: ام خالد، ترجمہ: مفتی محمد اللہ قیصر

بچوں کی تفریح اور جدید ٹکنالوجی
از: ام خالد
ترجمہ: محمد اللہ قیصر
اکثرو بیشتر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ :آپ اپنے بچوں کو ٹی وی ،ٹیبلیٹ ، فون ، ویڈیو گیمز یا پلے اسٹیشن کے بغیر تفریح ​​کیسے فراہم کرتی ہیں؟
والدین کی اس تشویش کا مجھے خوب احساس ہے۔ بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، جب بذات خود تفریح اپنے ساتھ ساتھ بچوں کو اسکرین کے سامنے الجھا کے رکھنے جیسا ہے۔
اسکرینز = تفریح
لیکن یہ ماڈل ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ پچھلی نسلوں میں، تفریح ​​کی مختلف شکلیں تھیں، اور ان میں سے کسی میں بھی اسکرین کا کوئی رول نہیں تھا۔

موجودہ دور میں بھی بچوں کے( خصوصا کم عمر میں) اسکرین پر وقت بتانے کے مضر اثرات پر کافی ریسرچ اور تحقیق ہوئی ہے اور اس پر اچھا خاصا مواد تیار ہوا ہے۔

میں ٹی وی دیکھ کر بڑی نہیں ہوئی، حالانکہ جب میری نشوونما ہورہی تھی اس وقت مصر میں یہ معمولی بات تھی۔ تقریباً ہر ایک کے پاس ٹی وی تھا، اور اکثر گھرانوں میں لوگ فلم اور سیریلز (فلمیں،اوپیرا/ٹی وی شوز اور ڈرامے) دیکھنے کے لیے اسکرین کے گرد اکٹھے ہوجا تے تھے۔ مصر میں ہمارے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے یہاں بھی معیاری مشغلہ یہی سمجھا جاتا تھا۔

لیکن میرے والد، اللہ ان کو جزائے خیر دے، ایک مختلف سوچ کے حامل تھے۔ ان کی نظر میں یہ وقت کا بڑا نقصان تھا ، اس قیمتی وقت کا نقصان جسے کہیں اور کسی نتیجہ خیز عمل، یا تفریح ​​میں، استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسکرین سے ہٹ کر، وہ اپنی بیٹیوں (میں اور میری بہنوں) کے تئیں خواتین کو بغیر حجاب کے دیکھنے کے اثرات سے بھی فکر مند رہتے تھے (حالانکہ 1980 اور 90 کی دہائی میں مصر میں ٹی وی پر خواتین جو لباس زیب تن کرتی تھیں وہ ابھی ٹیوی پر پہنے جانے والے لباس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے)۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ آنکھیں جو کچھ دکھاتی ہے دل و دماغ پر اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ میرے والد ٹی وی کو (مصری عربی میں ٹیلیویژن کے لئے بولے جانے والے لفظ “تلفزیون” کے ساتھ حروف کی رعایت رکھتے ہوئے “تلفزیون” کے بجائے) “مُفْسِدیون”, کہاکرتے تھے، جو تقریباً یہ ایسے ہی ہے جیسے “ٹیلیویژن” کو “مُفسِدِ ویژن( فسادی نظر) کہا جائے، جس کا مطلب ہے کہ فساد، یا تباہی برپا کرنے والی نگاہ۔
لہذا انہوں نے ٹیوی کے تار الگ کرکے،اسے الماری میں رکھ دیا جو بالکل استعمال نہیں ہوتا تھا۔
میرے خیال میں یہ -ماشاءاللہ! تربیت کی ایک بہترین حکمت عملی تھی۔
لہذا خود ماں بننے کے بعد، میں نے بھی اسی پر عمل کیا۔ میں اور میرے شوہر اپنے بچوں کو ٹی وی دیکھنے یا کسی بھی قسم کی اسکرین سے لگے رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔

