Home » وصی میاں خان » اعجاب رائے وخود پسندی کا بڑھتا رجحان: وصی میاں خان
فلسفیانہ افکار ونظریات نظریات وصی میاں خان

اعجاب رائے وخود پسندی کا بڑھتا رجحان: وصی میاں خان

Increasing arrogance in the age of absolute Jahiliyyah

جدیدیت کے معماروں نے انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے،جس سے انہیں یہ پتا چل چکا ہے کہ انسانوں کی بڑی تعداد خود سے سوچنے سمجھنے اور چیزوں کو پرکھ کر ان کے صحیح غلط ہونے کی تمیز اور صلاحیت نہیں رکھتی، انسان عموماً تقلید، اتباع اور پیروی ہی کرتا ہے کسی نہ کسی کی، لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں خود بڑا بننے،آزاد رائے رکھنے کاجذبہ یا حرص بھی وافر مقدار میں ہے۔

 عام انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے محدود دائرہ زندگی کے سوا باقی کسی مسئلہ میں نظریاتی اور فکری سطح پر کچھ فرق  وتمیز کرسکے۔اس لئے پہلے جب میڈیا اور سوشل میڈیا نہیں تھا تو لکھنے اور بولنے کا حق صرف ذہین اور تعلیم یافتہ( واقعی پڑھے لکھے، آجکل کے دو حروف پہچاننے والے نہیں) لوگوں کو ہوتا تھا، اس لئے مسائل پر گفتگو انہیں کا حق ہوکر ان تک ہی محدود رہ جاتی تھی اور گھٹیا چیزوں کو رواج ملنا مشکل ہو جاتا۔

لیکن پھر پہلےتو  میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے براہ راست عام آدمی کو دنیا کے فکری،نظریاتی،سیاسی،سماجی، دینی اقتصادی مسائل سے واقف ہونے کا موقع بغیر کسی قابل اعتماد رہنما کی رہنمائی کے ملا، کیونکہ پہلے کتابوں وغیرہ کے ذریعے جو کچھ ملتا وہ کسی رہنما ہی کی نگرانی میں جانا جاتا تھا۔ اب ہر انسان نے خود کو ایکس پرٹ سمجھنا شروع کر دیا،لیکن اس “ایکس پرٹ” کواپنی رائے زنی کے لیے محلہ اور دوستوں کے سرکل سے باہر رسائی نہیں تھی کہ کتاب لکھنا یا سٹیج پر کچھ بولنا اس کی اوقات سے باہر تھا،اس لئے سوشل میڈیا لایا گیا کہ ہر شخص کے مستقل رائے رکھنے کا جوخناس میڈیا بھر چکا تھا اب اس کے عالمی اظہار کا موقع تھا،لہذا عام بپلک نے ہر موضوع پر گفتگو شروع کر دی اور اب اس کیچڑ میں جو جتنا گندا ہے اتنا ہی مقبول ہے، کیونکہ صفائی کا خیال رکھنے والے لوگ تو اس میں ملوث نہیں ہونا چاہتے جو اس کیچڑ کی صفائی کرنا چاہیں وہ اکثر اپنے اوپر گندگی ڈالے جانے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی بات کا فائدہ اٹھاکر انہیں احساس دلا دیا گیا کہ آپ نہ صرف ایک مستقل رائے رکھنے ہیں بلکہ آپکی فہم بھی کسی سے کم نہیں ہے، آپ کی آزاد رائے اتنی ہی محترم ہے جتنی کسی ایک بڑے سے بڑے قابل ذہین سکالر، پرہیز گاراور خدا ترس ولی اللہ کی ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ لقمہ دینے والا طبقہ رات دن غیر شعوری طور پر عام انسان کی رائے کو خود طے کر رہا ہے بس اس سے ڈائریکٹ کہہ نہیں رہا ہے کہ ہم آپ پر اپنی رائے تھوپ رہے ہیں، بلکہ عام انسان اس کو خود اپنی رائے سمجھ کر اظہار کر رہا ہے۔ویسے بھی غلامی تو وہی کامل ہے جس میں غلام خود بڑھ کر آقا کی ڈیوٹی انجام دے اور اسے اپنی آزادی سمجھ کر خوش ہوتا رہے۔

یہ فطور سمانے کے بعد جو بھی ان عام ذہنوں سے براہ راست حاکمانہ،آمرانہ انداز میں پہلے کی طرح ( میڈیا دور سے پہلے) اطاعت، عاجزی اور اتباع کا تقاضہ کرے گا اسے ایک بہت چھوٹے طبقہ کے علاوہ کوئی بھی قبول نہیں کرے گا،ہرشخص بحث کرکے اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اور ہر بات پر ( خصوصاً دینی معاملات پر) حکم لگانے میں اپنی عقل کو کافی سمجھے گا، اگر اس سے کہا جائے کہ آپ مناسب طریقے پر علم حاصل کرو تب آپ کی سمجھ میں یہ بات آئے گی ورنہ آپ کی فہم و ادراک سے یہ بالاتر ہے تو آزادی اور سرکشی کا خوگر ہونے کے سبب اسے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ آخر میں انسان ہوکر کیوں وہ بات نہیں سمجھ سکتا جو سامنے والا سمجھ رہا ہے۔