خاص طور پر ان دنوں، بچوں کے نام نہاد شوز اور کارٹونز بھی LGBTQ ، تبرج، اور بے حیائی جیسے مسائل پر غیر محسوس پیغام رسانی اور گہری سماجی انجینئرنگ سے بھرے پڑے ہیں، یہ والدین کی توہین، سرکشی اور عمومی انحراف کو فروغ دیتے ہیں، ۔ Netflix یا HBO یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم پر ٹی وی شوز بنیادی طور پر ناظرین کے دل و دماغ میں، مضرت رساں، فطرت میں انحراف اور طبیعت میں تبدیلی پیدا کرنے والے لبرل خیالات “اسمگل” کرنے کے خفیہ راستے ہیں، یہ “اجتماعی برین واشنگ” سے کم نہیں ہے۔
جو بات انتہائی افسوسناک ہے اور خطرناک بھی کہ اسکرین کے ساتھ زیادہ انسیت ایک لت بن جاتی ہے۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک سے دو سال تک کے بچے اسکرینز کے عادی ہو جاتے ہیں، اور اگر والدین ان آلات کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، تو بچوں سے، “بری لت سے دوری کی روایتی علامات” ظاہر ہوتی ہیں!(ایسے سمٹمز اور علامات جو بری لت چھڑاتے وقت انسان سے ظاہر ہوتے ہیں) مثال کے طور پر منشیات کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب کوئی منشیات استعمال کرنے والا اس کا استعمال ترک کر تا ہے، تو اسے منشیات چھوڑنے کی تکلیف دہ علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے لیے ٹی وی ایسا ہی بن سکتا ہے۔ شو ختم ہونے کے بعد ٹی وی بند کرنے سے بچے اکثر روتے ہیں چیختے ہیں، غصہ اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔
اسکرین سے متعلق دوسری بری چیز یہ ہے کہ اس سے، بچوں کو فعال اور متحرک ہونے کے بجائے سست اور “وصول کنندہ” بننے کی تربیت ملتی ہے۔ اسکرین پر، بچوں کی آنکھوں کے سامنے مختلف کردار کی نمائش ہوتی ہے، چمکدار روشنیاں، تیز آوازیں اور بھڑکدار تصاویر ہوتی ہیں۔ حر کت و نشاط سے دور پیچھے بیٹھ کر تفریح کتنی آسان ہے آپ سوچ سکتے ہیں۔ اس زندہ دل تفریح سے کتاب کے مطالعہ کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے مقابلے کتاب پڑھنا پھیکا اور بورنگ لگتا ہے۔ اپنی کہانی خود لکھنا اب بہت بڑا کام ہے۔ اس طرح اسکرین نے بچوں کو تخلیقی صلاحیت سے محروم کردیا ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمارے لیے تفریح کیلئے اسکرینز پر زیادہ انحصار قرآن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ٹی وی دیکھنے جیسی آسان اور حرکت و نشاط سے خالی تفریح ​​کا مقابلہ حفظ قرآن سے کیوں کر ہو سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ حفظ قرآن جتنا مشکل اور دشوار ہے، اس میں ٹیوی دیکھنے کے مقابلے اتنا ہی کم مزہ آتا ہے ۔ اسکرینز کے شور شرابوں سے دور، قرآن بہت زیادہ قابل عمل،حرکت و نشاط سے لبریز اور یہاں تک کہ لطف اندوز بھی ہو سکتا ہے انشاء اللہ۔
کبھی کبھی میں یا میرے شوہر بچوں کو کسی خاص موضوع جیسے(جانور، فطرت، یا جس موضوع سے متعلق وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں جیسے طوفان یا زلزلہ وغیرہ)پر کوئی مخصوص ویڈیو دکھاتے ہیں لیکن وہ ویڈیو وغیرہ ہمیشہ ہمارے ساتھ دیکھتے ہیں، ہماری نگرانی میں ہوتا ہے اور سب کچھ تعلیمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
ایسا ایک آدھ بار، بلاتکرار ہوتا ہے، باقاعدہ کچھ طے شدہ نہیں ہے۔
ہمارے بچوں کو دن، ہفتہ یا مہینے میں “ٹی وی یا اسکرین ٹائم” ٹیوی دیکھنے کیلئے مخصوص اوقات کی کوئی توقع نہیں ہوتی ہے۔ ایسا بچوں کی تربیت اور اصول و ضوابط کی پابندی سے ممکن ہے ، تاکہ بچے الجھن کا شکار نہ ہوں۔
سوال ہے کہ پھر بچے تفریح ​​کے لیے کیا کرتے ہیں؟
🌻 ہم اکثر وبیشتر باہر جاتے ہیں اور بچوں کو دوڑ، کھیل کود، اور تیراکی کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے بچوں میں سے ایک، بڑا لڑکا کوہ پیما ہے،اسے درختوں پر چڑھنا پسند ہے۔ ہمیشہ، لڑکے کچھ اچھی لاٹھیاں اور درخت کی شاخیں ڈھونڈلیتے ہیں پھر تلوار کے طور پر ان کا استعمال کر کے فرضی لڑائیاں لڑتے ہیں (غزوات)۔
🌻 بچوں کو کتابیں پڑھنا پسند ہیں، اور کبھی کبھی تو وہ اپنی کتابیں امثلہ اور نمونوں کے ساتھ مکمل “لکھنے” کی کوشش کرتے ہیں۔ جب انہیں پڑھنا نہیں آتا تھا وہ صرف تصاویر دیکھتے تھے، کبھی کبھی ہم بآواز بلند پڑھ کر انہیں سناتے ہیں۔
🌻 ہم دوستوں کے ساتھ مختلف پارکوں میں “پلے ڈیٹس” (والدین کے ذریعہ طے شدہ بچوں کے کھیل کود کے پروگرام)پر جاتے ہیں۔
🌻 کھیل (میرے بچوں کا پسندیدہ کھیل ہے: فٹ بال!)
🌻 روزانہ کم از کم ایک بار، میں بچوں کے ساتھ کھیلتی ہوں (ایک دوسرے کا تعاقب، گدگدی اور اسی طرح کے دوسرے کھیل ہم کھیلتے ہیں)۔ [ چند سال قبل کی میری ایک قدیم پوسٹ ہے جس میں مخصوص گیمز کی تفصیلات ہیں جو میں اکثر بچوں کے ساتھ کھیلتی رہتی ہوں!]
🌻 لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ بچے ایک دوسرے کے ساتھ نئے نئے کھیل ایجاد کرتے ہیں۔ الحمدللہ یہ ایک سے زیادہ بچے رکھنے کا ایک اضافی فائدہ ہے: وہ ایک ساتھ نئے کھیل وضع کرتے ہیں! کشتی، دوڑ، اور مقابلہ کے نئے نئے طریقے گڑھتے ہیں۔ اس سے ان کی تخلیقی، و اقدامی صلاحیتوں کے ساتھ قوت تخیل کو تقویت ملتی ہے۔
جب آپ کی تصوراتی قوت مضبوط ہوتی ہے، تو تفریح ​​کے امکانات وسیع ہوتے ہیں!
لیکن جو ہم نہیں کرتے وہ ہے تفریح ​​کے لیے ٹی وی یا اسکرینز پر انحصار ہماری تفریح ​​دانستہ طور پر “کم سے کم ٹیکنالوجی” اور پرانا اسکول ہے۔
” بطور “فکری غذا” اس بات پر اپنی گفتگو ختم کروں گی کہ: بہت سے لوگ جو “سیلیکون ویلی” میں رہتے ہیں اور “گوگل” یا دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کو اسکرین سے لگے رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے بچوں کے کھلونوں اور سامان تفریح ​​میں کم سے کم ٹیکنالوجی کی شمولیت ہوتی ہے۔ ہے نا دلچسپ حقیقت؟

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...