ایک چھوٹی سی مثال لیجیے، آپ کسی سے کہیں کہ غیر مسلم کے لئے دعائے مغفرت کرنا جائز نہیں، تو وہ آپ سے کہے گا کہ “اسلام کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم کسی کے لئے دو لفظ بول دیں،اسلام ایسا تنگ نظر نہیں ہو سکتا”۔ آپ اسے قرآن سے سمجھانے کی کوشش کریں لیکن وہ اپنے لئے پہلے ہی ( رات دن فیڈ کیا ہوا غیر شعوری طور پر سکھایا ہوا) ایک معیار طے کر چکا ہے جس کے صحیح غلط ہونے کے لئے اب اسے کسی دلیل کی گویا ضرورت نہیں ہے۔

ایسے ہی ایک مسئلہ تقلید ائمہ ومجتہدین کا ہے، ایک شخص فورا ایک حدیث دیکھ کر اس سے حیران ہو جاتا ہے کہ ہمارے امام کا عمل تو اس کے خلاف ہے،اور اب وہ اس بات پر مصر ہے کہ اس کو ساری وجوہ اجتہاد، ناسخ منسوخ، ترجیح توفیق، فقہ اصول فقہ، اور استنباط واستدلال کے معیارات اسی کی عام بازارو زبان میں سمجھا دئیے جائیں ورنہ وہ امام کے قول کو چھوڑ کر “حدیث” پر عمل کرے گا۔

انسان کی فطرت تقلید اور اتباع سے گتھی ہوئی ہے،زندگی کے اکثر معاملات میں بھروسہ،اعتماد،تقلید، اور اطاعت کرنے پر انسان مجبور ہے، ایک شخص ہر چیز کی گہرائی تک پہونچ کر اس کی حقیقت سے واقف نہیں ہوسکتا، ہاں زندگی کے ایک میدان میں عمر کھپاکر کچھ شدھ بدھ ضرور حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر بھی وہ سراپا محتاج ہی رہتا ہے۔

اور نظریاتی،علمی وفکری معاملات تو چھوڑئیے روزمرہ کے واقعات اور زندگی برتنے کے رویوں میں انسان کو اعتماد اور اتباع کے سوا چارہ نہیں ہے۔ مثلا آپ اگر ایک کپ چائے پی رہے ہیں تو اس میں بھی کتنے لوگوں کی کوششوں کے آپ محتاج ہیں، اس کا اندازہ آپ نہیں کرسکتے۔ چائے کی پتی آسام، بنگال، سرلنکا یا دنیا کے کس حصے سے آئی ہے اور وہاں کن لوگوں نے اس کی کھیتی کی، کس نے کٹائی کی، کس نے صفائی ڈھلائی اور پیکنگ کی، پھر ان تمام مرحلوں کے بعد ٹرانسپورٹ کے ذریعے مین مارکیٹ، پھر آپ کے لوکل دکاندار کے ذریعے آپ تک پہونچی، پھر اس کو چینی،دودھ کے ساتھ بنایا وہ بھی کن مراحل سے گزر کر آپ کے پاس آئے، جس برتن میں،اور جس گیس کے چولہے پر اس کو پکایا، جس کپ میں ڈال کر پیا اس میں کتنے لوگوں پر اعتماد، بھروسہ کرنا پڑا،اور کا قدر احتجاج ظاہر ہوئی شمار کرنا ممکن نہیں۔ 

گویا ایک کپ چائے کے حصول میں بے شمار افراد پر اعتماد، بھروسہ اور احتیاج کا نظام قائم ہے لیکن یہ ہمیں نارمل لگتا ہے، کیونکہ روز ہوتا ہے،اسی پر کھانے،پہننے، تعمیر وغیرہ کو قیاس کیجئے۔ اسی طرح فکری ونظریاتی معاملات میں انسان اعتماد کرنے پر مجبور ہے۔ ہاں ہر جگہ شروع میں ایک مرتبہ خود یا دوسرے قابل اعتبار حضرات کے ذریعے تحقیق کافی ہے کہ یہ سلسلہ قابل اعتبار ہے کہ نہیں۔ 

اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ امن وخوف کی خبریں اور اہم معاملات صرف قابل سمجھدار خدا ترس لوگوں کے حوالے ہونے چاہیے،یہ نہیں کہ ہرشخص اپنی رائے لیکر اس پر اصرار کرے۔

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ 

ترجمہ:

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔ اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

اب حدیث میں دیکھئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک دور آئے گا ہر شخص اپنی رائے کو ہی بہتر سمجھے گا، اور جب ایسا وقت آئے تو تم دوسروں کو چھوڑ کر اپنی فکر کرنے لگ جانا کہ دوسرا کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

 

اس سلسلے میں فرانس کے محقق ماہر نفسیات،سماجیات،طبیعیات اور طببیات “گستاؤ لی بون” (Gustav le bon) کی کتاب “The Crowd a study of popular mind” پڑھنی چاہیے جو عربی میں “سيكولوجية الجماهير” کے نام سے چھپ چکی ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

Facebook Page

SuperWebTricks Loading...